آسٹریامیں مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاﺅن

Asia Times Desk

وینا(آسٹریا): آسٹریا کے چانسلر سیباستان کرس نے جمعہ آٹھ جون کو اعلان کیا ہے کہ ان کے ملک میں ایسے کئی اماموں کی ملک بدری کا فیصلہ کیا گیا ہے،جنہیں باقاعدگی سے غیر ممالک سے مالی معاونت حاصل رہی ہے۔ اسی طرح انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسی سات مساجد کی تالہ بندی کر دی گئی ہے، جہاں سے ملکی سلامتی کو خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کریک ڈاون مذہب اسلام کے خلاف نہیں بلکہ بعض افراد کی جانب سے اسلام کے سایے میں جاری سیاسی ایجنڈے کے خلاف کیا گیا ہے۔ آسٹریائی چانسلر کے مطابق دارالحکومت ویانا میں ایک ایسی مسجد کو بند کیا گیا ہے، جو ترک قوم پرستوں کے زیر انتظام تھی۔
ویانا حکومت نے مسلمانوں کے ایک مسلمان مذہبی گروپ ’ عرب کمیونٹی‘ کو بھی تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ مذہبی گروپ کم از کم چھ مساجد کا انتظام و انصرام رکھتا تھا۔ اب تک دو آئمہ کے معاہدے منسوخ کر دیے گئے اور پانچ دیگر کے معاہدوں کی تجدید نہیں کی گئی ہے۔

دائیں بازو کی جانب جھکاو¿ رکھنے والی موجودہ حکومت کے وزیر داخلہ ہیربرٹ کیکل نے کہا ہے کہ مساجد کو بند کرنے اور اماموں کی ملک بدری کے اقدامات سن 2015 کے ایک قانون کے تحت اٹھائے ہیں، جس میں مذہبی حلقوں کو غیر ملکی فنڈنگ کے حصول کی ممانعت کی ہے۔ کیکل کے مطابق چالیس اماموں کی تعیناتی کے معاملے کی چھان بین کی جا رہی ہے۔

آسٹریا 2012 سے 2018 تک میں کتنا بدل گیا 

Austria marks Islam law centenary

https://www.bbc.com/news/world-europe-18675493

The Austrian government and Austrian Muslim Community mark 100 years of Islam as an official religion.

https://www.bbc.com/news/av/world-europe-18667743/austria-marks-islam-law-centenary

کیا فرانس کی قیادت آسٹریا سے سبق حاصل کرنے کو تیار ہے ؟

یہی نہیں خود ایسے یوروپی ممالک آج بھی ہیں جو مسلمانوں کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کی پوری آزادی فراہم کرتے ہیں ، آج سے دو برس قبل 2012 میں آسٹریاسے اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے ایک مثبت خبر آئی کہ یوروپی ملک آسٹریا میں اسلام کو سرکاری مذہب تسلیم کئے سو برس ہوچکے ہیں۔ اس مناسبت سے وہاں صد سالہ تقریبات کا اہتمام کیا گیا جسے باقاعدہ سرکاری سرپرستی حاصل تھی۔ 1912 میں آسٹریا کے شہنشاہ فرانز جوزف نے ایک قانونی دفعہ کے تحت مسلمانوں کو مذہبی طبقے کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اور اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے آسٹریا کے موجودہ صدر ہنز فشرنے، جو کہ مذہب اورعقیدے کے اعتبار سے رومن کیتھولک عیسائی ہیں، اس موقع پر ملک میں مسلمانوں کی موجودگی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امن وآشتی کا پیغام دیا ۔ صرف اتنا ہی نہیں اس یوروپی ملک کو مسلم شہریوں کی حیثیت تسلیم کرنے پر فخر ہے۔

http://ashrafbastavi.blogspot.com/2014/07/blog-post_9.html

آج کہاں آپہونچا آسٹریا

چانسلر سیباستیان کرس کے مطابق یہ فیصلہ مذہبی معاملات کے نگران ادارے کی کئی ہفتوں سے جاری تفتیشی عمل کے بعد کیا گیا ہے۔ آسٹریائی ادارے نے یہ تفتیش رواں برس ا±ن تصاویر کی اشاعت کے بعد شروع تھی جن میں ترکی کی حمایت یافتہ مساجد میں بچے پہلی عالمی جنگ کی گیلی پولی لڑائی کو پیش کرنے کے دوران مرنے اور مارنے کے مناظر کی اداکاری میں مصروف دکھائے گئے تھے۔

جزیرہ نما گیلی پولی کی لڑائی ا±س وقت کی سلطنتِ عثمانیہ کی فوج اور اتحادی فوجوں کے درمیان سترہ فروری سن 1915 سے نو جنوری سن 1916 تک جاری رہی تھی۔ اس لڑائی میں ترک فوج کو فتح حاصل ہوئی تھی۔ایسے اندازے لگائے گئے ہیں کہ اماموں کی ملک بدری اور مساجد کی بندش پر ترک حکومت سخت ردعمل ظاہر کر سکتی ہے۔ ایردوآن کے سابقہ صدارتی الیکشن کے دوران انتخابی مہم کی اجازت نہ دینے پر ترکی اور آسٹریا کے تعلقات میں گراوٹ پیدا ہوئی تھی۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *