کیلا: رمضان میں توانائی کا بھرپور ذریعہ

Asia Times Desk

 اکثر لوگ کیلے کی جسامت اور ذائقے سے بخوبی واقف ہیں اورمنفردذائقے کی وجہ سے کھاتے بھی شوق سے ہیں لیکن اس کی طبی افادیت سے مکمل آگاہی نہیں رکھتے۔
کیلے میں سیب کی نسبت چار گنا زیادہ پروٹین ،دوگنا زیادہ کاربوہایڈریٹ،تین گنا زیادہ فاسفورس،پانچ گنا زیادہ وٹامن اے اوردیگر وٹامنز اور منرلز بھی سیب کے نسبت دوگنے ہوتے ہیں۔کیلے میں تین قسم کی شوگر پائی جاتی ہے،

سکروز،فرکٹوز اور گلوکوز نامی یہ شوگر کیلے کے ریشوں میں موجود ہوتی ہے اور کیلا فوری،دیر پا اور حقیقی توانائی فراہم کرتا ہے۔

ایک تحقیق سے ثابت ہوا کہ دو کیلے ڈیڑھ گھنٹے کی سخت مشقت کے بعد توانائی کی بحالی کے لئے کافی ہیں، یہ بھی ایک حقیت ہے کہ کیلا دنیا کے معروف ترین ایتھلیٹس کا پسندیدہ ترین پھل ہے۔

ایک سروے کے مطابق ڈیپریشن کے شکار افراد میں کیلے کے استعمال کے بعد نمایاں تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کیلے میں ایک خاص قسم کی پروٹین پائی جاتی ہے جو جسم کو آرام پہنچاتی ہے اور طبیعت پر خوشگوار اثر ڈالتی ہے۔

وٹامن بی6 سے بھرپور کیلے کے استعمال سے آپ خواب آور ادویات کو بھول جائیں گے۔کیلا جسم میں خون کی کمی نہیں ہونے دیتا، کیوں کہ یہ آئرن سے بھرپور ہوتا ہے۔ بلند فشار خون کو معتدل رکھنے میں کیلا بہت مفید ہے۔کیلے میں پائی جانے والے پوٹاشیم کی بھاری مقدار اور اس کے مقابل نمکیات کی

کم مقدار خون کے دورانیہ کو بہتر بناتی ہے۔
کیلا دماغی طاقت میں اضافہ بھی کرتا ہے۔

تحقیق کے مطابق صبح کے ناشتے،لنچ اور بریک میں کیلا کھانے والے طلباءنسبتاً بیدار مغزی کے ساتھ سیکھنے کے عمل کا حصہ بنتے ہیں۔کیلے کا استعمال قبض،سینے کی جلن ،خمار،ذہنی تناﺅ،اعصابی کھچاﺅ، السر کو کنٹرول کرنے کے ساتھ یہ حاملہ خواتین کے جسمانی درجہ حرارت کو بھی کنٹرول کرتا ہے جو ماں اور بچے دونوں کی صحت کے لئے ضروری ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *