سنٹرل انفارمیشن کمیشن نے ملی گزٹ کی تائید کی، پولیس کو دو ہفتے میں کاغذات دینے کی ہدایت

Asia Times Desk

نئی دہلی: تقریباً دو سال قبل جریدہ ملی گزٹ پر اس وقت آفت پڑگئی جب اس نے آرٹی آئی سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر معروف صحافی پشپ شرما کی ایک رپورٹ شائع کی جس میں کہا گیا تھا کہ وزارت آیوش پالیسی کے تحت مسلمانوں کو کام نہیں دیتی ہے۔ چھپنے کے بعد ایک زلزلہ آگیا۔آیوش منسٹری کے حکم پر پولیس نے مذکورہ رپورٹر پشپ شرما کے خلاف مقدمہ قائم کرکے اُسے جیل میں ڈال دیا۔ جلد ہی ملی گزٹ نے اس کی ضمانت کرائی لیکن اس کا مقدمہ آج بھی ساکیت کورٹ میں چل رہا ہے۔

مقدمہ پولیس اور وزارت آیوش کے خلاف جارہا ہے کیونکہ فورینسک لیب نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پولیس کے دعوے کے بر خلاف پشپ شرما کے لیپ ٹاپ سے ایسی کوئی چیز نہیں برآمد ہوئی ہے جس سے کہا جاسکے کہ اس کومذکورہ آر ٹی آئی کو جعلی طورسے بنا ئے جانے میں استعمال کیا گیا ہے۔

اس کیس کے دائر ہونے کے فوراً بعداخباری رپورٹوں کی بنیاد پر پریس کاؤنسل آف انڈیا نے بھی ملی گزٹ کے خلاف ایک سو موٹو کیس درج کرلیا، جو لمبے عرصے تک چلا اور بالآخر خارج ہوگیا۔

Advt

اسی اثناء میں دہلی پولیس کے لائسنسنگ ڈپارٹمنٹ سے ملی گزٹ کے ایڈیٹر، پبلشر اور مالک ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو نوٹس بھیجا کہ جعلی خبر شائع کرنے کی بنیاد پر کیوں نہ ملی گزٹ کا ڈیکلریشن (چھپنے کا لائسنس) رد کردیا جائے۔پولیس نے اپنے پہلے نوٹس میں پرچے کے خلاف ایک متعین شکایت کا ذکر کیا تھا۔ جب ڈاکٹر ظفرالاسلام نے اس شکایت کی کاپی اور اس پر افسران کی نوٹنگ کی کاپی مانگی تو پولیس نے اسے دینے سے انکار کردیا۔ اس پر انہوں نے آرٹی آئی کے ذریعے وہ کاغذات مانگے مگر پولیس نے پھر بھی دینے سے انکار کردیا اور دعویٰ کیا کہ آرٹی آئی ایکٹ میں کوئی کاغذ کسی ’’تھرڈ پارٹی‘‘ کو نہیں دیا جاسکتا۔ڈاکٹر ظفرالاسلام نے اس جواب کے خلاف اپیل داخل کی اور کہا کہ وہ تھرڈ پارٹی نہیں ہیں بلکہ صاحب معاملہ ہوتے ہوئے وہ فرسٹ یا سکنڈ پارٹی ہیں۔ اپیل میں بھی ان کی بات رد کردی گئی۔اس کے بعد ڈاکٹر ظفرالاسلام نے سنٹرل انفارمیشن کمیشن میں اپیل دائر کی ، جس کی سنوائی پچھلے دنوں ہوئی۔سنوائی کے دوران انفارمیشن 157 کمشنر (یشوردھن آزاد) کے سامنے ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے اپنی بات رکھی اور کہا کہ جب تک شکایت ہمارے سامنے نہیں آتی ہے ہم پولیس کے نوٹس کا صحیح جواب نہیں دے سکتے ہیں۔انفارمیشن کمشنر نے وہیں پولیس کی ٹیم کو جھاڑ پلائی کہ صاحب معاملہ سے آپ کس طرح اصل شکایت چھپاسکتے ہیں اور پھر جواب بھی مانگتے ہیں اور اسی کے ساتھ اتنے عرصے سے اسے لٹکائے ہوئے ہیں۔

Asia Times Urdu

سنٹرل انفارمیشن کمشنر نے اپنے تحریری آرڈر میں لکھا ہے کہ پولیس کا شکایت کنندہ کو مطلوبہ معلومات دینے سے انکار کرنا پوری طرح سے غیر قانونی ہے۔آرڈر میں کمیشن نے مزید لکھا ہے کہ ’’شکایت کنندہ کو تھرڈ پارٹی ماننا قدرتی انصاف کے مبادی کے خلاف ہے۔شکایت کنندہ کو معلومات نہ دینا غیر آئینی ہے اور کسی طرح سے قابل قبول نہیں ہے کیونکہ اس سے ایک شہری کے اپنے دفاع کرنے کے حق کی نفی ہوتی ہے۔ اس لئے جوابدہ پارٹی (پولیس ) کا جواب رد کیا جاتا ہے‘‘۔

پولیس کے شوکازنوٹس کی ناقص ڈرافٹنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سنٹرل انفارمیشن کمشنر نے اپنے آرڈر میں کہا کہ ’’ہر شخص کا حق ہے کہ اس کو ان ساری دستاویزات،مراسلات اور خطوط کی کاپی دی جائے جو اس کے خلاف استعمال کی گئی ہیں تاکہ وہ اپنا دفاع کرسکے اور اپنا کیس پیش کرسکے‘‘۔
سپریم کورٹ کے کئی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کمیشن نے اپنے مفصل آرڈر میں کہا کہ ’’قانونی صورت حال یہ ہے کہ اپنا دفاع کرنے کا حق ایک آئینی حق ہے۔ قانون کی روشنی میں جوابدہ (پولیس) کو شکایت کنندہ کو وہ تمام معلومات دینی چاہئے تھیں جو اس نے مانگی تھیں‘‘۔

اپنے آرڈر کے آخر میں سنٹرل انفارمیشن کمشنرنے دہلی پولیس کو ہدایت دی کہ شکایت کنندہ کے خلاف جو شکایت ملی تھی اس کی کاپی اس کو دے اور اسی کے ساتھ اس کو بتائے کہ اس کے خلاف لئے گئے ایکشن کی موجودہ صورت حال کیا ہے۔ کمیشن کے آرڈر میں تعمیل حکم کے لئے دہلی پولیس کو دوہفتے کا وقت دیا گیا اور اگر ۳۱ اگست ۲۰۱۸ تک سنٹرل انفارمیشن کمیشن کو اس آرڈر پر عمل درآمد کی اطلاع نہیں ملتی ہے تو کمیشن آرڈر کی عدم تعمیل کی بنیاد پر جواب دہندہ (دہلی پولیس ) کے خلاف قانونی کارروائی کرے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *