آج اس موضوع پر غور کرتے کرتے مجھے ایک بہت بڑی فلاسفی سمجھ میں آئی 

زبـــــــــــیر سعیدی العمری

admin

شاید ہی کوئی ایسا طالب علم ہو جس نے اپنے تعلیمی بچپن میں گائے پر مضمون نہ لکھا ہو
آج کل کچھ لوگ اپنی کارٹونسٹک تخلیقات کے ذریعہ گائے کی تصویر بنا کر اس پر ‘مضمون’ لکھ کر یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آجکل کے بچوں کی شعوری سطح اتنی کم ہوگئی ہے کہ جب انہیں استاد گائے پر مضمون لکھنے کو بولتا ہے تو وہ گائے بنا کر اس پر لفظ ‘مضمون’ لکھ دیتے ہیں، جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے، عین ممکن ہے کہ کسی شہر میں کوئی ایسا کند ذہن بچہ رہا ہو جس نے کبھی ایسا دانستہ یا نادانستہ طور پر کردیا ہو مگر
بالعموم آج کا ذہن ہمارے عہد کے ذہن سے بہت آگے نکل چکا ہے-
خیر!
اس وقت میرا دھیان چونکہ گائے پر ہے، اس لئے اذہان پر پھر کبھی گفتگو کر لی جائے گی

بچپن میں جب ہم مضمون لکھنے بیٹھتے تھے تو ہمارے پاس الفاظ اور جملے کم ہوتے تھے، بسا اوقات ہم ‘گائے کے چار پیر ہوتے ہیں’ ، ‘دو کان ہوتے ہیں’ سے شروع کرکے گائے کے دودھ کی افادیت تک مضمون کا دی اینڈ کر دیا کرتے تھے-
مگر اب تو گائے پر لکھنے کا احساس اور انداز ہی بدل گیا ہے، اب تو اس موضوع پر اتنا مواد دستیاب ہے کہ کئی دفتر کم پڑ جائیں، اتفاق سے میرا تعلق اس ریاست اتر پردیش کے شہر بدایوں سے ہے، جہاں گائے کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اس کے گوشت کو کھانے کی شے کا تصور بھی نہیں کیا جاتا، یہ الگ بات ہے کہ کچھ مقامات پر گائے کے ذبیحہ کا رواج ہے-

میں پہلی بار ١٩٩١ میں مدراس گیا، جو اب چنئی ہوگیا ہے، دہلی سے چنئی پہنچنے کے لئے اس زمانے میں جی ٹی ایکسپریس سے چالیس گھنٹے کا طویل سفر طے کرنا پڑتا تھا، آجکل تو بلیٹ ٹرین کاغذات میں چل رہی ہے، ماں نے زادِ سفر کے طور پر کریلے کی سبزی اور میٹھی تندوری روٹیاں اس نیت سے بنا کر دیں تھیں کہ تین چار دن تک کھانے پینے کی پریشانی نہیں ہوگی، راستے بھر میٹھی روٹی کھاتے کھاتے من اتنا اکتا گیا تھا کہ سانسیں بھی میٹھی میٹھی آنی شروع ہوگئیں تھیں، چنئی آتے ہی اسٹیشن سے باہر نکلا، اسٹیشن کے ٹھیک سامنے زبیدہ ریسٹورنٹ کا بورڈ نظر آیا، کافی عالیشان سا ہوٹل تھا، میں اندر گیا اور بریانی کی خوشبو سے لطف اندوز ہونے لگا، بریانی کا آرڈر کیا اور پیٹ بھر بریانی کھاکر رب کا شکر ادا کیا، یہ میری زندگی میں گائے کے گوشت کی پہلی بریانی تھی-

میں نے پورے پانچ سال جنوبی ہندوستان میں گزارے اور اس دورانیے میں شہر آمبور، وانیم باڑی، پرنام بٹ، جولار پیٹ، ترپاتور، ہسور، کرشناگری، ویلور، دھرماپوری، سیلم، بنگلور اور حیدرآباد کی بریانی کھانے کا اتفاق ہے، ممکن ہے کچھ نام چھوٹ گئے ہوں،
واقعہ یہ ہے کہ جنوبی ہند میں چائے بھی گائے کے دودھ کی ملتی تھی، گھی بھی گائے کے دودھ کا مستعمل ہے، گھروں میں پالی بھی گائے جاتی ہے اور ہل جوتنے کے لئے بھی گائے کے مذکر کا ہی استعمال بکثرت ہوتا ہے، اس کے علاوہ ایک خاص اور نرالی بات یہ بھی نظر آئی کہ وہاں گائے کے مذکر یعنی بیل کا استعمال پونگل نامی بڑے تیوہار کے موقع سے کیا جاتا ہے، جس میں ان بیلوں کی نمائش سے لیکر ریس تک مختلف اقسام کے کھیل بھی دیکھنے کو ملتے ہیں
واقعی ہندوستان کی تہذیب بھی عجیب ہے، پانچ سال تک وہاں بھینس تلاش کرنے کے باوجود کہیں نظر نہیں آئی،
جمہوریہ ہند میں پچھلے دو تین سال سے گائے پھر نیشنل اشو بن کر سرخیوں میں ہے، بظاہر تو یہ بے حد شریف الطبع جانور ہے اور ما شاء اللَّهُ فطرتاً بے ضرر بھی ہے مگر اس کے نام پے شر انگیزیاں خوب ہوتی ہیں اور دلچسپ پہلو یہ بھی بے چارے اس جانور کے نام کا استعمال سیاست سے لیکر حکومت سازی تک ہر جگہ کر لیا جاتا ہے، یہ گائے کبھی دو بھائیوں کو آپس میں لڑانے کے کام آتی ہے اور کبھی ان کے بیچ محبت سے مل بانٹ کر کھائی بھی جاتی ہے، بھلا ہو سیاست کرنے والوں کا کہ وہ کبھی اس کی تجارت سے باز نہیں آتے، ایکسپورٹ فیکٹریوں سے لیکر لیدر کے بڑے کارخانے انہیں سیاستدانوں کی ملکیت ہیں

آج اس موضوع پر غور کرتے کرتے مجھے ایک بہت بڑی فلاسفی سمجھ میں آئی
وہ یہ ہے کہ برصغیر میں ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک ساتھ رہتے ہوئے ایک ہزار سال ہوگئے ہیں لیکن اب تک اتنے بھی نہیں گھل مل پائے ہیں کہ مسلمان گائے کی قربانی کریں اور ہندو برداشت کرلیں-
اسی فلسفے کی بنیاد پر جنگ آزادی کے بیچ دو قومی نظریہ پروان چڑھ گیا اور بد قسمتی سے وطنِ عزیز ہندوستان کے دو ٹکڑے ہوگئے جو اب آنجہانی مسز اندرا گاندھی کی مہربانی سے دو سے تین ہوچکے ہیں
دعا کریں کہ اب اس کے مزید ٹکڑے نہ ہونے پائیں

دو دن سے ایک معروف فتویٰ فیکٹری کے پروڈکشن کا مطالعہ کررہا ہوں، وہاں بھی اچانک ایک فتوے میں گائے نظر آگئی، موضوع تھا کہ ہم ہندوستانیوں کے لئے گائے کی قربانی جائز نہیں ہے-
مطلب یہ کہ اب گائے صرف ہندو بھائیوں کے لئے قابلِ تقدیس نہیں بلکہ اس فتوے کے مطابق ہمارے لئے بھی محترم ہوگئی ہے
ارے یاد آیا قرآن کی پہلی اور بڑی سورت کا موضوع بھی تو یہی گائے ہے
جب یہ اتنا اہم جانور ہے تو ہماری مین اسٹریم میڈیا پر لگاتار بیٹھ کر مباحثہ کرنے والے خودساختہ دانشوروں سے یہ موضوع کیسے بچ پاتا، لگے ہاتھوں اس نام پر انہوں نے بھی خوب روٹیاں سینک لیں
ایسا نہیں ہے کہ اس کا استعمال نفرت پھیلانے کے لئے پہلی بار کیا جارہا ہے انگریز نے بھی ہماری محبت کا شیرازہ منتشر میں اس جانور کے نام کا کامیاب استعمال کیا تھا، اب چونکہ وہ کافی ہوشیار تھے اس لئے جاتے جاتے برادرانِ وطن کو لفظ گائے کا یہ والا استعمال تحفتاً سونپ کر چلے گئے، آپ کی مرضی ہے، جب چاہیں اس کا استعمال کرلیں، تحفہ ہوتا ہی اسی لئے ہے-
جنوبی ہندوستان والے چونکہ شمالی ہندوستان والوں سے قدرے مہذب اور تعلیم یافتہ ہیں اس لئے وہ اپنی لڑائی میں جانور کو نہیں لاتے ان کے پاس لڑنے کے کاویری ندی کا پانی ہے، زبان ہے اور نت نئی ‘منیتر کڑگم’ ہیں، جن کا سلسلہ بھی لامتناہی ہے

✍️ لیکن ہم تو مسلمان ہیں اور وہ مسلمان جو محبتوں کے پھیلانے، دلوں کو جیتنے، امن و آشتی اور بھائی چارے کو فروغ دینے پر ایمان رکھتا ہے
ایسے ماحول سے نبرد آزما ہونے کی ہماری اوپر ایک ذمہ داری عائد ہوتی ہے
اور اللَّهُ کے رسول صل اللہ علیہ و سلم کی ایک حدیث کے مطابق
جسے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں
من قتل معاهدا لم يرح رائحة الجنة و ان ريحها توجد من أربعين عاما (صحيح البخاری)
ترجمہ: جس نے کسی معاہد یعنی غیر مسلم شہری کو قتل کیا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکے گا جب کہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی مسافت تک محسوس کی جاتی ہے

صرف گائے ہی نہیں، کسی بھی نام پر ہمیں فساد فی الأرض کی اجازت نہیں ہے
قرآن پاک کی سورة المائدة میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے

مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا

ترجمہ: جس نے کسی کو بغیر اس کے کہ وہ کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے والا ہو، قتل کردیا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا اور جو شخص کسی ایک کی جان بچالے اس نے گویا تمام لوگوں کو زندہ کردیا
دعاگو ہوں اللہ رب العزت میری اس جان بچانے کی ایک ادنی سی کوشش کو قبول فرمائے
آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *