جنتر منتر پر پہو نچا مسلم ریزرویشن کا مطالبہ ، پانچ نکاتی مطالبات صدر جمہوریہ کو کیا روانہ

Asia Times Desk

نئی دہلی : 9 فیصد مسلم ریزرویشن ، بیلیٹ پیپر سے انتخاب ، پرموشن میں ریزرویشن ،پرانی پنشن بحالی اور قانون کی حفاظت سے منسلک پانچ نکاتی مطالبات کو لیکر دلّی کے جنتر منتر پر محمد حنیف خان صوبائی جنرل سکریٹری تحریک فکر ملت فاؤنڈیشن یوپی کے قیادت میں ایک روزہ ’’دھرنا‘‘منعقد ہوا ، دھرنے میں مظاہرہ کرنے والے اپنے اپنے ہاتھوں میں تختیاں لئے مخالفت کرہے تھے خان نے مطالبات سے منسلک عرضی صدر جمہوریہ کو بھیجا ۔

اس موقع پر بھون ناتھ پاسوان قومی صدر ڈاکٹر امبیڈکر راشٹریہ ایکتا منچ اور اعجاز علی سابق ایم پی ، قومی صدر آل انڈیا یو نائٹیڈ مسلم مورچہ بھی موجود رہے ۔

ملک بھر سے ’’دھرنا ‘‘کو ملی عوامی حمایت کیلئے خان نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جس انتخابی آلہ کو ملک کی نصف سے زائد آبادی کی نمائندگی کرنے والے شک کی نظر سے دیکھتے ہوں اسے فوری تبدیل کر دینا چاہئے ۔ سیاست کے گرتے وقار سے مفکر جناب خان نے کہاکہ صحت مند سیاست کیلئے’’ عوامی منتخب نمائندہ سرکاری سہولیات ‘‘بند کرنی ہوگی تبھی کارو باری اور کرپشن لیڈروں کا خاتمہ ہوگا اور سماجی خدمت کا جذبہ رکھنے والے لیڈروں کا حوصلہ بڑھے گا %۹فیصد مسلم ریزرویشن پر خان نے کہا کہ مسلم طبقہ ملک کا سب سے پچھڑا طبقہ ہے بنا ریزرویشن کے انہیں اہم مفادی دفعہ میں نہیں لایا جا سکتا ہے ،۷۰ سالوں کی اندیکھی نے ہماری کمر توڑدی سچر کمیٹی اور رنگنا تھ مشرا کمیشن نے بھی مسلم سماج میں سب سے آخری نچلے پائدان پر بتایا ہے ان کی شفارش کو نافذ کرے بغیر ہمارے سماج کی ترقی ممکن نہیں ہے مرکزی حکومت کا مسلم کے تئیں اندیکھی اور اڑیل رویے کے چلتے ان سے ریزرویشن کی امید نہیں کی جا سکتی یہ تمام مدے مرکزی حکومت سے منسلک ہے جسے جناب خان نے کانگریسی قومی صدر سے مطالبا کیا کہ مسلم ریزرویشن سمیت پانچ نکاتی مطالبے کو ۲۰۱۹؁ء کے انتخابی منشور میں شامل کریں اپوزیشن میں جد وجہد کریں حکومت میں آنے پر پانچ نکاتی مطالبات کو منظوری دیں ۔

پاسوان نے دھرنے میں شریک لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ قانون میں تبدیلی کرکے مرکزی حکومت سازش کے تحت دلتوں اور اقلیتوں کے حقوق کی حق تلفی کرنا چاہتی ہے جناب پاسوان نے پرانی پنشن بحالی اور پرموشن میں ریزرویشن کے مطالبات کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ بھاجپا حکومت بہو جن اور اقلیتی سماج کو بانٹنے میں لگی ہے جنتر منتر پر قانونی کا غذات کو جلایا جانا مرکزی حکومت کی ناکامی کو اجاگر کرتا ہے ساتھ ہی حکومت کے ذریعہ سی بی آئی کا غلط استعمال ، سپریم کورٹ کے ججوں کا عوام کے بیچ آنا اور صدر جمہوریہ اور راجیہ پال جیسے قانونی عہدوں کی گرتی وقار ملک کے لئے بد قسمتی کی علامت ہے جس سے جمہوری دفاتر کے وقار گررہیٰںہے جناب پاسوان نے صدر جمہوریہ سے ان سنجیدہ مدّوں پر جلد ہی غور کرکے مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا ۔

دفعہ ۳۴۱ پر لگی مذہبی پابندی کے خلا ف طویل عرصے سے جد وجہد کر رہے سابق ایم پی ڈاکٹر اعجاز علی نے اعلیٰ ذات کے لوگوں کو ملے %۱۰ فیصدریزرویشن کو انتخابی اعلان بتاتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کے ذریعہ اس مدے پر نہ تو کوئی کسی کمیٹی کی تشکیل کی گئی اور نہ ہی پچھڑے اعلیٰ ذات سے منسلک اعداد شمار حاصل کئے گئے انتخاب نزدیک دیکھ کر صرف ووٹوں کی لالچ میں قانون طاق میں رکھ کر جلد بازی میں اعلان کردی گئی ہیں مسلم ریزرویشن پر دو دو کمیٹیوں کی تفصیلی رپورٹ اور سفارش کرنے کے بعد بھی مرکزی حکومت مسلم سماج کے تئیں دوہر ا رویا اپنائے ہے جناب اعجاز علی نے مرکزی حکومت سے دفعہ ۳۴۱ میں ترمیم کر مسلم سماج کو % ۱۰ فیصد ریزرویشن دینے کا مطالبہ کیا اور مطالبات نہ پورے ہونے پر مجاہد قومی لیڈر محمد حنیف خان کے قیادت میں پورے ملک میں آندولن چھیڑنے کا اعلان کیا ۔

دھرنے کو مسلم یوناٹیڈ مورچہ کے قومی ترجمان غلام سرور ، ڈی ،سی ، کپل قومی کنویز آل انڈیا دلت مسلم یونائٹیڈ مورچہ، ڈاکٹر امبیڈکر قومی یکتا منچ کے قومی نائب صدر اوپی گوتم دہلی کے نائب ناظم ڈاکٹر آربی سروج ، محمد قاسم ممبر مائنارٹی کمیشن دلی ، حسین احمد خان قومی صدر ینگ مسلم سوسائٹی فاؤنڈیشن ،سندیپ کیشکر،آنند پرکاش، رادھے شیام رام نائب صدر مرکزی وحلقہ شمالی اتر ریلوے جنرل سکریٹری نے خطاب کیا دھرنے میں خصوصی طو ر پر ممتاز الحق سابق پرنسپل دلّی حکومت ، کے پی سنگھ ایڈو کیٹ دلی، خلیق احمد میرٹھ ، حافظ اقبال میرٹھ، عزیز خان پردھان ہردوئی ، شفیق احمد ہردوئی ، کے پی سنگھ اگر ونشی ہردوئی ، محمد وقار جاوید سہارنپور، محمد فیروز خان ندوی ، ڈائریکٹر قاسمیہ پبلک اکیڈمی حافظ حفیظ اللہ ، پرویز عالم خان ، معارف علی خان ، رفعت شیدا صدیقی ، شاعر رضوانہ صدیقی لکھنؤ سے شامل تھے ، دھرنے کی نظامت تحریک ملت فاؤنڈیشن یوپی کے نائب صدر قاری ظفیر عالم نے کی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *