مرادآباد کے گاؤں میں بے سہارا یتیم بچوں کی مدد

Asia Times Desk

  نئی دہلی : پچھلے دنوں خبر آئی تھی کہ مراداباد کے گاؤں منڈیا گنو میں ماں اور باپ دونوں کے قریبی وقفہ کے ساتھ انتقال کرنے کی وجہ سے ان کے بچے بالکل بے سہارا رہ گئے ہیں اور پڑوسیوں کی امداد پر زندہ ہیں۔ چیریٹی الائنس نے اس سلسلے میں علاقے کے بعض لوگوں کے ذریعے ان یتیم بچوں تک پہنچنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ہوئی۔ پھر چیریٹی الائنس نے معروف صحافی معصوم مرادابادی سے درخواست کی کہ اپنے وطن جاتے ہوئے وہ اس مسئلے کی تحقیق کریں اور ان بچوں کو تنظیم کی طرف سے مدد بہم پہنچائیں۔

معسوم مرادآبادی

معصوم مرادابادی صاحب نے حال میں مذکورہ گاؤں کا سفر کیا۔ ان کی رپورٹ کے مطابق یہ گاؤں شہر مراداباد سے تقریباً ۲۵ کلو میٹر دور واقع ہے اور گرام پنچایت سہالی کھدر، تحصیل ٹھاکر دوارہ، ضلع مرادآباد کا حصہ ہے اور کانٹھ اسمبلی حلقے کے تحت آتا ہے۔ معصوم صاحب نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ہماری رہنمائی ایک مقامی سماجی کارکن حاجی محمد عثمان نے کی۔ گاؤں میں ہماری ملاقات ان یتیم اور بے سہارا بچوں سے ہوئی جن کی رپورٹ گزشتہ دنوں اخبارات میں شائع ہوئی تھی۔ اخباری اطلاع میں ان بچوں کی تعداد تین بتائی گئی تھی لیکن ہمیں موقع پر پانچ بچوں سے متعارف کرایا گیا۔ان کے والد بھورا (عمر ۴۰سال) اور والدہ چاند تارہ (عمر ۳۵ سال) گزشتہ دو برس کے دوران چھ ماہ کے وقفے سے انتقال کر چکے ہیں۔ بچوں کے والد بھورا ایک مزدور تھے اور ان کی مالی حالت خستہ تھی۔ گاؤں میں ان کا ایک کمرے کا عارضی جھونپڑا ہے اور باقی دوسو گز زمین خالی پڑی ہوئی ہے۔

جن بچوں سے ہماری ملاقات ہوئی ان کے نام عرفان (۱۵سال) ،فرقان (۱۴سال) ،ارمان (۱۲ سال)، روشنی (۱۱ سال) اور فرمان (۷ سال) ہیں۔ فوری مدد کے طور پر ان بچوں کو چیریٹی الائنس کی طرف سے پانچ ہزار روپئے کی رقم پیش کردی گئی اور ان کا اکاؤنٹ کھلوانے کی ذمہ داری علاقے کے محمد پرویز اور محمد رضا کے سپرد کی گئی۔ ان بچوں کے چھوٹے سے عارضی کمرے میں کھانے پینے کا سامان اور ضروری برتن موجود نہیں تھے جن کا فوری بندوبست کردیا گیا۔چیریٹی الائنس نے ان بچوں کی تعلیم اور دیگر ضروریات پوری کرنے اور ان کے لئے ایک چھوٹا سا گھر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جو لوگ اس کار خیر میں شریک ہونا چاہتے ہیں وہ چیریٹی الائنس (info@charityalliance.inسے رابطہ قائم کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *