ملک کی سب سے بڑی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی میں بھی کرپشن ،اب کس پر کیا جائے اعتماد ؟:ڈاکٹر محمد منظور عالم 

Asia Times Desk

نئی دہلی (پریس ریلیز) سی بی آئی ملک کی سب سے بڑی تفتیشی ایجنسی ہے ،پارلیمنٹ کے سامنے بھی یہ جوا ب دہ نہیں ہے ۔کسی بھی معاملہ کی سچائی اور حقیقت جاننے کیلئے سی بی آئی سے انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا جاتاہے لیکن ہندوستان کی تاریخ میں اب یہ ادارہ بھی مشکوک ہوگیا ہے،
افسران پر رشوت لینے کا سنگین الزام ہے،سی بی آئی خود سی بی آئی کے خلاف تفتیش کررہی ہے ،اپنے افسران کے خلاف انکوائری کررہی ہے ان خیالات کا اظہار آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کیا ۔
انہوں نے مزید کہاکہ سی بی آئی میں اس وقت جو کچھ ہورہاہے اس سے ملک کا سب سے موقر ادارہ مشکوک ہوگیاہے ،عوام مایوس ہوچکی ہے کہ و ہ کیا کرے ،انہوں نے سوالیہ انداز میں حکومت سے پوچھا کہ آخر سی بی آئی میں جاری اس جنگ کو کیا سمجھا جائے ،یہ کس بات کی طرف اشارہ ہے اورکیا اس کی گذشتہ کار کردگی اب قابل اطمینان اور صحیح سمجھی جاسکتی ہے ۔
ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کہاکہ بی جے پی کرپشن ختم کرنے کے نام پر اقتدار میں آئی تھی ،لیکن شروع سے یہ پارٹی کرپشن میں ملوث ہے ،پی ایم سے لیکر ایم پی ا ور ایم ایل اے کے ملوث ہونے کے ساتھ اب سی بی آئی جیسے ادارے بھی اسی زمرے میں شامل ہوگئے ہیں۔جن اداروں کے ذریعہ کرپشن کی تحقیق کرائی جاتی ہے ،جن کی ذمہ دار ی کرپٹ چہروں کو اجاگر کرناہے آج وہی اد ارے اس میں ملوث ہوچکے ہیں ۔

مودی حکومت کے ساڑھے چار سالوں میں سب سے زیادہ کرپشن ہواہے لیکن اب سی بی آئی جیسے ادارے کا بھی اس میں ملوث ہوجاناہے ملک اور عوام کیلئے بہت بڑا جھٹکا اور یہ سوچنے پر مجبور کررہاہے کہ آخر اب کس پر بھر وسہ کیا جائے ،کس پر اعتماد کیا جائے اور کسی انصاف کی امید لگائی جائے اور یہ سوال سب سے اہم ہے کہ آخر سی بی آئی میں کرپشن کا یہ کھیل کب سے جاری ہے ،کیسے اس کی تحقیق ہوگی اور کیا اس کی گذشتہ تحقیق اب بھی معتبر مانی جاسکتی ہے ؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *