اجودھیا  : کیا قانون کو اپنا کام کرنےدیا جائےگا ؟

محمد صبغۃ اللہ ندوی

Asia Times Desk

سیاست وحکومت میں یہ بات عام طور پر کہی جاتی ہے کہ قانون اپنا کام کررہاہے ، قانون کو اپنا کام کرنے دیا جائے یا قانون اپنا کام کرےگا۔اس کا مطلب ہوتا ہےکہ کوئی  کچھ نہ بولے اورنہ حکومت  مداخلت کررہی ہے ،قانون کے محافظ قانون کےحساب سے کام کررہےہیں اورقانون کےمطابق کارروائی ہورہی ہے۔قانون اپنا کام کررہا ہے یا قانون کےمطابق کارروائی ہورہی ہے یہانتک تو بات صحیح ہےلیکن یہ نہیں کہاجاسکتا کہ قانون ہمارا کام کرے یا اسے ہمارا کام کرنا چاہئے ،اس سے آگے بڑھیں تو جمہوریت کےتینوں ستون انتظامیہ ، مقننہ اورعدلیہ ہمارے حساب سے چلیں  لیکن آج صورت حال کچھ ایسی ہی ہے کم ازکم اجودھیا معاملےمیں ہم کہہ سکتے ہیں ۔مندرکےحامیوں کےبیانات سےلگتاہےکہ وہ قانون ، عدلیہ ، انتظامیہ اورمقننہ کو اپنا کام نہیں کرنےدینا چاہتے بلکہ چاہتے ہیں کہ سارا کام چھوڑ کر صرف ان کا کام کریں اوراجودھیامیں ان کی مرضی سے مندر بنوادیں ۔بار بار عدلیہ سے معاملےکی سماعت جلدی کرنےکی اپیل اورعدالت میں تاخیر کی صورت میں سرکار سے قانون سازی یا آرڈی نینس لانےکی مانگ اوراس کےلئے دباؤ  آخر کیا ہے ؟یہی نا کہ قانون اپنا کام نہ کرے اورنہ قانون کےمطابق کارروائی ہو ۔اجودھیا کی سیاست آج اس موڑ پر پہنچ گئی ہےجہاں قانون کو اپنا کام  نہیں کرنے دیا جارہاہے۔پہلے مندر کی تعمیر میں بابری مسجد کو رکاوٹ بتایا جاتاتھا تو 6 دسمبر 1992 کو اسے شہید کردیا گیا ، قانون ، عدلیہ اورحکومت کی پرواہ نہیں کی گئی ،مرکزی اورریاستی حکومتوں نے بھی قانون توڑنےکی چھوٹ دے رکھی تھی ، اسی لئے سیکورٹی دستے مسجد کے انہدام اورعارضی مندر بنانےکا تماشا دیکھتے رہے ۔ جس مسجد کےتحفظ کےلئے مامور کیا گیا اس کی ذمےداری اس لئے نہیں نبھائی کہ اوپر سے ہدایت نہیں ملی ۔مسجد کےانہدام کےبعدمندرکی تعمیر میں اب قانون کو رکاوٹ بتاکرکہا جارہاہےکہ قانون کو ختم کردیا جائے یا بدل دیا جائے ۔

ایسی بات نہیں کہ اجودھیا میں صرف قانون کو اپنا کام نہیں کرنےدیا جارہا ہے ،قانون نےبھی تودیانت داری سے کام نہیں کیا ورنہ   تنازعہ شدت اختیارکرکےملک کےلئے ناسورنہیں  بنتا ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتاکہ پہلے دن سے قانون اپنا کام کرتاتو نہ مسجد میں چوری چھپے مورتیاں رکھی جاتیں ، نہ مورتیوں کےنام پر نماز کے لئے مسجد بند کی جاتی اورپوجا پاٹ کےلئے کھولی جاتی ، مسجد شہید کرنے ، وہاں عارضی مندر بنانے، شیلانیاس ، شیلاپوجن اوراب باقاعدہ مندر بنانے  کی نوبت نہیں آتی اورنہ نچلی  سے لے کر اعلی عدالتیں اس میں الجھتیں اوراجودھیا کا مسئلہ اتنا بڑا دردسربنتا کہ کسی کےلئے حل کرنا مشکل ہے۔جب رات کی تاریکی میں مورتیاں رکھی گئیں اورصبح کےاجالے میں پتہ چل گیاتومقامی انتظامیہ دیانت داری سے کام لیتے ہوئے بات چیت کرکے یا مورتیاں ہٹواکر معاملہ رفع دفع کرسکتی تھی  اورشرپسندوں کی سازش ناکام بناسکتی تھی  ۔مقامی نوعیت کا معاملہ تھا، زیادہ ہنگامہ  نہیں ہوتالیکن انتظامیہ نے مورتیاں نہ ہٹواکر نماز پر پابندی لگائی ،ایک طرح سے معاملےکو تنازعہ کی شکل دی ۔جب  پہلے مرحلےمیں قانون نےاپنا کام نہیں کیا تووقت کےساتھ صورت حال بدسے بدتر ہوگئی ،جو معاملہ قانون کےحساب سے چلنا چاہئے اس کےبرعکس ہوتا گیا۔قانون کا کام بس صورت حال کو جوں کا توں رکھنے کی ہدایت تک محدود نظر آیا ۔تنازعہ میں شروع سے جن مسلمانوں نے عدلیہ پر مکمل اعتمادکا اظہار اوراس کےفیصلے کو ماننےکا اعلان کیا ،کبھی قانون شکنی نہیں کی ،انہیں مذکورہ ہدایت کےعلاوہ کچھ نہیں ملا ۔ دوسری طرف ان کےقبضےسے  مسجد چلی گئی ،انتظامیہ کےقبضےمیں  پوجا پاٹ ہونےلگی پھر  مسجد شہید کرکےعارضی مندر بنالیا گیا ۔مسجد میں مورتیاں رکھنےسے لے کر آج تک مسلمانوں کےحق میں ایک بھی مثبت پیش رفت نہیں ہوئی بلکہ جنہوں نے کبھی عدالتی فیصلہ ماننے کی بات  نہیں کہی ،قانون شکنی  اورعدلیہ کی توہین کرتے رہے متنازعہ مقام پر ان کےحق میں کام ہوااورہورہا ہے ۔کہنےکو بابری مسجد کی جگہ متنازعہ ہے لیکن وہاں یکطرفہ پوجا پاٹ کی اجازت دی جاتی ہے نماز کی نہیں تو پوجا پاٹ کی گنجائش اورنماز پرپابندی میں قانون اپنا کام کہاں کررہا ہے؟

معاملےکی سماعت سپریم کورٹ نےجنوری تک ملتوی کرتے ہوئے جیسےہی کہا کہ اسی وقت طے کیا جائے گا کہ سماعت یومیہ ہوگی یا نئی بنچ بنےگی کہ نہیں ، ایسالگا جیسے مندر کے حامیوں پر بجلی گرگئی ۔ کسی نےاسے ہندوؤں کی توہین کہا تو کسی نےکہا کہ مسئلہ کورٹ سےنہیں حل ہوگا۔کوئی قانون سازی کی مانگ کررہا ہے توکوئی کہتاہےکہ اگرسرکارقانون سازی کی پوزیشن میں نہیں تو  آرڈی نینس لائے ۔ کہنے والےیہ بھی کہتے ہیں کہ وہاں مندر ہے یا مندر بن کر رہےگا ، کوئی نہیں روک سکتا۔ بعض نےمندر کی تعمیر کےلئے ریلی اورپروگرام کا  اعلان کردیا ۔کچھ نےعدالت ، حکومت اورپارلمنٹ کا موازنہ کرتے ہوئےکہاکہ پارلمنٹ عدالت سے زیادہ اختیاررکھتی اورقانون سازی کرسکتی ہے۔ کچھ نےجنوری سے پہلے سماعت کی درخواست کی اس پر پھر کورٹ نےکہا کہ ہم نےجنوری کےپہلے ہفتے میں سماعت کی تاریخ طے کی اورجلدی کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے ، ا س سے پہلے عدالت نےکہا تھاکہ ہمارےپاس صرف یہی کام نہیں اس سے اہم کئی معاملے ہیں ۔اس پر بعض نے ناراضی ظاہر کی اورکہا کہ تبصرے سے انہیں تکلیف پہنچی  ۔جب معاملہ عدالت میں  تو ایسی باتیں کیوں ؟  کیا یہ عدالت کی توہین نہیں ؟ایسےدباؤ میں قانون اپنا کام کیسے کرے گا ؟آستھاکی رٹ لگانےوالےبھول جاتے ہیں کہ کورٹ میں ایسا معاملہ  نہیں ،انہوں نےاراضی کی ملکیت کےتعلق سے عرضی داخل کی ہےاورعدالت نےبھی وضاحت کردی کہ ملکیت کا فیصلہ کرےگی نہ کہ آستھا کی بنیادپر پھر مسجد کی وجہ سے معاملہ مسلمانوں کےمذہب اورعقیدہ  سے بھی تعلق رکھتا ہے ورنہ وہ دعوی ترک نہیں کردیتے ۔جب ایک فریق چاہتا ہےکہ قانون اپنا کام کرے تو دوسراکیوں بھاگ رہا ہے؟ کیا اسے عدلیہ ، آئین اورقانون پر اعتماد نہیں ؟بہر حال اجودھیامعاملےمیں قانون  پہلےدن سے سختی سے اپنا کام کرتا تو تنازعہ کی نوبت نہیں آتی اورنہ قانون کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کی جاتی ۔ قانون کو  اپنےحساب سے کام کرنےکو کہا جاتا ۔قانون سازی یا آرڈی نینس کی بات ہی نہیں ہوتی لیکن غلطی کا ایک بار دروازہ کیا کھولا گیا غلطیوں کےلئے گنجائش پہ گنجائش نکالی جارہی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *