بٹلہ ہاوس کے ایک نوجوان تاجر کا قابل تقلید رو یہ

اے کاش ہم سب شعیب کے اس چھوٹے سے عمل سے لوگوں کی نفع رسانی کا اسلام کا فلسفہ اپنی زندگیوں اتار پائیں

Asia Times Desk

Advt
 نئی دہلی : ( ایشیا ٹائمز/ ابو انس )  عید  کی خریداری کے لیے کل دیر رات بٹلہ ہاوس جانا ہوا۔عید کی بے ہنگم بھیڑ کے درمیان خریداری کی صعوبتوں سے ہم سب واقف ہیں، ہر سال ہم سب کو اس آزمائش سے خوشی خوشی گزرنا پڑتا ہے، میرے ساتھ کل جو ہوا ذہن کے دریچے میں محفوظ ہوگیا ۔
چودھری بک ڈپو کے قریب سڑک کنارے ٹو پیوں کا اسٹال دیکھ کر آگے بڑھا یہاں پہلے سے کھڑے دو نوجوان آپس میں کچھ گفتگو کر رہے تھے ایک کے ہاتھ میں ایک سیاہ رنگ کی ٹوپی تھی دونوں کہہ رہے تھے ہم نے غلط رنگ منتخب کر لیا ، اب کیا کریں ؟
مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے اسٹال پر کھڑا نوجوان یہ ڈسکشن سن رہا تھا، جھٹ بولا آپ چاہیں تو مجھے اپنی ٹوپی واپس کر دیں اور اپنے پسند کی دوسری ٹوپی لے سکتے ہیں ، نوجوان تاجر کا یہ کھلا آفر سن کر دونوں حیرت سے دوکان دار کو دیکھنے لگے یہ کیا کہہ
رہے ہیں آپ کیا واقعی ہمیں بدلے میں دوسری ٹوپی دے سکتے ہیں ؟
Advt
محمد شعیب مسکرایا کہنے لگا ہاں ہاں آپ نے صحیح سنا میں وہی کہہ رہا ہوں ، دونوں لڑکوں نے ایک بار پھر اپنا سوال دہرایا اور دونوں نے اپنی پسند کی ٹوپی لی اورہنستے مسکراتے دعائیں دیتے چل دیے ۔
 
ان کے جانے بعد میں نے پوچھا بھائی یہ لوگ اس قدر محو حیرت کیوں تھے ؟ کیا معاملہ تھا ؟ کہنے لگا دراصل انہوں نے ٹوپی کہیں اور سے خریدی تھی ۔ میرے اسٹال پر اپنی پسند کی ٹوپی دیکھ کر اپنے فیصلے پر پچھتا رہے تھے ، میں نے انہیں بدل کر دوسری دے دی ، اب آپ ہی بتائیں کہ اس میں میرا کیا نقصان ہوا ؟
 
میں نے جھٹ کہا آپ کو ملا ہی کیا ؟ اس نے کہا ، خوشی ؟ ایک لمحے کے لیے میں خاموش ہوگیا، نوجوان تاجر کہنے لگا ہم تو پوری انسانیت کی بھلائی کے لیے آئے ہیں اور اپنوں کے ساتھ اتنی سی بھلائی بھی نہیں کر سکتے ؟
 
اس کا یہ جواب سن کر دلی اطمینان ہوا کہ امید ابھی باقی ہے ، یقینا محمد شعیب کا یہ چھوٹا سا عمل اسے بڑا فائدہ دے گیا اس کی جتنی سراہنا کی جائے کم ہے۔
اب رات کے 2 بجر 30 منٹ ہورہے تھے پھر بھی بازار میں بھیڑ بڑھی جارہی تھی وقت تیزی سے نکل رہا تھا ۔
 
شعیب کا مختصر تعارف لینے کے بعد میں نے بھی ایک عدد ٹوپی خریدی اور گھر کا رخ کیا ۔ واپسی میں ذہن میں شعیب کا احسان کا  وہ رویہ تھا اور امت مسلمہ کے سامنے مستقبل کے چیلنجوں کا پہاڑ ۔۔۔
 
اے کاش ہم سب شعیب کے اس چھوٹے سے عمل سے لوگوں کی نفع رسانی کا اسلام کا فلسفہ اپنی زندگیوں  میں اتار پائیں ۔
 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *