ڈاکٹر یامین انصاری کے سفر نامہ ’عراق جو میں نے دیکھا ‘ کا اجرا

admin

نئی دہلی :نئی دہلی کے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں منعقد ایک پر وقار تقریب میں انقلاب کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ڈاکٹر یامین انصاری کے تحریر کردہ سفرنامہ ’عراق جو میں نے دیکھا‘ کا اجرا عمل میں آیا۔ اس موقع پر مولانا آزادیونیور سٹی جودھپور کے وائس چانسلر پدم شری پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ یہ سفرنامہ عراق کی موجودہ صورت حال اور مغربی میڈیا کے ذریعہ جاری گمراہ کن تشہیر کی سچائی بتانے والاہے، جس کے لئے اس کے مصنف ڈاکٹر یامین انصاری کے ساتھ ساتھ آغا سلطان بھی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ جن کی کوششوں سے صحافیوں کا ایک ایسا وفد عراق دورے پر جا سکا جس نے وہاں کی حقیقت

سے لوگوں کو روشناس کرایا اور تفریق کی سیاست کو پس پشت ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا۔انھوں نے کہا یقیناًسرز مین عرب میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بعد اگر کوئی زمین ایسی ہے جس کی خاک کو آنکھوں کا سرمہ بنایا جائے تو وہ سر زمین عراق ہے، جو کہ کربلا کے شہیدوں کی یادگار ہے۔

عراق کے مختلف مقامات مقدسہ اور تاریخی مقامات کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتی اس کتاب کا اجرا پروفیسر اختر الواسع کے علاوہ کرناٹک کانگریس کے جنرل سکریٹری اور معروف سماجی کارکن آغا سلطان ، معروف اسلامی اسکالر مولانا ڈاکٹر یاسین علی عثمانی،انقلاب کے ایڈیٹر شکیل شمسی،شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی کے صدر پروفیسر ابن کنول ،جے این یو کے پروفیسر عین الحسن ،ڈاکٹر حفیظ الرحمن کے علاوہ وفد میں شامل صحافی وسیم راشد ، عارفہ خانم،رادھیکا بورڈیا ، خورشید ربانی،سمیر ارشد ، حشام صدیقی وغیرہ کے ہاتھوں عمل میں آیا۔

اس موقع پر خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے روز نامہ انقلاب کے ایڈیٹر (نارتھ ) شکیل حسن شمسی نے کہا کہ بلا شبہ عراق میں شیعہ سنی اتحا دہے اور یہ آج کی نہیں،بلکہ سیکڑوں برس پرانی بات ہے۔ وہاں ایک ہزار سال سنی حکمرانوں کی حکومت رہی اور شیعہ لوگوں کی اکثر یت ہونے کے بعد بھی کبھی شیعہ سنی فسادات نہیں ہوئے، مگر امریکہ کی دخل اندازی کے بعد وہاں ایک دوسرے کی مساجد میں دہشت گردوں کے ذریعہ بم دھماکے کئے جانے کے واقعات رونما ہوئے،

لیکن اس کے بعد بھی شیعہ سنی جھگڑے نہیں ہوئے۔ حالانکہ مغربی میڈیا نے ہر چند کوشش کی کہ وہاں کے حالات کو شیعہ سنی فسادات کے تناظر میں پیش کر سکے، مگر وہاں کے لوگوں نے کے اتحا د نے اسے ناکام بنا دیا۔اس موقع پر معروف اسلامی اسکالر مولاناڈاکٹر یاسین علی عثمانی نے کہاکہ اسلام مخالف طاقتوں کے ذریعہ عراق کی آخری جنگ سے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ یہ مسلکی اختلافات کی لڑائی ہے، مگر ڈاکٹر یامین انصاری کے سفر نامہ سے معلوم ہوا کہ جو تصویر داعش کے وجود میںآنے کے بعد پیش کی جار ہی تھی وہ حقیقت سے بہت دور تھی اور داعش سے تو مسلمانوں کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی کے صدر پروفیسر ابن کنول نے ڈاکٹر یامین انصاری کے ابتدائی دور کا ذکر کرتے ہوئے حصول تعلیم کی کوششوں کو سراہا اورسفرنامہ کی تعریف کی ۔ انھوں نے کہا کہ جب کسی ملک کے کلچر کو اور وہاں کے ماحول کو ٹھیک طرح سے جاننا ہو تو اس میں تاریخ کم اور سفرناموں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ اس کی بہترین مثال ابن بطوطہ کا سفر نامہ ہے۔

اس موقع پر این ڈی ٹی وی کی رادھیکا بورڈیا اور سینئر خاتون صحافی عارفہ خانم شیروانی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور سفرنامہ میں شامل حقائق کی تائید کرتے ہوئے عراق کی موجودہ صور ت حال پر سیر حاصل تبصرہ کیا۔کرناٹک کانگریس کے جنرل سکریٹری آغاسلطان نے سفر نامہ پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اس وفد کو عراق بھیجنے کا مقصد یہ تھا کہ وہاں کی جو اصل صورت حال ہے وہ ہندوستانی میڈیا کو دکھائی جا سکے اور اس میں یقیناًسبھی نے اپنی اپنی سطح پر بہترین کردار ادا کیا۔ داعش اپنے مقصد میں شاید کامیاب ہو جاتا مگر جون۲۰۱۴ء میں روحانی پیشوا آیت اللہ سید علی سیستانی نے جو فتویٰ دیا تھا اس کو سن کر عراق کا بچہ بچہ بلا مسلکی تفریق گھروں سے باہر نکل آیا تھا اور داعش کے خلاف جنگ کی جس کے نتیجہ میں آج عرا ق سے داعش کا خاتمہ ممکن ہو سکا۔

اس موقع پر ڈاکٹر یامین انصاری نے چند روز قبل اچانک انتقال کر جانے والے سنیئر صحافی سلیم صدیقی کو تعزیت پیش کرتے ہوئے سفر نامہ پر مبنی کتاب عراق جو میں نے دیکھا ہے کے چند اقتباسات پیش کئے اور اس میں شامل اہم باتوں سے روشناس کرایا۔ انہوں نے وفد میں شامل اپنے سبھی صحافی ساتھیوں کا بھی ذکر کیا اور ان کی کوششوں کو بھی سراہا۔ اس سے قبل تقریب کا آغازحافظ محمدعرفان نے تلاوت کلام پاک سے کیا، جبکہ نظامت کے فرائض معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے بحسن و خوبی انجام دیئے اور کتاب کی تخلیق نیز، عراق کے سفر پر جانے والے اور مقصد سفر کو بھی بیان کیا۔ اس موقع پر جے این یو کے پروفیسر عین الحسن نے مختصر طور پر کربلا کی تاریخ بیان کرتے ہوئے شیعہ سنی اتحادکی چند مثالیں پیش کیں اورکربلا پر ایک منقبت بھی پیش کی۔ وہیں معروف بزرگ شاعر متین امروہوی نے بھی ڈاکٹر یامین انصاری کے لئے تہنیتی نظم پیش کی۔

تقریب میں شامل سبھی مہمانوں کا محمد اکرم ، محمد یاسین ، محمد اسلم ، حافظ محمد عرفان ، ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی اور ڈاکٹر زکریاعباس نے گلدستوں سے استقبال کیا۔آخر میں محمد اسلم نے سبھی کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم ترین شخصیات نے شرکت کی جن میں شیعہ سنی فرنٹ کے زیڈ اے چھمن ،معرو ف صحافی سہیل انجم ، شیش نارائن سنگھ ، ودود ساجد ، املیندو اُپادھیائے،فاروق سلیم ،ڈاکٹر عقیل احمد ، حشا م صدیقی ،ڈاکٹر مظفر حسین غزالی ، شفیق الحسن ،افتخار الرحمن ، ڈاکٹر اطہر فاروقی ، اشرف علی بستوی ، اطہر انصاری ، عبد القادر شمس ، فائق رضوی ، منصور آغا ، فلاح الدین فلاحی ، محمد نظام ، معین شاداب ، ڈاکٹر جاوید رحمانی،فرمان چودھری ، فرزان قریشی فادر ایڈ وین ، لئیق رضوی ، مبین خان، شکیل احمد،سید خصال مہدی ، اور انقلاب کے نیوز ایڈیٹرشاہ عالم اصلاحی کے نام قابل ذکر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *