فلم ‘پدماوتی’ کی اداکارا ‘دپیکا پادوکون’ سے “انصاری حنان” کی خاص ملاقات

Asia Times Desk

س : کئی ساری فلمیں کرلی آپ نے رانی مہارانیوں والے رول کی اور تاریخ سے متعلق توکیا کوئی ریکارڈ بنانے کا ارادہ ہے؟

ج : نہیں ایسا کچھ نہیں ہے میں ہمیشہ اچھی کہانیاں دیکھ کر ہاں کرتی ہوں اور اتفاق سے میری مچھلی کئی فلمیں سچی کہانیوں پر مبنی کسی نہ کسی رانی مہارانی اور مشہور شخصیات پر رہ چکی ہیں کہانی اچھی تھی تو میں نے ہاں کردیا ان تمام کے لئے!

س : سنجے لیلا بھنسالی کے ساتھ اس طرز کی کئی ساری فلمیں کوئی خاص وجہ کہ آپ ان کے ساتھ ایسے موضوعات پر کام کر رہیں ہے اور بھنسالی اپنے ایسے پروجیکٹس کے لئے آپکا انتخاب کر رہے ہیں؟

ج : ایسی کوئی خاص وجہ نہیں ہے لیکن ہاںمیری پچھلی فلم رام لیلا، اور باجی راؤ مستانی میں انکو میرا رول اور میری اداکاری شاید ذیادہ پسند آگئی ہوگی جو انہوں نے دوبارہ مجھے اپنے ایسے پروجیکٹ کے لئے یاد کیا جبکہ مجھے تو کہانی پسند ائی اوراسی لئے میں نے ہاں کر دیا جیسا کہ ابھی کچھ دیر پہلے بھی میں نے کہا!

س : پہلے ایسا ہوتا تھا۷۰ اور ۸۰ کی دہائیوں میں کہ ہیروئینوں کا کرئیر ۱۰ سے ۱۵ سال میں ختم ہو جاتا تھا لیکن آج قریب آپ کو انڈسٹری میں ۱۰سال مکمل ہو رہے ہیں تو اس پر آپ کیا کہیں گی؟

ج : اصل میں دیکھئے اس وقت میں سمجھتی ہوں کہ فلموں کو پروموٹ کرنے کے لئے اتنے ذرائع نہیں تھے جتنے ابھی کی ہیروئینوں اور فلموں کے میسر ہیں تو شاید یہ بھی ایک وجہ رہی ہوگی جبکہ اسی کے ساتھ آپ کی محنت بھی دیکھی جاتی ہے کہ آپ کتنا زور لگاتے ہیں اور کتنی محنت کرتے ہیںتو اوروں کا تو مجھے نہیں پتہ لیکن میں بہت محنت کرتی ہوں اور میں ہمیشہ سے بھنسالی فلم ہیروئین بنا چاہتی تھی لیکن میں نے کبھی بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ ایک ساتھ لگاتار مجھے بھنسالی پروڈکشن میں کام کرنے کا وقع ملے گا!

س : فلم پدھماوتی میں آپ نے ۳۰ کلو گرام کا لہنگا پہنا ہے اور اس سے بھی وزن میں کئی گنا ذیادہ  کے زیورات آپ زیب تن کی ہوئی نظر آرہی ہیں تو کبھی ایسا ہوا کہ شوٹ کے دوران اتنے وزن کو لیکر کوئی چیلنج یا پھر آپ نے مانگ کی ہو کہ کچھ وزن کم کردیا جائے؟

ج : انصاری جی آپنے بہت عمدہ سوال کردیا اور مجھے وہ بات یاد آگئی جب مجھ سے اتنا بھاری وزن کا لہنگا برداش نہ ہو رہا تھا اور میں نے پروڈکشن سے ڈیمانڈ کی کہ کچھ تو وزن کم کردیا جائے لیکن سچھ کہوں تو میں نے فرمائش تو کی تھی لیکن میری فرمائش کوپورا نہیں کیا گیا!

س : بطور رانی ڈائیلوگ ڈلیوری اور رانی والے اٹیٹیوٹ اور اسرورسوخ کو بنانے کے لئے سیلف پریکٹس اور پرسنل پریپریشن کتنا کرنا پڑھا اور خود کو اس رول میں ڈھال نے کے لئے آپ نے کیا کچھ کیا؟

ج : ایک رانی کے مونھ سے جاری ہونے والے فرمان یا جسے آپ ڈائیلوگ کہلو اسے صحیح طریقہ سے کرنے کے لئے میں نے بہت پریکٹس کی اور ان چیزوں پر فوکس کیا جس سے میں ایک رانی مہارانی کا کردار ٹھیک طریقہ سے نبھا سکوں شیشے کے سامنے پریکٹس کی اور رانی کی کہانیوں کا ساتھ لیا!

س : رانی پدھماوتی کی کہانی پر آپ کام کررہیں ہیں آپکو کتنا صحیح لگی یہ کہانی اور اسے سمجھنے کے لئے آپ نے کیا اقدام کئے؟

ج : مجھے بہت خوشی ہے کہ میں نے رانی پدھماوتی کا کردار نبھایا ہے اور مجھے اس بات پر فخر ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ رانی پدھماوتی ایک صحیح عورت تھی اور انہوں نے جو بھی کیا وہ صحیح کیا میں نے پہلے انکو پڑھا ہے اور ان پر ریسرچ کیاتبھی تو میں اس نتیجہ پر پہنچی ہوں اور بطور ایک عورت مجھے ان پر بھی فخر ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ ہم سبھی عورتوں کوان پر فخر ہونا چاہئے!

س : دپیکاآپ نے بتایا کہ آپ نے رانی پدھماوتی کو پڑھا ہے اور وہ بھی ایک خوبصورت رانی تھی اور آپ بھی بالیووڈ کی ایک خوبصورت رانی ہیں تو آپ خود میں اور رانی پدھماوتی میں کیا کچھ مساوی دیکھتی ہیں؟

ج : جی شکریہ کہ آپ نے مجھے خوبصورت رانی کہامیں خود کو رانی پدھماوتی کے مساوی چندچیزوں کو لیکر سمجھتی ہوں جس میں اول خوبصورتی ہے جسکا آپ نے بھی خود ذکر کردیا دوسرے انکی سمجھ اور سوچ، اور اپنے فیصلہ کرنے کے طریقہ کو میں انکے جیسا سمجھتی ہوں!

س : دپیکا کیا آپ کو پہلے سے اس بات کا علم تھا کہ یہ فلم کونٹرو ورشل ہو جائے گی اور فلم کو لیکر اتنے ہنگامے تنازع ہوں گے اور اتنے اشو بنائے جائیں گے؟

ج : میں اصل میں اس بارے میں کچھ نہ کہنا ہی بہتر سمجھتی ہوں ایسے معاملہ میں میرے خیال سے خاموش ہی رہنا ذیادہ بہتر ہوگا!

س : جو لوگ یا جو بھی جماعتیں اور طبقہ اس فلم کو لیکر تنازع بنا رہیں ہیں اور فلم کی نمائش کو اپنی ہر کوشش کے ذریعہ وہ روکنا چاہتے ہیں ایسے لوگوں سے آپ کیا درخواست کرنا چاہیں گی یا آپ کوئی میسیج دینا چاہتی ہیں؟

ج : میں ان سے یہی کہنا چاہتی ہوں کہ فلم کی نمائش میں کسی طرح کی کوئی رکاوٹ نہ بنیں اور فلم کو پر امن طریقہ سے ریلیز ہونے دیں اور جب آپ لوگ فلم دیکھیں گے تو فلم میں کیا دکھیا گیا ہے وہ سب خود بہ خود آپ کے سامنے آجائے گا اور میں سمجھتی ہوں کہ فلم کی ریلیز سے پہلے اورفلم کو پوری طرح سے دیکھے بغیر آپ یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ فلم میں کیا دکھایا گیا ہے اور کیا دکھانا چاہئے تھا یہ سب کام سینسر بورڈ کاہے اس میں عوام کو اتنا ہنگامہ کرنے کی کسی بھی طرح کی کوئی ضرورت ہے ہی نہیں!

اسے بھی دیکھیں 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *