مدھیہ پردیش میں سادھوؤں کو وزیربنائے جا نے کے بارے میں چیف جسٹس کو مکتوب

Asia Times Desk

نئی دہلی : صدر دہلی اقلیتی کمیشن ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے چیف جسٹس آف انڈیا کو خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ مدھیہ پردیش سرکار کے پانچ سادھوؤں کو وزیر مملکت کا درجہ دینے کے خلاف عدالت عالیہ سوو موٹو (ازخود) نوٹس لے۔ڈاکٹر ظفرالاسلام نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ مدھیہ پردیش حکومت کا یہ اقدام آئین ہند اور ہماری سیاسی اقدار کے خلاف ہے۔ مزید برآں یہ سرکاری خزانے پر غیر ضروری بوجھ ہے۔ ڈاکٹرظفرالاسلام نے مزید لکھا کہ مدھیہ پردیش کی حکومت اس اقدام سے اپنی فرقہ وارانہ سیاست پر عمل کررہی ہے تاکہ ووٹ بینک بنایا جاسکے اور ووٹروں کی قطب بندی ہوسکے۔

لاڈلا کنواں مسجد
دہلی اقلیتی کمیشن کے نوٹس کے جواب میں دہلی وقف بورڈ نے اپنا جواب بورڈ کے ذمہ داران کے محل وقوع کے جائزے کی رپورٹ کے ساتھ بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تعمیر روشن آرا روڈ پر واقع لاڈلا کنواں مسجدکی جگہ نہیں ہورہی ہے بلکہ اس سے ملے ہوئے پلاٹ نمبر ۵۰۱۲ پر ہورہی ہے جبکہ لاڈلا کنواں مسجد کا گزٹ شدہ پلاٹ نمبر ۵۰۰۶ سے ۵۰۱۱ ہے۔جس پلاٹ پر تعمیر ہورہی ہے اس کا تعلق مسجد یا وقف بورڈ سے نہیں ہے۔

مشرقی دہلی میں مسجد کے سامنے ہنگامہ آرائی
دہلی اقلیتی کمیشن نے مشرقی دلی کی ایک مسجد کے سامنے یکم اپریل کو ’’اکھنڈ بھارت مارچ‘‘ ، نعرے بازی، تلواروں کے بے ہنگم رقص اور فساد پھیلانے کی کوشش کے بارے میں منڈاولی ؍پٹپڑ گنج علاقے کے ڈی سی پی کو نوٹس بھیج کر پوچھا ہے کہ ان فتنہ گروں کے خلاف، جو فساد پھیلانا چاہتے تھے، کیا کارروائی کی گئی ہے۔

نیو عثمان پور علاقے کے ڈپٹی ڈائرکٹر ایجوکیشن کو نوٹس
اخباری اطلاعات پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے دہلی اقلیتی کمیشن نے علاقے کے ڈپٹی ڈائرکٹر ایجوکیشن سے سوال کیا ہے کہ اگر نیو عثمان پور میں اقلیت کے صرف چالیس فیصد بچے اسکول جارہے ہیں تو کیا محکمۂ تعلیم نے اس کا سروے کیا ہے اور کیا اس نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ساٹھ فیصد اقلیتی بچے کیوں اسکول نہیں جارہے ہیں۔کمیشن نے یہ بھی پوچھا ہے کہ کیا اسکول درخواستوں کو قبول نہیں کررہے ہیں اور کیا علاقے میں اسکولوں کی تعداد کافی ہے۔

بوانہ علاقے کے امام پر بس میں حملہ
دہلی اقلیتی کمیشن نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے شمالی دہلی کے ڈی سی پی سے رپورٹ مانگی ہے کہ ۸ اپریل کو بوانہ کے ایک امام مسجد پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے۔یاد رہے کہ بوانہ کی مسجد ابوبکر صدیق کے امام مولانا آفتاب احمد پر رات کو اس وقت کچھ شرپسندوں نے حملہ کردیا تھاجب وہ بس نمبر ۱۱۶ سے سفر کررہے تھے۔شرپسندوں نے ان کو تھپڑ مارے، گالیاں دیں اورانھیں مخصوص نعروں کو دہرانے پر مجبور کیا۔یہ شرپسند پرہلاد پور میں اتر گئے۔اس کے بعد مولانا آفتاب نے پولیس کو اطلاع دی۔ رات دیر ہونے کے باوجود پولیس نے ان کو سواری فراہم نہیں کرائی اور وہ رات ان کوپولیس اسٹیشن ہی میں گذارنی پڑی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *