دہلی کی مقبوضہ مساجد کے سلسلے میں اقلیتی کمیشن کا آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کو مکتوب

Asia Times Desk

نئی دہلی: دہلی اقلیتی کمیشن کے صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے۔ایس۔آئی) کی ڈائرکٹر جنرل اوشاشرما کہ خط لکھ کر دہلی میں محکمۂ آثارقدیمہ کے ہاتھوں مقبوضہ مساجد کو نماز کے لئے واگزار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے ۲۷ اگست ۱۹۹۳ کو م۔افضل ایم پی کے راجیہ سبھامیں ایک سوال پر حکومت کے جواب کا حوالہ دیتے ہوئے اے ۔ایس۔ آئی کہ لکھا ہے کہ دہلی میں آپ کے ادارے کے قبضے میں (۳۰) قدیم مساجد ہیں جنمیں سے صرف (۳) میں باقاعدہ نماز ہوتی ہے جبکہ (۲۷) میں نماز منع ہے۔

ان مساجد کی لسٹ منسلک کرتے ہوئے صدر اقلیتی کمیشن نے اے ۔ایس۔ آئی کو لکھا ہے کہ جس مقصد کے لئے ان مساجد کو تعمیر کیا گیا تھا، وہی ان مساجد میں ممنوع ہے جبکہ دوسرے مذاہب کی مذہبی عمارتوں میں اس طرح کی کسی ممانعت کی نظیر نہیں ہے۔ اقلیتی کمیشن نے مطالبہ کیا کہ ان تمام مساجد میں پنچ وقتہ نماز کی اجازت دی جائے تاکہ ان کی حفاظت اور صفائی کا تحفظ ہو سکے اور مجرم عناصر ان عمارتوں کا غلط استعمال نہ کر سکیں جوکہ فی الحال ایک عام بات ہے۔

صدر اقلیتی کمیشن نے اے۔ایس۔آئی سے تین سوالات کے جوابات بھی مانگے ہیں: ان مساجد میں کب سے اور کن وجوہات کی وجہ سے نماز بند ہوئی ہے؟ کس قانون کے تحت ان مساجد میں نماز کی اجازت نہیں دی جارہی ہے؟ اور کیا ایسی کوئی نظیرہے کہ دوسرے مذاہب کے مذہبی آثار قدیمہ میں پوجا اور مذہبی تقریبات کی ممانعت ہے؟ اگرایسا نہیں ہے تو ایسی مذہبی عمارتوں میں پوجا اور مذہبی تقریبات منعقد کرنے کی وجوہات بھی بتائی جائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *