اخوان کو دہشت گرد قرار دینا خود امریکہ کے لیے نامفید

الجزیرہ

Asia Times Desk

ڈیوڈ فلپس کولمبیا یونیورسٹی میں‘ پیس بلڈنگ اینڈ ہیومن رائٹس پروگرام’ کے ڈائریکٹر ہیں۔ انھوں نے امریکہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اخوان المسلمون کا مقاطعہ کرنے کے بجائے اس کے ساتھ مشترکہ پلیٹ فارم تلاش کرے۔ ڈیوڈ فلپس بل کلنٹن،جارج ڈبلیو بش اور باراک اوباما کے عہد صدارت میں امریکی وزارت خارجہ کے سینئر ایڈوائزر بھی رہ چکے ہیں۔

انھوں نے اپنے ایک مضمون میں یہ کہا ہے کہ اخوان المسلمون کسی منظم دہشت گردی میں ملوث نہیں ہے اور اگر امریکہ اخوان المسلمون کو تنظیم دولت اسلامیہ اور القاعدہ کے متبادل کے طور پر نہیں دیکھ پا رہا ہے تو یہ اس کی بہت بڑی غلطی ہوگی۔ان کا خیال ہے کہ اخوان المسلمون امریکی مصالح کو آگے بڑھانے میں مدد کرے گی ۔

اسی طرح اخوان نوجوانوں کو اعتدال کی راہ پر لاکر اور تشدد پسندی کی طرف ان کے رجحان کو کم کرکےامن کو مستحکم کرنے میں معاون ہوگی۔
ڈیوڈ فلپس نے اپنی ایک کتاب From Bullets to Ballots: Violent Muslim Movements in Transition میں اس جانب اشارہ کیا ہے کہ ٹرمپ کی تجویز یہ ہے کہ اخوان المسلمون کو ‘‘دہشت گرد تنظیم ’’ قرار دیا جائے۔

اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے سے مصری صدر عبدالفتاح سیسی اور خلیجی ممالک مثلاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ضرور خوش ہو جائیں گے لیکن یہ چیز عالم اسلام کے اندر امریکہ کے اسٹریٹجک مفادات کے حق میں نہیں ہوگی۔ ڈیوڈ فلپس کا خیال ہے کہ اخوان المسلمون کو راہ سے ہٹانے کو اسلام پر حملے کی نظر سے دیکھا جا سکتا ہے، جس کی وجہ سے مسلم نوجوان انتہاپسندی اور تشددکی طرف جا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے مذکورہ خلیجی ممالک کی جانب سے اخوان المسلمون کو ایک مثبت قوت کے طور پر مسترد کرنے کا مطلب عالم عرب میں آزادی اورجمہوریت کو نقصان پہنچانا ہے۔ان کے مطابق امریکی پالیسی اخوان المسلمون کے تعلق سے یہ ہونی چاہیے کہ اخوان کے تاریخی کردار اورمسلم معاشرے نیز پوری دنیا میں اس کے موجودہ موقف کو سمجھنے کی کوشش کی جائے ۔

ڈیوڈ فلپس نے ۱۹۲۸ میں حسن البنا کے ذریعے اخوان کی تاسیس سے لے کر ستر ممالک میں اپنا وجود قائم کرنے والی عالمی تحریک بننے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تحریک کے اندر بڑی جاذبیت اور کشش ہے کیو ں کہ یہ جماعت معاشرے کی فلاح و بہبود پر مبنی اسلامی نظام مساوات قائم کرنے پر زور دیتی ہے۔ ۱۹۴۹ میں انھیں شہید کر دیا گیا تھا، یہ وہ زمانہ تھا جب حسن البنا کے نظریات میں تبدیلی آ رہی تھی وہ تشدد اور انتہاپسندی سے دور رہ کر بتدریج تبدیلی کی طرف گامزن تھے۔

اس وقت اخوان المسلمون نے خود کو سماجی خدمات کے لیے وقف کیا ہوا تھا۔ فلپس کہتے ہیں کہ تحریک اخوان سے مسنلک موجودہ بنیادی جماعتیں تشدد اور دہشت گردی سے خود کو منقطع رکھتی ہیں۔

اخوان المسلمون قانونی طور پر ایک سیاسی جماعت میں تبدیل ہو چکی ہے، اس لیے مصر اور مشرق وسطی کی ‘متعصب’ جماعتوں کی شدت مخالفت اس جماعت کے تعلق سے کم ہو جانی چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *