کتابی سلسلہ ‘بازدید ‘ جدید لب ولہجہ کے شاعر مقصود بستوی کے حسن سلیقہ اور مدیرانہ کاوش کا منہ بولتا شاہکار

مبصر:     ڈاکٹر اکبر علی بلگرامی

Asia Times Desk

نام رسالہ:      بازدید  کتابی سلسلہ

مدیر:       مقصود بستوی

صفحات:  122

قیمت:      150

ملنے کا پتہ:            S 363 آئی ٹی آئی ، سدھیشور نگر، جھانسی 284003

مبصر:     ڈاکٹر اکبر علی بلگرامی6307369930

نوجوان مدیر اور جدید لب ولہجہ کے شاعر مقصود بستوی کے ح ±سن سلیقہ اور مدیرانہ کاوش کا منہ بولتا شاہکار ادبی رسالہ’ باز دید‘(کتابی سلسلہ)کا دسواں مصور شمارہ برائے بتصرہ میرے پیش نظر ہے۔ مدیر محترم کا تقاضہ تھا کہ ناچیز اس شمارے کے محاسن پر اپنے اخبارروزنامہ’آگ‘ میں تبصرہ کرے سو ان کے حکم کی تعمیل میں بطور تبصرہ اپنے تاثرات پیش کرنے کی کوشش کررہاہوں، کیونکہ میرے ہم وطن ہونے کے سبب محترم مقصود بستوی سے خصوصی لگاو ¿ ہے اور وطنی بھائی کی درخواست رد کرنے کی میں جسارت نہیں کر سکتا ہوں۔ بقول میر انیس

خیال خاطر احباب چاہئے ہر دم

انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو

’بازدید‘ کے مشمولات پر نظر ڈالتا ہوں تو اس کے قلم کاروں کے ح ±سن انتخاب پر یقینی طور پربھائی مقصود مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے کہنہ مشق ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ ہی نوواردان ادب کی بھی خوب پذیرائی کی ہے۔ ادب کی ان نووارد شخصیات کے شانوں پر ہی کل کے ادب کی آبیاری کی ذمہ داری ہوگی۔ اس لئے انہیں نظر انداز کرنا اردو کے ساتھ گویا حق تلفی ہوگی۔اس شمارے میں جہاں ادب کی قاموسی شخصیات پروفیسر گوپی چند نارنگ، پروفیسر قاضی افضال حسین اور پروفیسر شمیم حنفی کے مضامین زینت بنے ہوئے ہیں وہیں ڈاکٹر اشہد کریم الفت اور معید رشیدی کے مضامین کو شامل اشاعت کرنا مدیر رسالہ کی ادبی دیانت داری اور نسل نو کی آبیاری کی شاندار مثال قرار دی جائے گی۔

رسالے میں خراج عقیدت کا ایک گراں قدر گوشہ ہے جس میں اردو کی عبقری شخصیت احمد صدیق مجنوں گورکھپور ی پر ان کی ادبی حیثیت کا احاطہ کرنے والے چار مضامین شامل ہیں جن میں نئے اور پرانے چراغوں کو یکساں اہمیت دی گئی ہے۔ حامدی کاشمیری پر بھی ڈاکٹر الطاف انجم کا محنت سے تحریر کردہ مضمون شامل ہے۔ مولانا صادق علی قاسمی جیسی ادب کی جید شخصیت اور عالم با عمل کو بطور خراج عقیدت سات مضامین شامل کئے گئے ہیں ، جن میں پروفیسر گوپی چند نارنگ، سہیل انجم، ڈاکٹر رشید اشرف اور میرے رفیق کار محمد وصی اللہ حسینی کی نگارشات مولانا صادق علی قاسمی کی شخصیت اور ان کی علمی و ادبی حیثیت تک رسائی میں معاون ثابت ہوگی۔ یہ حقیقت ہے کہ مولانا صادق بستوی جیسی شخصیت کا ہمارے درمیان سے اٹھ جانا علمی اور ادبی خسارہ ہے۔ ایسی شخصیت روز روز جنم نہیں لیتی ہیں۔ میر تقی میر کا ذیل کا مشہور شعر مولانا صادق قاسمی پر صادق آتا ہے :

مت سہل ہمیں جانو ، پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

بہتر ہوتا کہ خراج عقیدت والے اس خصوصی گوشے کو رسالے کے ابتدائی حصہ میں شامل کیا جاتا ، اسی کے ساتھ ایک اور گذارش ہے کہ مجنوں صاحب والے گوشے میں ان کا ایک مضمون’مجھے نسبت کہاں سے ہے ‘ اور مولانا صادق قاسمی کی کوئی ایک تحریر شامل اشاعت کی جاتی تو جو افراد مجنوں و مولانا صادق بستوی کی شخصیت سے پوری طرح سے واقف نہیں ہیں ان کیلئے ان دونوں حضرات کی نگارشات ان شخصیات کی تفہیم میں معاونت کرتیں۔

سخن صدرنگ کے تحت سلیم صدیقی پر خصوصی مضامین قابل ستائش کوشش ہے لیکن کیا اچھا ہوتا کہ سلیم صدیقی کی زندگی کے حالات پر بھی کوئی مضمون تحریر کرایا جاتا ، اس سے ان کی ذات کے عرفان میں تشنگی کا احساس نہیں ہوتا۔

رسالہ کا شعری حصہ بہت خوب ہے اور نئے پرانے شعراءکا حسین سنگم قرار دیا جا سکتا ہے۔سلیم صدیقی عشرت ظفر اور ذوالفقار نقوی کی پانچ -پانچ غزلیں شامل کر کے شعراءکے کلام کو سمجھنے کا جو سلسلہ مدیر نے شروع کیا ہے وہ لائق تحسین ہے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔غزلوں کے علاوہ خورشید اکبر، اکرم نقاش اور مصداق اعظمی کی نظمیں بھی بہت خوب ہیں لیکن اس اچھے ادبی رسالے میں نظموں کی کمی کھٹکتی ہے۔ مدیر مقصود صاحب بھی اچھی نظمیں کہتے ہیں، پھر نظموں کے ساتھ ناانصافی کیوں؟

افسانے کے باب میں انتظار حسین کا افسانہ ’آخری آدمی‘ حاصل افسانہ کہا جا سکتا ہے ، اس کے علاوہ موجودہ وقت میں اردو کے افسانوی ادب کی گراں قدر شخصیت سلام بن رزاق کا افسانہ’یہ دھواں سا‘ بے چہرگی کے کرب کو نہایت موثر انداز میں پیش کرتا ہے۔

باز دیدسوشل میڈیا و اخبارات ورسائل کی نظر میں: اس عنوان کے تحت اس کے قبل کے شمارے پر جن لوگوں نے مختلف اخبارات ورسائل اور فیس بک وغیرہ میں اپنے تاثرات پیش کئے ہیں انہیں اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آخر میں مکتوبات کے باب میں رسائل کے تعلق سے بڑی کارآمد باتیں اور ادبی گفتگو کی گئی ہے جو لائق مطالعہ ہیں۔ میرا اپنا اصول ہے کہ جب میں کسی رسالے کا مطالعہ کرتا ہوں تو سب سے پہلے مراسلات کا کالم ڈھونڈتاہوں۔ مراسلات پڑھنے کے بعد اداریہ پھر ترتیب سے تمام مشمولات کو پڑھتا ہوں۔

آخر میں مقصود بستوی کو ’باز دید‘ کی نئی اشاعت پر میں درپیش دقتوں کیلئے ان کے حوصلے کو آفریں کہتا ہوں اور مبارکباد دیتا ہوں کہ آج کے دور میں’ باز دید ‘جیسے مقبول رسالے کی اشاعت کا سلسلہ جاری رکھ کر اردو کے با ذوق قارئین کو ادبی غذا فراہم کرانے کے ساتھ اردو کی ادبی خدمات کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *