برہمپوری مسجد کے سلسلے میں ڈی سی پی شمالی مشرقی ضلع کو اقلیتی کمیشن کا نوٹس

Asia Times Desk

نئی دلی: دہلی اقلیتی کمیشن نے از خود نوٹس لیتے ہوئے برہمپوری کی گلی نمبر ۸ میں واقع ایک مسجد کے سلسلے میں ہونے والے تصفیے کے بارے میں شمالی مشرقی ضلع کے ڈی سی پی کو نوٹس جاری کرکے پوچھا ہے کہ جس قطعۂ زمین کے بارے میں تصفیہ ہوا ہے،اس زمین کی قانونی حیثیت کیا ہے اور کیا اس قطعۂ زمین پر ایک مذہبی عمارت بنانے میں کوئی قانونی مسئلہ حائل ہے۔

اقلیتی کمیشن نے اپنے نوٹس میں یہ بھی پوچھا ہے کہ تصفیہ کا معاہدہ یہ کیوں کہتا ہے کہ مذکورہ جگہ کو مسجد یا مدرسہ میں نہیں بدلا جائے گا، اور صرف ۱۶ بزرگ لوگوں کو وہاں نماز پڑھنے کی اجازت ہوگی اور ان کی شناخت کے کاغذات پولیس کو مہیا کرائے جائیں گےاور یہ کہ باہر سے آنے والا کوئی شخص وہاں نماز نہیں پڑھے گا اور نہ ہی وہاں کوئی پروگرام کرے گا اور یہ کہ وہاں لاؤڈسپیکرکا استعمال نہیں کیا جائے گا۔

کمیشن نے سوال کیا ہے کہ ان شرطوں کا کیا جواز ہے اور کیا یہ شرطیں آئین ہند کی دفعات ۲۵ ۔۲۸ سے نہیں ٹکراتی ہیں جو ہندوستانی شہریوں کو مکمل مذہبی آزادی دیتی ہیں۔ کمیشن نے اپنے نوٹس میں مزید پوچھا ہے کہ پولیس کو اس طرح سے شہریوں کی آزادیوں کوچھیننے اور لڑائی پر آمادہ ایک گروپ کی تایید کرنے کا کیا حق حاصل ہے۔ اس تایید میں پولیس نے مبینہ طور پر ایک گروپ کو لمبے عرصے تک جیل بھیجنے کی دھمکی بھی دے ڈالی ہے۔

پریس رپورٹوں کے مطابق اس علاقے میں باہر سے سائیکل سوار نوجوان آکر نفرت پھیلاتے ہیں۔ کمیشن نے اپنے نوٹس میں پوچھا ہے کہ ان نوجوانوں کے خلاف پولیس نے کیا کارروائی کی ہے جو علاقے کے فرقہ وارانہ ماحول کو خراب کرنے کے درپے ہیں۔ کمیشن نے جواب کے لئے ڈی سی پی ضلع شمالی مشرق کو ۱۷؍ ستمبر تک کا وقت دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *