مسلمانوں کا ماضی اور اگلا پائوں نئے پانی میں

محمد آصف ریاض

Asia Times Desk

ماضی میں کشمیرکے اندر برہمنوں کی کئی برادریاں رہتی تھیں۔ ان میں کول، بھٹ، رینا اور سپرو قابل ذکر ہیں۔ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہرلال نہرو کا تعلق کول برادری سے تھا جبکہ اردو کے معروف شاعراورادیب جنھیں اردو دنیا میں شاعرمشرق کہا جا تا ہے، کا تعلق سپروبرادری سے تھا۔ سپرو برہمن کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ پہلے یہ ایران میں رہتے تھے اورشاہ پور کہلاتے تھے بعد میں انھوں نے جلا وطنی اختیار کی اور کشمیرمیں بودوباش اختیار کیا۔

ڈاکٹرعلامہ اقبال نے اپنی اس برادری کے بارے میں لکھا ہے کہ ‘ ہمارے والد کہا کرتے تھے کہ سپرو ‘Saproos’ کشمیری برہمنوں کے اس گھرانے سے ہیں جنھوں نے مسلم حکومت کے دوران سب سے پہلے فارسی اور اسلامک اسٹڈیز میں مہارت حاصل کی۔ سپرو کا مطلب ہے ‘وہ شخص جو نئی چیزسیکھنے میں سب سے آگے ہو’
Dr. Iqbal has further written that his father used to say that ‘Saproos’ are the descendants of those Kashmiri Brahman families who were first to learn Persian and other Islamic studies, during the Muslim rule. Saproo means a person who is first to learn a new thing.۔

لوگوں کو اکثر یہ پوچھتے ہوئے سنا جا تا ہے کہ برہمن ہمیشہ قائدانہ رول میں کیوں رہتے ہیں؟ انھیں یہ جاننا چاہئے کہ قائدانہ رول کے لئے ہمیشہ نئی جانکاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ قائدانہ رول ادا کرنے کے لئے کسی انسان کو اپنےعلم میں مسلسل اضافہ کرنا پڑتا ہے اوربرہمن ایسا کرنے میں کامیاب رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ کسی نہ کسی صورت میں ملک کے اندر قائدانہ رول ادا کر رہے ہیں۔ برہمنوں کی عظمت کا راز یہ ہے کہ وہ ہر ‘نئی چیز’ کو سیکھنے میں سبقت لے جاتے ہیں۔

ایک وقت تھا جب مسلمان دنیا کی ہر نئی چیزسیکھنے میں سب سے آگے رہتے تھے۔ جب وہ ایسا کرتے تھے تو پوری دنیا پرچھائے ہوئے تھے۔ مشرق و مغرب میں انھیں کا چرچا تھا۔ مسلمانوں میں نئی چیزسیکھنے کی للک اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ وہ اس راہ میں اپنی جان کی بازی بھی لگا دیتے تھے۔

تاریخ کا ایک واقعہ

نویں صدی میں اندلس میں ایک شخص رہتا تھا۔ اس کا پورا نام عباس قاسم ابن فرناس تھا۔ وہ ایک موجد، مہندس، طیارچی، حکیم، شاعر اور موسیقار، ماہر فلکیات اور کیمیادان تھا۔ معروف الجیریائی مورخ المقاری نے اس کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے یہاں ایک اقتباس نقل کیا جا تا ہے۔

”Among other very curious experiments which he made, one is his trying to fly. He covered himself with feathers for the purpose, attached a couple of wings to his body, and, getting on an eminence, flung himself down into the air, when according to the testimony of several trustworthy writers who witnessed the performance, he flew a considerable distance, as if he had been a bird, but, in alighting again on the place whence he had started, his back was very much hurt, for not knowing that birds when they alight come down upon their tails, he forgot to provide himself with one”

یعنی اس نے کئی سائنسی تجربات کئے، ان میں ایک اہم تجربہ یہ تھا کہ وہ اڑنے کی کوشش کرنے لگا۔ اس نے اپنے آپ کو پروں میں لپیٹ لیا، اپنے جسم میں پنکھ لگائے اور اونچائی سے خلا میں کود پڑا۔ کئی قابل اعتماد مصنفین کی شہادت کے مطابق جنھوں نے اس واقعہ کا مشاہدہ کیا تھا، ابن فرناس خلا میں قابل فہم دوری تک اڑتا رہا، ایسا لگتا تھا کہ وہ کوئی انسان نہیں بلکہ ہوائوں میں اڑتا کوئی پرندہ ہو، لیکن جہاں سے اس نے چھلانگ لگائی تھی پھر وہیں اترنے کی کوشش میں اس کی کمرمیں کافی چھوٹ پہنچی اور وہ بری طرح زخمی ہو گیا۔ وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ پرندے جب اتر تے ہیں تو وہ اپنی پونچھ کا سہارا لیتے ہیں، وہ اپنے لئے پونچھ بنانا بھول گیا تھا۔

یہ تھی ماضی میں مسلمانوں کی اسپرٹ! وہ ہر روز ایک نیا تجربہ کرتے تھے، وہ ہر روز کسی شاعر کے الفاظ میں ” اگلا پائوں نئے پانی میں” رکھنے لئے کمر بستہ رہتے تھے، وہ اس کوشش میں اپنی جان کی بازی بھی لگا دیتے تھے۔ مسلمانوں کے لئے عظمت رفتہ کی بحالی بھی اسی اسپرٹ کے ساتھ ممکن ہے! کوئی اور راستہ نہیں ہے! کشتیاں جلائی جا چکی ہیں، پیچھے دریا ہے اور آگے فرعون کا لشکر جراح!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *