گنگا جمنی تہذیب کا نمونہ ہے پوروانچل کا قصبہ باغ نگر

مٹھائی کے شوقین آج بھی اشرفی لال اور گنگا رام کے سوہن حلوہ کو ضرور یاد کرتے ہیں اورچائے کے طلب گاروں کو میوہ لال اور ملاجی چائے والے خوب یاد آتے ہیں

Asia Times Desk

اشرف علی بستوی

  بچوں نے اپنے مشفق استاذ میجر اکرام سے کلاس میں پوچھا ، سر ‘باغ نگر’ کا نام  باغ نگر کیوں پڑا ؟ موصوف نے کہا کسی زمانے یہ علاقہ گھنے باغوں کے آغوش میں بسا تھا ، لیکن یہاں جیسے جیسے انسانی آبادی بڑھتی گئی باغات ختم ہوتے چلے گئے اوراب حالات یکسر تبدیل ہوچکے ہیں باغات تو نہیں رہ گئے اب صرف نام باقی بچا ہے ۔ جی ہاں ، ہم بات کر رہے ہیں بستی مہنداول روڈ (بی ایم سی ٹی ) پر واقع قصبہ باغ نگر کی ، یہ قصبہ کٹھنئیا ندی کے کنارے بستی ضلع کی سرحد پرآباد ہے ۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اب باغ نگر ہندی میں بگڑ کر ‘باگھ نگر’ ہو گیا ہے جبکہ اردو میں ابھی بھی باغ نگر لکھا اور پڑھا جاتا ہے ، لیکن بولنے میں ہندی اردو والے سبھی باگھ نگر ہی پکارتے ہیں ۔  1997 سے قبل تک یہ بستی ضلع کا حصہ ہواکرتا تھا ، 1997 میں بہوجن سماجی پارٹی کی حکومت نے سنت کبیر نگر کے نام سےایک نیا ضلع بنانے کا اعلان کیا اور باغ نگر کو سنت کبیر نگر میں شامل کر لیا گیا ۔ بستی سے بچھڑنے کی تکلیف اور  سنت کبیر نگر سے میلوں دوری کے احساس کی وجہ سے یہاں کے لوگوں نے شدید مخالفت کی اور کئی ماہ تک باغ نگر کو بستی کا حصہ بنائے رکھنے کی تحریک چلائی لیکن حکمرانوں کی ضد کے آگے عوام کی کوئی تدبیر کام نہ آسکی۔ ایک روایت کے مطابق یہاں سید سالار مسعود غازی کے شاگرد بابا ہنکار کا مزار موضع  بلئی پور میں واقع ہے جس کے باقیات آج بھی موجود ہیں دور تک پھیلی موٹی موٹی دیواریں اس کی تاریخی حیثیت کا پتہ دیتی ہیں ،ہندو مسلمان دونوں یہاں اپنی اپنی عقیدت کا اظہار کرتے دیکھے جاتے ہیں ۔

علاقے کی اصل پہچان یہاں کی درسگاہیں

اس مسلم اکثریتی اس علاقے کی پہچان یہاں کے قدیمی مدارس و مکاتب ہیں ، یہاں کا سب سے قدیم مدرسہ قاسم العلوم ہے جو آج سے لگ بھگ 70 برس قبل قائم ہوا تھا ۔ اس کے علاوہ 1970 کی دہائی میں یہاں کے ایک معروف سماجی و سیاسی کارکن نیتا حبیب الرحمٰن نے لگ بھگ 14 بیگھہ کی بڑی آراضی میں جنتا جونئر ہائی اسکول قائم کیا تھا جو اب مسلم انڈسٹرڑیل انٹر کالیج میں تبدیل ہوچکا ہے ۔1988 کے اوائل میں ایک ریٹائرڈ فوجی ماسٹرصلاح الدین نے علاقے کے بچوں کی ہمہ جہت ترقی کے لیے کوالیٹی ایجوکیشن کے لیے پہلا نرسری اسکول شروع کیا تھا جہاں بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں میں اسپورٹس اسپرٹ پیدا کی ،مسابقتی ماحول دیا لیکن زندگی نے وفا نہ کیا اور موصوف کا 1993 میں انتقال ہو گیا ۔ سن 2000 آتے آتے کئی نجی اسکول کھلنے شروع ہو چکے تھے جس میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے سماجی تنظیم جیون وکاس سنستھان کے چئرمین ڈاکٹر شکیل خان نے زہرہ   فیض عام  گرلس انٹر کالیج شروع کیا یہ یہاں لڑکیوں کی تعلیم کا پہلا انٹر کالیج ہے۔

جدوجہدآزادی میں بھی باغ نگر کا سرگرم رول رہا

یہاں کے بزرگ بتاتے ہیں کہ ملک کی جدوجہدآزادی میں بھی باغ نگر کا سرگرم  رول رہا ہے۔ یہاں سے متصل موضع پیڑی سے ایک مجاہد آزادی  نظام الدین گزرے ہیں۔ یہاں کے بزرگ بتاتے ہیں کہ قصبے سے متصل باغ میں آزادی کے متوالوں نے گاندھی جی کا پروگرام رکھا وہ یہاں تشریف بھی لائے لیکن پروگرام سے قبل اس کی اطلاع انگریز پولیس کو ہوچکی تھی پروگرام کو ناکام بنانے کے لیے پولیس نے چھاپہ ماری کی کاروائی سے بھیڑ  منتشر کر دیا ، علاقے کے بزرگ محمد خلیل مزید بتاتے ہیں کہ گاندھی جے کے علاوہ پنڈت جواہر لال نہرو بھی بیل گاڑی پر سوار ہوکر اس خطے میں آچکے ہیں یہاں سے گزرتے ہوئے ہوئے انہوں نے کئی مقامات پر عوام سے خطاب  بھی کیا تھا ۔

باغ نگر کا اخباری دنیا میں تعارف

باغ نگر کو اخباری دنیا میں متعارف کرانے والے سب سے پہلے صحافی نفیس احمد ہیں ، انہوں نے راشٹریہ سہارا ہندی گورکھپورمیں جب نامہ نگا ری شروع کی تو  باگھ نگر  ڈیٹ لائن الاٹ کرایا ۔ ان کے ساتھ ساتھ راشٹریہ سہارا اردو میں اشرف علی بستوی نے باغ نگر ڈیٹ لائن سے 2002 میں  رپورٹنگ شروع کی ۔ نفیس احمد نے 25 برس تک سرگرم  جرات مندانہ بے لاگ صحافت کی ، نفیس احمد اب اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن ان کی دی گئی ڈیٹ لائن آج بھی جاری و ساری ہے ۔ اشرف علی بستوی نے 2006 میں  دہلی کا رخ کیا اور آج وہ دہلی میں ، پرنٹ میڈیا کے علاوہ ریڈیو، دوردرشن ،ویب جرنلزم میں سرگرم ہیں۔

باغ نگر کے وہ اطبا ء جن کی خدمات کا علاقہ  معترف ہے

 باغ نگر کا ذکر ہو اور ڈاکٹر طارق رشید  عثمانی  ،ڈاکٹر سمیع اللہ ،ڈاکٹر ابوالکلام ، حکیم معین الدین ہومیو پیتھی والے کا نام نہ لیا جائے تو نا انصافی ہوگی ان حضرات نے اپنی ڈسپنسریز کے ذریعے باغ نگر کا تعارف کرایا۔ ڈاکٹر محمد طارق نے علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی سے بی یو ایم ایس کی ڈگری لینے  کے بعد بستی شہر سے نکل کر دیہی خطے کا رخ کیا یہاں ڈسپینسری ڈالی اورعلاقے کی بڑی خدمت کی علاقے کا  40 سال عمر کا ہر جوان انہیں اچھی طرح جانتا ہے ، کبھی نہ کبھی ان کی خدمت میں ضرور حاضر ہوا ہوگا ۔ ڈاکٹر سمیع اللہ   45برس قبل گونڈہ ضلع سے چل کر یہاں پہونچے تھے ، ڈاکٹر ابوالکلام کا تعلق موضع بلئی پور سے تھا ،  اور ڈاکٹر جتیندر مشرا  تھے ،ان طبیبوں کی بدولت باغنگر ایک طویل عرصے تک  ہیلتھ سینٹر رہا ، قدیم نسل آج بھی ان کی خدمات کی معترف ہے ۔

جب مسلح ڈاکوں نے باغ نگر قصبے پر دھاوا بولا دیا تھا

علاقے کے بزرگ  محمد خلیل بتاتے ہیں کہ 1970 کی دہائی میں ایک دن ایسا بھی آیا جب رات کے اندھیرے میں مسلح ڈاکوں نے باغ نگر قصبے میں دھاوا بول دیا کئی دوکانوں کو لوٹ لیا ، محمد خلیل بتاتے ہیں کہ لوٹ سے دو ہفتے قبل کچھ نامعلوم چہرے بازار میں گھومتے دوکانوں کے سائن بورڈ وں کے نام نوٹ کرتے نظر آئے تھے لیکن کسی نے توجہ  نہیں دی ،اس ڈاکہ زنی میں ایک تاجر جاں بحق ہوگیا تھا ۔ لیکن پھر یہ قصبہ دوبارہ آباد ہوا یہاں ہفتے میں سنیچر اور منگل کو بازار ہوتی ہے کبھی اس بازار کا دائرہ بہت وسیع تھا لیکن اب اس کا دائرہ محدود ہوگیا ہے اس کی وجہ جگہ جگہ لوکل مارکیٹ کا ظہورہے۔

باغنگر میں 1965 میں ہی بجلی اور سڑک پہونچ تھی

قصبے کو بجلی 1965 میں ہی مل گئی تھی اور یہاں بہت پہلے بجلی سب اسٹیشن بھی قائم ہو چکا تھا یہیں سے پورے علاقے میں بجلی سپلائی کی نگرانی ہوتی ہے ، لیکن مستقل غیرعلانیہ بجلی کٹوتی کی وجہ سے  یہاں کے لوگ کبھی اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکے ۔ بجلی پر منحصر تجارتی سرگرمیاں فروغ نہیں پا سکیں ۔ یہاں کے بڑے کسانوں کی پہلی پسند گنے کی کھیتی ہے جبکہ درمیانی درجے کے کسان ، دھان ، گیہوں اور سرسوں کی پیداوار کرتے ہیں ۔ علاقے کی آبادی کافی گھنی ہونے کی وجہ سے قابل کاشت آراضی کم ہے ۔ کسی زمانے میں گنے کی کھیتی یہاں بڑے پیمانے پر ہوتی تھی اسی لیے بستی شوگر مل نے کسانوں کی سہولت کے لیے بستی منہداول روڈ کو اپنے خرچ سے تعمیر کرایا تھا تاکہ کھیتوں سے گنا مل تک بہ آسانی پہونچتا رہے ۔ وقت کے ساتھ بڑھتی آبادی اور وسائل کی تنگی اورترقی کے مواقع کم ہونے کا احساس ہوتے ہی یہاں کے لوگوں نے بڑی تعداد میں ممبئی اور گجرات کا رخ کیا اور وہاں تجارتی سرگرمیاں شروع کیں اور سخت محنت اور لگن کی بدولت اپنا مقام حاصل کیا کچھ خلیجی ممالک کی طرف بھی متوجہ ہوئے ۔

 کب کب باغ نگر سیاسی سرگرمیوں کا مرکز رہا

1990 کی دہائی میں  باغ نگر کانشی رام کی سیاسی تحریک کا مرکز ہوا کرتا تھا خطے میں ہونے والی بہوجن سماج پارٹی کی سرگرمیاں یہاں ترتیب دی جاتی تھیں جس میں محمد ہارون ساحل اور ماسٹر صلاح الدین کا نام قابل ذکر ہے ۔ بہوجن سماج پارٹی سے علیحدگی کے بعد جب ڈاکٹر مسعود نے 1994 میں نیشنل لوک تانترک تشکیل دی تو ایک بار پھر یہاں ان کا گرم جوشی سے استقبال کیا گیا اوراین ایل پی  کی سیاسی سرگرمیوں کو پروان چڑھانے کے لیے کچھ نوجوانوں نے 1997 میں این ایل پی کا یوتھ ونگ قائم کیا  تھا ۔

یہاں کبھی کوئی فرقہ وارانہ فساد برپا نہیں ہوا

اس علاقے کی ایک خاص بات اور ہے کہ مسلم اکثریتی علاقہ ہونے کے باوجود یہاں کے  آس پاس کے گاوں میں پسماندہ ہندو بڑی تعداد میں آباد ہیں لیکن تاریخ میں ایک بھی ایسا واقعہ نہیں ملتا کہ کبھی یہاں کوئی فرقہ وارانہ فساد برپا ہو ا ہو۔ شاید اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی رہی ہو کہ یہاں بڑی ذات کے ہندو بالکل نہیں پائے جاتے جو اپنی ریشہ دوانیوں کے لیے بدنام ہیں۔  ہاں ایک دفعہ کٹھنئیا ندی کے اس پار کی ہندوآبادی کے کچھ شر پسند عناصر کی جانب سے 2004 میں ایسی کوشش ضرور کی گئی تھی ، ہوا یہ تھا کہ کچھ شر پسندوں نے ایک دلت کا بیل چوری کرنے کے بعد یہ افواہ پھیلا دی کہ مسلمانوں نے اسے  ذبح کر دیا ہے ، بات انتطامیہ تک پہونچی رات کے آٹھ بجے اس افواہ نے مزید شدت اختیار کر لیا افسوس کہ اس افواہ کا شکار انتظامیہ بھی ہو گیا انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان دے ڈالا بستی رینج کے ڈی آئی جی  مسٹر ترپاٹھی نے رات گیارہ بجے سائٹ کا دورہ کیا اور باغ نگر میں رک کر ایس او دودھارا کو بلاکر کہا ” آدمی کٹ جائے گائے نہیں کٹنی چاہئے ” اور یہ کوشش کی لوگ لڑ جائیں لیکن مقامی لوگوں نے سمجھ داری کا مظاہرہ کیا اور فساد ٹل گیا ۔ بعد میں اس سازش کا پردہ فاش ہوا اور حقائق سامنے آئے ، لوگوں نے ڈی آئی جی کے غیر ذمہ دارانہ بیان کا سخت نوٹس لیا جس کے نتیجے میں بعد میں  موصوف کا تبادلہ ہوا۔

باغ نگر کی اہم شخصیات اور قابل ذکر تاجر

مٹھائی کے شوقین آج بھی اشرفی لال اور گنگا رام کے سوہن حلوہ کو ضرور یاد کرتے ہیں اورچائے کے طلب گاروں کو میوہ لال اور ملاجی چائے والے خوب یاد آتے ہیں ۔ عبدالقادر، ،بنواری لال ، ہنومان پرساد کا نام ہر چھوٹے بڑے کوازبر ہوگا ۔ علاقے کے لوگوں کو اگر کوئی دینی  مسئلہ درپیش ہو تو ایک ہی نام بڑے مولوی صاحب مولانا محمد اسماعیل صاحب کا لیا جاتا موصوف طویل عرصے تک قدیم درسگاہ مدرسہ قاسم العلوم باغ نگر کے ناظم رہے ،  اپنے اخراجات کے لیے بازار میں کپڑے کی ایک چھوٹی سئ دوکان رکھتے تھے ۔ قصبے کی باحیثیت شخصیت میں محمد مسلم (لمین ٹھیکیدار) کا نام طویل عرصے تک سر فہرست رہا ۔ سیاسی و سماجی  شخصیات میں ، سابق ضلع پنچایت رکن ڈاکٹر شکیل خان ، محمد ہارون ساحل ، سابق جیسٹھ بلاک پرمکھ شبیر احمد ، سماج وادی پارٹی کے محمد معروف کا نام قابل ذکر ہے۔ ادبی و صحافتی شخصیات میں ڈاکٹر طارق رشید عثمانی، اسرار رازی ، اردو چینل ممبئی کے مدیر قمر صدیقی ، شاعر و سیاست داں وسیم خان وسیم ، راشٹریہ سہارا ہندی کے نامہ نگار پرویز درانی کا نام قابل ذکر ہے ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *