بازدید:ایک نئی پہچان کے ساتھ

حقانی القاسمی

Asia Times Desk

صارفی معاشرت نے ہماری ترجیحات بدل دی ہیں۔ اب ہمارے لیے کتابوں اور رسائل سے زیادہ اہمیت دیگر تفریحی ذرائع کی ہے۔ انٹرنیٹ کی وجہ سے بہت سے متبادل راستے بھی کھل گئے ہیں۔ اب کتابوں سے قاری کا اتنا مضبوط رشتہ نہیں رہا جو پہلے کبھی ہوا کرتا تھا۔ یقینی طور پر یہ کتاب کلچر کے زوال کی ایک علامت ہے۔ تاہم خوشی کی بات یہ ہے کہ کسی نہ کسی شکل میں کتابیں اور رسائل زندہ ہیں اور انہیں نئی زندگی دینے والے بہت سے دیوانے آج بھی موجود ہیں۔ انہیں دیوانوں میں ایک نام مقصود بستوی کا بھی ہے جنہوں نے بہت پہلے بمبئی سے 2012ء میں کتابی سلسلہ ’’بازدید‘‘ کا آغاز کیا تھا اور بہت جلد اس نے ادبی حلقے میں اپنی ایک پہچان بھی بنا لی تھی۔ مگر نامساعد حالات اور وسائل کی بنا پر بمبئی سے شائع ہونے والا یہ مجلہ تعطل کا شکار ہوگیا۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اب جھانسی سے ’’بازدید‘‘ کی بازیافت کا عمل پھرشروع ہوا ہے۔ اور ایک خوشگوار تبدیلی یہ دیکھنے کو مل رہی ہے کہ رسالے کا سائز بھی قدر بڑا ہے اور صفحات بھی پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔ ’’آئینۂ بازدید‘‘ کے تحت حمد و نعت، تخلیقی نقوش، مضامین، خراج عقیدت، خوشبواور گلستان سخن جیسے پرکشش عنوانات سے مشمولات کا انتخاب بھی مدیر کے حسن ذوق کا عکاس ہے۔ اور خاص بات یہ ہے کہ اس میں تنوع کا خیال رکھا گیا ہے۔ تخلیقی نقوش میںجون ایلیا، ناصر کاظمی، ندا فاضلی اور جاوید ندیم کے افکارو خیالات ہیں۔

جون ایلیا نے اس مضمون میں لکھا ہے کہ میں وزن یا آہنگ کے بغیر شاعری کا تصور ہی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے اس مسئلہ کے نفسیاتی اور اخلاقی پہلوئوں پر مدلل گفتگو کی ہے۔ناصر کاظمی نے ’’میں کیوں لکھتا ہوں؟‘‘ کے عنوان سے بہت ہی اچھا مکالمہ قائم کیا ہے۔ ان کے مطابق مہذب دنیا کا سب سے بڑا کارنامہ یہی ہے کہ اس نے فطرت کو ایک حد تک تسخیر کر لیا ہے۔ ندا فاضلی کی تحریر بھی بہت ہی فکر انگیز ہے۔ انہوں نے اپنے تخلیقی تجربات کے حوالے سے لکھا ہے اور یہ واضح کیا ہے۔ انہو ںنے عام زبان میں عام آدمی کی ترجمانی کا تجربہ کیا ہے۔ جاوید ندیم نے ’’غزل اردو شاعری کا چہرہ ہے‘‘ کے عنوان سے بہت اچھے نکات سے قارئین کو روشناس کرایا ہے۔ یہ تحریریں احساس کے نئے دریچے کھولتی ہیں۔ مضامین کے تحت شمس الرحمن فاروقی، پروفیسر علی احمد فاطمی، پروفیسر صغیر افراہیم، عشرت ظفر، پروفیر صاحب علی، اسلم حنیف، حقانی القاسمی، پروفیسر مرزا عبدالقدوس، سلیم انصاری، سہیل انجم، محمد وصی اللہ حسینی، ڈاکٹر وصی الحق وصی کی نگارشات شامل ہیں

تمام مضامین معلوماتی اور فکر انگیز ہیں۔شمس الرحمن فاروقی نے ادبی تحقیق کے تقاضے کے عنوان سے جامعات میں زوال تحقیق کی صورت حال پر روشنی ڈالی ہے اور حیات و کارنامے پر کی جانے والی تحقیق سے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ان کا یہ خیال صحیح ہے کہ ان تحقیقی مقالوں میں نہ تو نئی بات ہوتی ہے، نہ ہی تنوع ہوتا ہے۔ علی احمد فاطمی نے ’’مشترکہ تہذیب روایت اور حقیقت‘‘ کے حوالے سے بہت اچھی گفتگو کی ہے۔ انہوں نے بڑی اچھی بات کہی ہے کہ اگر کبیر و نظیر، نانک و بلہے شاہ کی پرمپرا کو فراق و نرالا، ٹیگو ر و اقبال کی ملی جلی دھارا کو پھر سے بہا دیا جائے، ایکتا اور انیکتا کے نغمے گائے جائیں تو یہ ہندوستان بھی بدلے گا اور ہندوستان میں رہنے والا ہر انسان بھی بدلے گا۔ صغیر افراہیم نے ’’سرسید تحریک‘‘ کا بہت عمدہ جائزہ پیش کیا ہے، تو عشرت ظفر نے ’’کولرج اور حسن فطرت‘‘ کے عنوان سے کولرج کی نظموں کے حوالے سے بہت اچھی گفتگو کی ہے۔ پروفیسر صاحب علی کا مضمون اردو شاعری میں استادی شاگردی کی روایت کے حوالے سے ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

ڈاکٹر اسلم حنیف نے ’’احمد کمال پروازی‘‘ کے شاعرانہ کمالات کا بہت خوب صورتی سے احاطہ کیا ہے۔ حقانی القاسمی نے شبنم عشائی کی نظمیہ شاعری کے حوالے سے اظہار خیال کیا ہے، تو پروفیسر مرزا عبدالقدوس نے مسعود حساس کی شاعری پر روشنی ڈالی ہے۔ ستیہ پال آنند کا تخلیقی شعور اور عالمی عصری آگہی کے عنوان سے سلیم انصاری کا مضمون بہت عمدہ ہے کہ انہوں نے ستیہ پال آنند کی نظموں پر بالکل نئے انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ سہیل انجم نے حفیظ میرٹھی کو اپنا موضوع بنایا ہے اور ان کے شعری و فکری محاسن پر روشنی ڈالی ہے۔ محمد وصلی اللہ حسینی نے ڈاکٹر رضوانہ پروین کی تحقیقی کاوش ’الیاس احمد گدی اور سنجیو کی ناول نگاری تقابلی مطالعہ پر بہت خوبصورت انداز میں اپنا تاثر پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر وصی الحق وصی نے میخائیل نعیمہ کی کتاب الغربال کے مقدمہ کا عربی سے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ خراج عقیدت کے تحت مجروح، ندا فاضلی، عزیز جھانسوی اور انور جلال پوری پر مضامین شائع کئے گئے ہیں۔ طارق منظورنے مجروح سلطانپوری کے حوالے سے لکھا ہے تو ندیم صدیقی نے ندا فاضلی کی نثر نگاری اور ان کی شخصیت کے پہلوئوں پر روشنی ڈالی ہے۔ ڈاکٹر خلیق انجم کا مضمون عزیز جھانسوی کے حوالے سے ہے، تو حبیب ہاشمی ،ڈاکٹر کلیم قیصر، شاہد جمال اور جاوید قمر نے انور جلال پوری کی شخصیت اور فن کے حوالے سے مضامین تحریر کئے ہیں۔

بازدید میں شعری تخلیقات کا حصہ بھی خوب ہے۔ غزلیں، نظمیں، رباعیات شامل شمارہ ہیں جس میں کچھ بزرگ تو کچھ نئے شعراء بھی ہیں۔ اس گلستان سخن میں ہر رنگ کے پھول ہیں۔ ہر ایک کی خوشبو جدا ہے۔ افسانے، تبصرے بھی ہیں۔ سب سے آخری صفحہ پر اداریہ ہے جس میں مقصود بستوی نے اردو کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔ یہ اداریہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے کہ اس میں بہت سے ایسے نکات اٹھائے گئے ہیں جن پر سنجیدہ گفتگو ضروری ہے۔ مجموعی طور پر بازدید کا شمارہ اپنے مشمولات کی بنیاد پر بیش قیمت ہے اور عام قاری کے لئے بھی اس میں کشش کا سامان ہے۔ اس شمارے کی قیمت 150 روپے ہے جسے سدھیشور نگر جھانسی یوپی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *