طب یونانی کو مسیحا کی ضرورت

از -ڈاکٹر محمد عمار خان

Asia Times Desk

اٹھ کہ بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے
قوموں کی ترقی لئے اچھے لیڈر کا ہونا ضروری ہے جس کے بغیر ترقی کی امید صرف ایک خواب کی حیثیت رکھتی ہے طب یونانی کی موجودہ صورتحال کسی سے مخفی نہیں – آج طب یونانی اپنی بقاء کی جنگ لڑرہا ہے طب یونانی کے حکماء اپنے مسائل اور دردکی گٹھری اٹھائے محض اپنا رونا رو رہا ہے ایسے مایوس کن اور گھسے پٹے معاثرہ کا بوجھ اٹھانے اور اپنے زخم چھپا کر دوسروں کے زخموں پر مرہم لگانے کے لئے اللہ نے طب یونانی کی خدمت کے لئے خدا داد صلاحیت سے آراستہ ڈاکٹر شہنواز عالم خان کی شکل میں طب یونانی کو اسکے کھوئے ہوئے وقار کی جستجو کے لئے ایک عظیم مسیحا سے نوازہ ہے
ڈاکٹر شہنواز صاحب سے میری ملاقات2002میں ایک سینئر اور جونئر کی حیثیت سے جامعہ ہمدرد میں ہوتی ہے جو رفتہ رفتہ ایک بڑے بھا ئی اور چھوٹے بھائی کے مقدس رشتہ میں
کب تبدیل ہوتی ہے احساس ہی نہیں ہوا بحمد اللہ آج بھی ھمیں ڈاکٹر شہنواز صاحب کی مکمل سرپرستی حاصل ہے
 
CCIM MEMBAR SHIP2018 کے الیکشن کا بگل بج چکا ہےبہت سارے نام نہاد طب یونانی کے بہی خواں بھی لاہ لشکر لیکر میدان میں کود پڑینگے ہونگے لیکن میری نظر میں ڈاکٹر شہنواز خان کو جو اور لوگوں سے جو چیز ممتاز کرتی ہے وہ ہے انکی بے باکی جو دل میں ہوتا ہے وہی انکی زبان پر ہوتا ہے ڈاکٹر شہنواز ہمیشہ خدا لگتی کہتے ہیں انکی باتوں سے کون خوش ہوتا ہے کون ناک بھوں چڑہاتا اسکی پرواہ کبھی. نہیں کی حتی ایک وقت انکی اسی خدا لگتی و حق گوئی کی وجہ سے انہیں مشکلات و مصائب کا سامنا بھی کرنا پڑا مگر انمیں جو جوہر شہنواز ہے وہ کسی انسان کا عطاء کردہ نہیں بلکہ عطیہ الہی ہے ڈاکٹر شہنواز کی معیت میں ایک طویل عرصہ گزارنے کے بعد جو چیز واضح طور پر میرے اوپر نکھر کر آتی ہے کہ وہ ایک مخلص منافقت سے پاک بہادر مگر تکبر سے پاک صاحب رائے مگر ضدی نہیں ہے حق بات تو کہتے ہیں مگر دل کینہ و بغض سے پاک
ڈاکٹر شہنواز نے ہمیشہ ملی ؛ سماجی خصوصاً طب یونانی کے مسائل کے تعلق سے بہت فعال متحرک رہتے ہیں اعظم گڑہ سے دہلی تک ہمیشہ طبیبوں کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے حاضر رہتے ہیں
یہ وہ حقیقت ہے جسکا اعتراف ڈاکٹر شہنواز خان کا سخت سے سخت مخالف بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا -انہی وجوہات کی بناء پر میں تمام حکماء اتر پردیش سے عاجزانہ درخواست کرتا ہو کہ ایک بار خلوص کے پیکر مخلص لیڈر طب یونانی کے مرد مجاھد تحریک ھمدرد کے جانباز سپاہی کو اپنا نمائندہ بناکر بھجئے تاکہ وہ یونانی کے کھوئے وقار کی جستجو کر سکیں
آپ کا ایک ووٹ سے طب یونانی کی تقدیر بدل سکتی ہے اپنے ووٹ کو رشتہ ؛تعلق علاقہ کالج کی نذر چڑھانے سے قبل صرف اور صرف طب یونانی کی بقا کے لئے اپنا قیمتی ووٹ ڈاکٹر شہنواز عالم خان کو دیکر طب یونانی کے تئیں اپنی وفاداری کا ثبوت دیں
انشاء اللہ آپ کا قیمتی ووٹ رائگاں نہیں جائگا آپ کا یہ ووٹ طب یونانی کی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوگا. فقط و السلام
فخریہ ھیلتھ سینٹر
چینی مل گھوسی مئو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *