سنت کبیر نگر کے قدیم قصبہ بکھرا کے برتن اور کپڑے کی صنعتیں بد حالی کے شکار ‎

ایشیا ٹائمز کے بستی زون کے نمائندے زبیر احمد کی رپورٹ

Asia Times Desk

بستی زون  (ایشیا ٹائمز اسپیشل ) زبیر احمد ۔ملک آزاد ہوۓ ستر سال کا عرصہ گزر گیا ہے ،ملک میں نیے بھارت کی تعمیر کرنے کے د عوے کر کے کیی سیاسی پارٹیا ں اقتدار کی کرسی کا نشہ بھی اتار چکے ھیں ،لیکن ستر سالوں میں منشا کے مطابق ترقی نہیں ہو سکی ہے ،جس سے آج بھی لوگ پریشان دکھا ئی دے رھے ھیں ، تعلیم، صحت ،پانی بجلی ،کسان ،مزدور ،بے روزگار ،اور طالب علمو ں کے مسائل کو دور کرنے کے دعوے تو سبھی پارٹیوں نے کئے ،لیکن زمینی سطح پر کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آ رہی ہے ،جس سے عام ووٹر س خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رھے ھیں ۔سنت کبیر نگر ضلع کی پارلیمانی سیٹ پر گانگریس ،بھاجپا ،سپا،بسپا ،سبھی پارٹیوں نے باری باری قبضہ جما یا ہے ،اس کے باوجود ترقی یہاں سے کوسو ں دور دکھائی دیتی ھے ،اس ضلع کی اھمیت کا اندازہ اسی سے لگتا ھے کہ سنت کبیر داس کا مگھر میں خاص عقیدت گاہ بھی ھے .

ساتھ ہی پوری دنیا میں انسانیت کا درس دینے والے مہاتما بود ھ کے آثار قدیمہ کوپیا میں واقع بود ھ ٹیلہ بھی ھے ،اس کے باوجود اس ضلع میں بود ھ ٹیلہ کی ترقی نہیں ھو سکی ھے ،ضلع سے لگ بھگ 18کیلو میٹر کی دوری پر بکھر ا کو پیتل نگری کہا جانے والا قصبہ ،بر تن صنعت میں اپنی شنا خت کھوتا جا رہا ھے ،اسی طرح بنکر صنعت بھی اپنی بر با دی کا تماشہ دیکھنے کو مجبور ھے ۔ سنت کبیر نگر ضلع مر کز سے بانسی روڈ پر 12کیلو میٹر کی دوری پر واقع تاریخی بود ھ استھلی کو پیا (انو پیا )ٹیلہ آج بھی مرو ر زمانہ کی نذر ھو رھا ھے ‘

بکھرا کی مشہور جھیل میں مچھلی پکڑتے مچھوارے

یہ ٹیلہ کیی صدیوں سے زمانہ کی مار جھیلتا آ رھا ھے ،مر کز اور صوبے میں کیی سرکاریں آئیں اور چلی گییں لیکن اس ٹیلہ کے و کاس کے لیے کسی بھی نمائندہ کی نظر نہیں پڑی ،جبکہ مقامی لوگ لمبے عرصے سے اس کا مطالبہ کر رھے ھیں ،بات اگر برتن کی صنعت کی کریں تو کیی صدیوں سے یہ تاریخ رہی ھے کہ پیتل ،پھول ،گلٹ ،تانبہ ،جیسے د ھا توں کے بنے ہوئے برتنو ں ،اور سا ما نوں کی مانگ ملک کے کیی صوبوں اور شہر وں میں ہوتی رہی ھے آج بھی بکھر ا میں دو سو گھروں میں برتن بنا نے کا کام چل رھا ھے ،لیکن صنعت کار سرمایہ اکٹھا کرنے کی مصیبت کو جھیل رھے ھیں ،حالاں کہ ایک ضلع کی ایک صنعت کی پیداوار کے تحت برتن کے کاریگروں کو سات کروڑ بینکوں سے قرض دلانے کا وعدہ کیا گیا تھا ،جس کے لیے 18لوگوں نے درخواستیں دی تھیں ،برتن صنعت کاروں کا کہنا ھے کہ آج تک ایک بھی فائل منظور نہیں ہوئی جس سے کاریگروں کو ملنے والی سبسڈی 175کروڑ بھی  ہونے کے کگا ر پر ھے ،وہیں پردھا ن منتری روزگار سر جن پروگرام کے تحت بھی 9کاریگروں نے قرض کے لیے درخواست دیا تھا لیکن ایک بھی فائل کی منظور ی نہیں ملی ،یھی حال مکھیہ منتری سو روزگار یو جنا کی ھے ،اس یو جنا کے کے تحت 20صنعت کاروں نے درخواست دیا تھا مگر ایک بھی فائل آگے بڑھ نہ سکی ،برتن صنعت کاروں کی حالت کو سدھا ر نے کے لیے مہندا ول بلاک کے چھپیا دویم میں 215ایکڑ زمین بکھر ا برتن صنعت کاری کے نام سے الا ٹ کیا گیا یہاں پر کامن فیسلیٹی سینٹر قایم کیا جانا تھا لیکن اس جانب کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھ سکا ھے .

ایک ضلع کے ایک ہی پیدا واری صنعت کی نمائش مراد آباد ،لکھنؤ ،پریا گ راج الہ آباد میں کنبھ میلے میں لگوائی گیی تھی ،نمائش میں یہاں کے بنے ہوئے برتنوں کی کافی ڈیمانڈ رہی ،کاریگروں کا کہنا ھے کہ اگر صنعت کاروں کو قرض مل جائے ،اور تیا ر شدہ مال کی خرید و فروخت سرکاری سطح پر ھو جائے تو اس علاقے کے ھزاروں کو روزگار مل جائے گا ۔بکھر ا کے قریب امر ڈو بھا ،لیڈ وا ،تر کو لوا ،ڈھو دھیا ،نیر وں وغیرہ گا وؤ ں میں سینکڑوں ہینڈ لوم اور درجنوں پاور لوم چلتے ھیں ،لیکن انتظامیہ کی لا پر واہی کے چلتے آج بنکر بد حالی کے شکار ھو گیے ھیں ،اور بنکروں کے مسائل حل کرنے کے لیے آج تک کوشش ہی نہیں کی گیی ،ویسے پہلے یو پی کا ہینڈ لوم مقامی سطح پر بنکروں کا تیار شد ہ مال خرید لیتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ھے،اس لیے بنکروں کے پاس بازار ہی ایک سہارا ھے _سرکار کی لا پروا ہی کے چلتے آج چالیس فیصد پا ور لوم بند ھو چکے ھیں ،جس کی وجہ سے صنعت کار غیر صوبوں میں کام کر رھے ھیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *