اٹل بہاری واجپائی اور مسلمان

محمد غزالی خان

Asia Times Desk

بد زبانی کسی کے بارے میں بھی نہیں کی جانی چاہئے اور کسی کی موت پر ایسا کرنا تو بہت ہی گراوٹ کی بات ہے ۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی موت پر سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹس میں تہذیب اور شائستگی کی حدود سے تجاوز کیا گیا ہے جو ایک قابل مذمت حرکت ہے۔ البتہ اس کے بر عکس آنجہانی کی تعریفوں میں جو پل باندھے گئے ہیں اور ان کے اعلیٰ اخلاق کی جو توتعریفیں کی جارہی ہیں وہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہماری یاد داشت واقعی بہت کمزور ہے۔ بد زبانی کرنا ایک بات ہے اور حقائق کو پس پشت ڈالدینا دوسری بات ہے۔

آنجہانی کی تعریفیں کرنے والے احباب کیا یہ چاہتے ہیں کہ ملت اس تلخ حقیقت کو بھول جائے کہ جس طرح مودی نے گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی کی لہروں پر سوار ہو کر وزارت عظمیٰ تک کا سفر طے کیا ہے اسی طرح ایل کے اڈوانی کے ذریعے پھیلائی گئی مسلمانوں کے خلاف نفرت کی لہروں پر سوار ہو کر اٹل بہاری جی بھی وزارت اعظمیٰ تک پہنچے تھے۔ ایل کے اڈاوانی کی اس زہر افشانی اور مسلم مخالف ماحول کے بارے میں اگر ملت کے یہ دانش ور بھول چکے ہیں تو لیجئے پڑھئے اور یاد کیجئے اس ماحول کو:’’1929 کے موسم سرما میںیہ جرمنی کی وائمرریپبلک کی ناکامی کے ساتھ تباہ کُن افراط زرتھا جس کی وجہ سے نیشنل سوشلسٹس پارٹی کا عروج ہوا۔ 1990 کے موسم سرما میں اسی طرح کے واقعات نے ہندو بنیاد پرست پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی (یا بی جے پی)کو مقبولیت دے دی ہے۔ 1984 کے انتخابات میں بی جے پی کو محض دو نشستیں مل پائی تھیں۔ گزشتہ سال اس نے 88نشستیں جیت لیں۔ جب چندر شیکھر کی بھان متی کا کنبہ والی حکومت گرے گی(اور کم ہی لوگوں کو 1991 کے موسم بہارسے آگے تک اس کے بچنے کی امید ہے) تو اکثر مبصرین کا خیال ہے کہ شمالی ہندوستان میں بی جے پی سب کو بہا کر لے جا ئے گی ۔۔۔ بی جے پی کیلئے اقتدار تک کا راستہ صاف کرنے کے پیچھے جو شخص ہے اور اس کا نام ایل کے اڈوانی ہے۔۔۔بی جے پی کے اس انقلاب سے پہلے پر اسرار طریقے سے ہزاروں اشتعال انگیزکیسیٹس تقسیم ہوئے تھے۔۔۔ان کیسیٹس کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف کھلے عام تشدد کو فروغ دیا گیا ہے۔ ’ہمارا مادر وطن رضاکاروں کو پکار رہا ہے ، ان جاں بازوں کو پکا ررہا ہے جوقوم کے دشمنوں ] یعنی مسلمانوں[ کو ذبح کر کے ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالیں‘ یہ ایک ایسی کیسیٹ میں کہا گیا ہے جو مجھے اپنے گھر کے نزدیک بازارسے ملا ہے ، ’ہم بابر ] سلطنت مغلیہ کا بانی[ کی اولاد وں کے ہاتھوں مزید ظلم برداشت نہیں کر سکتے۔ اگر اس کیلئے سڑکوں پر خون بہانے کی ضرورت ہے توپھر ایک مرتبہ سڑکوں پر خون بہا ہی دیا جائے۔۔۔دہلی کے ڈرائنگ رومز میں فسطائیت ایک فیشن ایبل شے بن گئی ہے، تعلیم یافتہ لوگ بلا جھجک آپ سے کہیں گے کہ اب وقت آگیا ہے کہ مسلمانوں کی تادیب کرہی دی جائے اور یہ کہ وہ گندے اور جنونی ہوتے ہیں، وہ خرگوش کی طرح بچے پیدا کرتے ہیں۔جہاں ایک طرف زبانی جمع خرچ کرنے والے صرف باتیں کررہے ہیں تو دوسرے لوگ براہ راست اس پر عمل کررہے ہیں۔ جس وقت میں یہ سطور لکھ رہا ہوں پرانی دہلی میں آگ لگی ہوئی ہے اور ہند و اور مسلمان یہ کام سڑکوں پرانجام دے رہے ہیں‘‘ ( برطانوی جریدے اسپیکٹیٹر 8 دسمبر 1990 میں معروف برطانوی مصنف اور صحافی ولیم ڈالرمپل کی ایک طویل تجزیاتی رپورٹ سے ماخوذ)

کیا کسی کو یاد ہے کہ واجپائی جی نے کسی بھی موقع پر ایل کے اڈوانی کی ایسا کرنے سے روکا ہو یا کم از کم اس پر تشویش کا اظہار ہی کیا ہو؟
آنجہانی ہی کی زیر قیادت بی جے پی نے جو کام کئے ان کی مزید چند مثالیں یہ ہیں:

اتر پردیش میں1992 میں بی جے پی کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ کے دور حکومت میں بابری مسجد شہید کی گئی۔ کلیان سنگھ نے اپنے دوسرے دور حکومت میں ہندو احیاء پرستی کے دیگر اقدامات کے علاوہ 1997 میں سرکاری اسکولوں میں سرسوتی پوجا اور وندے ماترم کا گایا جانا ضروری قرار دیا۔ اس کے بعد سے آج اس روایت عمل کیا جا رہا ہے جسے کوئی دوسری حکومت ختم نہیں کر پائی۔

واضح رہے کہ سنگھ پریوار نے انتہا پسندی پر سیکولرزم کا لبادہ اوڑھ کر مسلم دوستی کا پہلا ڈرامہ 1977 میں ایمرجنسی کے بعد ہونے والے انتخابا ت میں کیا تھا جس کے بعد اس کے ارکان بڑے بڑے عہدوں پر فائض ہو گئے اور اڈوانی جیسے شخص کے ہاتھوں وزارت اطلاعات و نشریات لگی۔ سنگھ پریوار نے اس دور کو ہندوتوا کے اپنے ایجنڈے کے اطلاق کیلئے بھر پور طریقے سے استعمال کیا جس کا اثر بی جے پی کی نام نہاد رام جنم بھومی تحریک اور اڈوانی کی رتھ یاتر ا میں ریٹائرڈ اعلیٰ فسران، پولیس اور فوج کے ریٹائرڈ ملازمین کی شمولیت کی شکل میں دیکھنے کو ملی۔ بابری مسجد کی شہادت میں ریٹائرڈ فوجی اہل کاروں کی شمولیت کو حال ہی میں کوبرا پوسٹ نے افشاں کیا ہے۔ نیز ممبئی کے سابق پولیس کمشنر ستیے پال سنگھ اور سابق فوجی سربراہ وی کے سنگھ کی بی جے پی میں شمولیت اس ذہر پر مکل اور افسوسناک تبصرہ ہے جو سنگھ پریوار نے پولس ، فوج اور سرکاری دفاتر میں پھیلا دیا ہے۔

گجرات مسلم نسل کشی 2002 کے بعد آنجہانی کے اس بیان کا با بار حوالہ دیا جاتا ہے کہ انہوں نے مودی کو راج دھرم نبھانے کی بات کہی تھی۔ جی ہاں وہ پریس کانفرنس ہمیں بھی یہ بات یاد ہے اور ہمیں یہ بھی یاد ہے کہ انھوں نے اسی کی وجہ یہ بتائی تھی : ’’میں شرمندہ ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں جن مسلم ممالک کا دورہ کرنے جا رہا ہوں وہاں کیا منہ دکھاؤں گا؟‘‘ آنجہانی شام کے دورہ پر جانے والے تھے۔ مگر جیسا کہ ہر ہندوستانی مسلمان کو اندازہ تھا کہ شام کیا کسی بھی مسلم ملک میں گجرات کے بارے میں ان سے کوئی سوال نہیں کیا جائے گا شام کے دورے پر بھی یہ یہوا۔، دورہ سے وپسی پر یہ پوچھے جانے پر کہ کیا سابر متی ایکسپریس کی آنش زنی میں آئی ایس آئی ملوث ہو سکتی ہے تو انھوں نے وہی راگ الاپا جو ایسے موقعوں پر تمام غیر مسلم سیاست داں کرتے آئے ہیں : ’’ابھی تحقیقات جاری ہیں۔ البتہ بادی النظر میں یہ ایک منصوبہ بند حرکت معلوم ہوتی ہے ۔‘‘

یو ٹیوب پر ان کی ایک نہیں متعدد تقاریر موجود ہیں جن میں اشتعال انگیزی صاف طور پر سنی جا سکتی ہے اور جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بابری مسجد پر نام نہاد کار سیوا پر اڈوانی کے پوری طرح ساتھ تھے۔

خارجہ امور میں کانگریس کے ساتھ ان کے تعاون کو بھی ان کے کھلے ذہن کی دلیل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ وہ ایک سچے حب الوطن تھے مگر تمام وزرائے اعظم کی طرح ان کی حب الوطنی کی تعریف میں مسلمانان ہند کا کردار اس سے زیادہ نہیں تھا کہ وہ ملک میں دوسرے درجے کے شہری بن کر رہیں۔ واضح رہے کہ نہ یہ کہ وہ بی جے پی اور سابقہ جنگ سنگھ کے بڑے لیڈروں میں سے تھے وہ آر ایس ایس کے تربیت یافتہ تھے اور آر ایس ایس کے نظریات کے بارے میں کسی کو کوئی خوش فہمی ہے تو بس اس پر ماتم کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کیاجا سکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *