ایشیا ٹائمز کی زکوٰۃ بیداری مہم کی دوسری قسط : چندہ برائے بندہ

قمرفلاحی

Asia Times Desk

پندرہ شعبان کے بعد عموما مدرسے اور مکاتب بند ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد سلسلہ شروع ہوتا ہے چندہ جمع کرنے اور کمیشن خوری کا،نہ نماز کی مکمل طور پہ ادائیگی نہ تراویح اور قیام اللیل کی۔ کیا محدث،کیا مفسراور کیا مبلغ جسے دیکھئے بھکاریوں کی طرح لائن میں لگا ہے اور زکوۃ نکالنے والوں کے انتظار میں ہے ،اور کیا مجال کہ وقت مقررہ سے پانچ منٹ پہلے کوئ باہر نکل کران بزرگان کی خبر گیری کرلے۔

بعض دفعہ کسی لائق وفائق استاد کو جب ملتاہوں اور انکا چکر لگانا دیکھتاہوں تو اللہ گواہ ہے کہ دل خون کے آنسو روتاہے کہ آخر ان بزرگوں کو کن گناہوں کی سزامل رہی ہے ؟

حقیقت یہ ہیکہ یہ اپنے خودکردہ گناہوں کی ہی سزا کاٹ رہے ہیں ،کیوں کہ انہوں اللہ تعالی کا کام اپنے ذمہ لے رکھا ہے کہ میں امت مسلمہ کو پڑھا کر ہی دم لوں گا جبکہ یہ ان کے ذمہ کا کام نہیں تھا ان کا کام تو صرف یہ تھا کہ یہ لوگوں کو براہ راست کفالت پہ ابھارتے اور فیسوں پہ ادارہ چلایا جاتا اور ان کی یہ درگت نہ ہوتی۔

ایک جائزہ کے مطابق مسلمانوں کا صرف دس فیصد حصہ ایسا ہے جو اپنی تعلیمی بوجھ برداشت نہیں کرسکتا اور ان دس فیصد محتاجوں کی محتاجی دور کرنے میں اسی فیصد عوام ناکافی ہورہی ہے آخر اس کی وجہ کیا ہے ؟ اگر اس سوال کا جواب تلاش کیا جائے تو میرے مطابق کمیشن خوری ہی اس کی وجہ ہے اور کچھ نہیں ۔

اس کمیشن خوری کی وجہ سے زکوۃ وصدقات کی محض پچیس فیصد رقوم مدارس تک پہنچ پاتی ہیں ۔میں اس کی چند تفصیلات درج کیے دیتا ہوں تاکہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ یہ ساری باتیں الزام تراشیاں ہیں :

فرض کریں بہار سے ایک چندہ کرنےوالے کو گجرات جانا ہوتاہے تو ان کے حسابات کچھ اس طرح سے ہوں گے۔

کرایہ آمد ورفت 3000
تین وقت کا کھانا 20*300=6000
رہائش اگر کسی ہوٹل میں ہے تو 6000 کم از کم
کمیشن 50000 یہ تخمینہ ایک لاکھ پہ ہے، اور اگر کسی مدرسہ میں یہ سہولت نہیں ہے تو ایک ماہ کی تنخواہ اور خوش نامہ کے طور پہ 15000 روپئے۔
یعنی اوسطا ایک استاد پہ زکوۃ کی رقم کا 30 سے چالیس ہزار لازما خرچ آتاہے ایسا ان اداروں میں جہاں کمیشن خوری نہیں ہے۔

 

Taleem ki zimmedari kin par hai? तालीम की ज़िम्मेदारी किन पर है ?

Posted by Qamar Falahi on Sunday, 21 April 2019

اوراگرفرضی ادارہ سے ہیں تو لاکھ میں لاکھ مکمل۔

اس ضائع ہونے والی رقم سے ایک استاد کو چھ ماہ کی تنخواہ دی جاسکتی ہے ۔تو معلوم یہ ہوا کہ اساتذہ کے نصف سال کی تنخواہ صرف وصولی کے نام پہ ضائع ہورہی ہے ۔
کرنے کے کام :

  • مالدار حضرات دربار جہانگیری لگانا بند کریں ۔اجتماعی زکوۃ جمع کروائیں ۔
  • اداروں کو اکائونٹ میں تعاون کریں کیوں کہ اب یہ سہولت ہرجگہ دستیاب ہے ۔
  • خود اپنے محلہ کے لوگوں کی کفالت کریں ،جب تک یہ رقم اپنے محلہ والوں سے فاضل نہ ہودوسرے کو نہ دیں ۔
  • ادارے فیسں پہ چلائے جائیں ۔
  •  مشروم  کی طرح جابجا جو ادارے کھلے ہیں انہیں مکتب تک محدود کریں ،مرکزی اداروں میں اعلی تعلیم دلانے کا نظم کریں ۔
  • جن درجات میں کم از کم تیس بچے نہ ہوں ان درجات کے بچوں کو بڑے اداروں میں داخل کرائیں ۔
  • میں نے دیکھاہے کہ صرف دو یا تین بچوں پہ بھی درجات گھسیٹے جارہے ہیں اپنی ناک اونچی کرنے کیلئے ۔
  • آپ کو اندازہ ہےکہ اس طرح ایک طالب علم پہ تقریبا تین ہزار روپئے ماہانا خرچ ہورہے ہیں 
  • اس طرح زکوۃ وصدقات کی رقم کا جواسراف ہورہا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے ؟

یاد رکھئے اگر یہ سارے اقدام نہ کئے گئے تو قیامت تک علماء بھکاری ہی رہیں ۔

قمر فلاحی صاحب کے فیس بک پیج سے ان کے شکریے کے ساتھ 

اس زمرے کی یہ خبر بھی پڑھیں 

ایشیا ٹائمز کی زکات بیداری مہم : ہر صاحب نصاب کو اپنی زکات کی ادائیگی کے وقت یہ دھیان رہے

 

آڈیو رپورٹ بھی سنیں 

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *