ایک  مسلمان کا کردار اور اخلاق اسلامی تعلیمات کے مطابق ہونا چاہئے : مولانا محمد مصطفیٰ مدنی

اترپردیش کے سدھارتھ نگر ضلع میں مختلف اصلاحی ودینی اجلاس میں عالمی شہرت یافتہ علمائے کرام کی شرکت 

Asia Times Desk

سدھارتھ نگر:آج انسان اپنے کردار اور اخلاقی گراوٹ کی وجہ سے دنیاوی معاملات میں پریشان ہے۔ اگر کسی انسان کا اخلاق اور کردار اسلامی تعلیمات کے مطابق ہوگا، تو اسے دنیا اور آخرت دونوں جگہ عزت ملے گی، لیکن آج ہمارا اخلاق اس قدر خراب ہوگیا ہے کہ چھوٹی چھوٹی بچیوں کے ساتھ زنا کاریاں انسان کرتاپھر رہا ہے۔ اخلاقی گراوٹ یہ بھی ہے کہ آج ہم اور آپ جھوٹ، مکر اور فریب جیسی برائیوں میں مبتلا ہیں، ہمارا کردار دنیا والوں کے سامنے آئینہ ہونا چاہئے، لیکن اخلاقی گراوٹ یہ ہے کہ ہمارے معاملات آج دنیا میں انتہائی بدتر ہیں، جس کی وجہ سے ہمیں رسوائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان خیالات کااظہار کویت سے تشریف لائے نوجوان مقرر فضیلۃ الشیخ محمد مصطفیٰ مدنی نے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔
الحرم ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی برڈ پور، کٹیا بشن پوروا میں دو روزہ عظمت کتاب وسنت کانفرنس کی  صدارت امیر مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی اورناظم جامعہ سراج العلوم جھنڈا نگر، نیپال مولاناشمیم احمد ندوی نے کی۔ جبکہ پورے کانفرنس کے  مہمان خصوصی معروف عالم مولانا صلاح الدین مقبول احمد مدنی رہے۔ اس موقع پر مولا نا محمد ابراہیم رحمانی،مولانا محمد ابراہیم مدنی، مولانا شہاب الدین مدنی، مولانا شفاق ابراہیم سنابلی، مولانا شبیر احمد مدنی، مولانا نورالدین مدنی، مولانا عبدالمنان سلفی کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں علمائے کرام نے خطاب کیا جبکہ ہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکت کرکے علمائے کرام کے خطاب سے محظوظ ہوئے۔
آج ہمارے معاشرے کے اندر بے امنی، بے چینی اور اضطرابی کیفیات کی کیفیت پیدا ہورہی ہیں۔ کیونکہ ایک مسلمان کا کردارخراب ہوجائے اور وہ بدکردار ہوجائے تو پھر تمام طرح کی برائیاں سرزد ہوسکتی ہیں، آج یہی صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ ہمارے آخری نبی اخلاق کے اعلیٰ معیار پر تھے، حضور اکرم کو جو درجہ دیا گیا، ہمیں اس پر عمل کرنا چاہئے۔ اللہ کے نبی کے اخلاق کو قرآن کہہ دیا گیا ہے۔ پوری دنیاآپ کے اخلاق سے متاثر رہی ہے۔ پھر جب نبی اکرم کے ماننے والے ہیں، تو ہمارے اخلاقی گراوٹ میں اتنی پستی کیوں ہے؟ مولانا محمد مصطفیٰ مدنی نے قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کے حوالے سے غیبت،برائی اورریاکاری سے بچنے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے تمام عمل میں خلوص ہونا ضروری ہے کیونکہ جب خلوص ہوگا تبھی اللہ اسے قبولیت کا درجہ دے گا۔ انہوں نے کہاکہ صحابہ کرام نے آپ کے اخلاق کی قدردانی کی تو وہیںکفارومشرکین بھی اسلام لانے سے قبل آپ کے اخلاق کو سمجھتے اور مانتے تھے، لیکن آج ہمارا معاملہ مختلف ہوگیا ہے اور ہم اللہ اور اپنے نبی کے بتائے اصولوںسے بھٹک گئے ہیں، لیکن اگر ہم آخرت میں کامیابی چاہتے ہیں تو ہمیں قرآن وحدیث سے رجوع کرنا ہوگا۔
 اس کے بعد اٹوا سے متصل سمرا میں اجلاس عام  صدارتی خطاب پیش کرتے ہوئے مولانا محمد مصطفیٰ مدنی نے  اللہ کی نعمتوں کو واضح کرتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے راستوں اور طریقوں پر عمل کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نےکہا کہ اللہ نے ہمیں جو بھی طاقت دی ہے، ہمیں اچھے اور نیک کاموں میں استعمال کرنا چاہئے۔ ہمیں اللہ کی جانب سے حرام کی گئی چیزوں اور گمراہیوںسے بچنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آج  ہماری خواہش نے ہمیں اللہ سے دور کردیا ہے، آج ہم مال کی طلب میں ہلاکت کی طرف جارہے ہیں۔ مولانا نے کہاکہ آج دیکھنے کو ملتا ہے کہ جب تک ہمارے جسم میں طاقت وقوت ہے، تب اسے اللہ کی عبادت کی فکر نہیں ہوتی اور انسان   دنیاوی معاملات میں الجھا رہتا ہے، لیکن جب بیمار ہوتا ہے تو اسے اللہ کی یاد آتی ہے۔ ہمیں خود احتسابی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ  اللہ رب العالمین کو جوانی کی عبادت بہت پسند ہے، اس لئے آخرت کی کامیابی وکامرانی کے لئے دنیاوی معاملات میں نہ الجھیں اور اللہ کی نعمتوں سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی آخرت کو بہتر بنائیں۔ اس موقع پرمولانا عبدالمنان، مولانا محمد اسلم مدنی، محمد امجد نوری، مولانا کمال الدین، مولانا عبدالمعین مدنی، کوثر معبودی، مولانا ریاض احمد محمدی، مولانا ابوذر فلاحی  وغیرہ نے شرکت کی اور خطاب کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *