مدارس میں سائنس کی تعلیم ; علی گڑھ میں عالمی مذاکرہ کی دعوت

راشد شاز: ڈائریکٹر  مرکز برائے فروغِ تعلیم وثقافت مسلمانان ہند  علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ

admin

futureislam@gmail.com

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مختلف شعبہ ہائے علوم وفنون اور معاہدومراکز میں مرکز برائے فروغ تعلیم وثقافت مسلمانان ہند کو یہ خاص امتیاز حاصل ہے کہ ہندوستانی پارلیامنٹ نے یونیورسٹی ایکٹ ۱۹۸۱ ؁ء(۵(۲) سی کے تحت اسے پورے ہندوستان میں مسلمانوں کے مابین تعلیم وثقافت کے فروغ کا اختیار سونپ رکھا ہے۔ جہاں یونیورسٹی کے جملہ ادارے کوئی تیس ہزار طلباء وطالبات کی تعلیم وتربیت کا کام انجام دے رہے ہیں صرف ایک مرکز کو ملک کے مختلف اطراف واکناف میں پھیلے ہوئے بیس کروڑ ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان تعلیم وثقافت کے فروغ کا کام انجام دینا ہے۔

کوئی چار سال پہلے اس مرکز نے فارغین مدارس کے لیے برج کورس کے نام سے یک سالہ کورس وضع کیا تھا۔ ہماری خواہش تھی کہ دینی مدارس کے وہ فارغین جو یونیورسٹی میں عربی، فارسی، اردو یا دینیات کے علاوہ دوسرے تمام علوم وفنون کے دروازے اپنے اوپر بند پاتے ہیں اور جو ایک طرح کی دائمی او ر ناقابل تلافی احساس محرومی کے ساتھ یونیورسٹی لائف کی شروعات کرتے ہیں ، ان کے لیے بھر پور علمی زندگی جینے اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کا ایک باوقار راستہ نکل آئے۔

یہ محض خدا کا فضل ہے کہ پچھلے دو تین سال کے تجربوں نے نوجوان علماء وعالمات پر علوم وفنون کی نئی دنیا واکی ہے۔ اس وقت ہمارے (برج کورس) طلباء وطالبات قانون، تجارت، سیاحت، معاشیات اور انگریزی ادب کے علاوہ مختلف عمرانی علوم کے شعبوں میں امتیازی کامیابیوں کے ساتھ حصولِ علم میں سرگرم ہیں۔ مسرت افزابات یہ ہے کہ انگریزی اسکول سے آنے والے اپنے ہم سبقوں کے مقابلے میں ان نئے علماء وعالمات کی کارکردگی کہیں بہتر ہے۔ نئے علماء کا یہ قافلہ خود اعتمادی اور خدا اعتمادی سے سرشار ہے۔

اب تک ان کے پیشر وعربی، فارسی اور اسلامیات تک محدود رہنے کے سبب یونیورسٹی میں خود کو دوسرے درجے کا طالب علم سمجھتے تھے۔ چند ماہ میں ان کی ظاہری ہیئت کچھ اس طرح بدلتی کہ ان کے ناموں میں اگرندوی یا قاسمی لاحقے نہ ہوں تو یہ پتا کرنا مشکل ہوتا کہ ان کا تعلق بھی کبھی کسی دینی درسگاہ سے رہا ہے۔ اس کے برعکس یہ نئے علماء جو علوم جدیدہ میں اپنی کامیابی کی داستان رقم کررہے اس احساس سے سرشار ہیں کہ انگریزی ادب، معاشیات یا قانون وتجارت وسیاحت کے شعبوں میں اپنے ہم سبقوں پر بازی لے جانے کے علاوہ مدرسے کی ابتدائی تعلیم نے انہیں مشرقی اور اسلامی علوم پر جو دسترس عطا کی ہے وہ خدا کا ایک فضل خاص ہے۔ یہ ایک ایسا اضافی سرمایہ ہے جو آیندہ بھی علمی زندگی میں انھیں اپنے ہم سبقوں پر تفوق عطا کرتا رہے گا۔

برج کورس کا یہ تجربہ صرف اہلِ مدرسہ کے لیے ہی نہیں بلکہ یونیورسٹی کے لیے بھی ایک خوشگوار اور امید افزا تجربہ رہا ہے۔ذہین نوجوانوں کی ایک ایسی کھیپ جو دین کے مراجع ومآخذ سے راست واقفیت کے سبب تحقیق وجستجو کے جدید مناہج کو متاثر کرسکے، ایسے لوگ اتنی بڑی تعداد میں ہماری جدید دانشگاہوں میں اس سے پہلے اس طرح داخل نہیں ہوسکے تھے۔ یونیورسٹی کی منجمد وتقلیدی علمی زندگی میں ہم اسے تازہ خون کے داخلے پر محمول کرتے ہیں۔

سوشل سائنسز ، کمپیوٹر اپیلی کیشن، قانون وتجارت اور انگریزی ادب میں فارغین مدارس کی قابل ذکر کامیابی کے بعد اب ہماری کوشش ہے کہ خالص سائنس اور ٹکنالوجی بشمول میڈیکل سائنسز اور انجینئرنگ کے دروازے بھی فارغین مدارس پر کھل جائیں۔ گو کہ میڈیکل یا انجینئرنگ میں داخلے کو ہم علمی فتوحات کی معراج ومنتہیٰ نہیں سمجھتے لیکن ہم یہ ضرور چاہتے ہیں کہ جس طرح دوسرے طلباء کے لیے امکانات و استفادے کے تمام دروازے کھلے ہوتے ہیں اسی طرح اہل مدرسہ پر بھی تمام علوم کے دروازے کھلے ہوں خواہ وہ انھیں اپنے لیے منتخب کرنا پسند کریں یا نہیں۔

دو سال پہلے سائنس اسٹریم کے پہلے بیج کی ترتیب وتنظیم کے دوران ہمیں اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ ہمارے فارغین میں سائنس کے تئیں والہانہ ذوق وشوق کے باوجود اس بنیادی معلومات کی سخت کمی ہے جس پر ہم ایک نئی عمارت تعمیر کرنا چاہتے ہیں ۔ گذشتہ ربع صدی میں سیکولر اسکولوں میں سائنس کی تعلیم میں مواد اور معیارہر دواعتبار سے حیرت انگیز تبدیلی آئی ہے۔ دینی مدارس میں پڑھائے جانے والے معلوماتِ عامہ، جغرافیہ اور الطقس والمناخ کے واجبی علم سے اب نئے سائنسی نصاب کی بنیاد کا کام نہیں لیا جاسکتا۔ جب مشرق کی تابندہ جامعات اس احساس میں جیتی ہوں کہ ان کی پیہم کوششوں کے باوجود سائنس کی نئی فتوحات کا قبلہ وکعبہ اب بھی دور مغرب میں واقع ہے، جہاں ہمارے سائنسی ماہرین کی فوج ظفر موج اب بھی کیچ اپ سنڈروم سے باہر نہ آسکی ہو وہاں یقیناًہمیں یہ توقع بھی نہیں کرنا چاہیے کہ موجودہ دینی مدارس سائنسی علوم کی مبادیات کے سلسلے میں کوئی تسلی بخش کام انجام دے سکتے ہیں۔ البتہ اسلام کی تہذیبی تاریخ پر جن لوگوں کی نظر ہے وہ اس نکتہ سے ناآگاہ نہیں کہ سائنسی فتوحات کے قبلہ وکعبہ کی عالم اسلام میں منتقلی کے لیے لازم ہے کہ اس تحریک کو دینی درسگاہوں اور بالغ نظر علماء کی معاونت اور مشائیت حاصل ہو۔ جب تک مسلمان تسخیر واکتشاف کو ایک مذہبی فریضے اور دینی ذمہ داری کے طور پر انجام دیتے رہے اور جب تک دینی درسگاہوں میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے جو بیک وقت سائنسی علوم کے موجدو مکتشف رہے اور مآخذ دین پر ان کی دسترس بھی رہی، ہماری قرآنی تہذیب کا تخلیقی سرچشمہ جاری رہا۔ اقوام عالم پر ہمارا تفوق برقرار رہا۔

اس بات پر اہل مدرسہ جتنا بھی فخر کر یں کم ہے کہ تہذیب کی یہ تابانی، جس کے دم سے معاصر دنیا کی چمک دمک قائم ہے، اس کی بنیاد ہمار ے علمائے شرع نے ہی رکھی تھی۔ تہذیب کا یہ قالب جو فطرت پرستی کے بجائے کتابِ کائنات میں غوروفکر اور تسخیر واکتشاف سے عبارت ہے دراصل وحیِ قرآنی کا رہین منت ہے جو بندوں کو تفکر وتدبر اور تعقل کا فن سکھاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان علماء نے اکتشافی علوم کی اپنے خونِ جگر سے آبیاری کی۔نصیر الدین طوسی جن کے طوسی کپل (الصغیر ۃ والکبیرۃ) کے بغیر کائنات کی تفہیم نہیں اپنے عہد کے کبار اسماعیلی علماء میں شمار ہوتے تھے ۔ ان کے شاگرد قطب الدین شیرازی جو مراغہ کی رصد گاہ سے وابستہ ایک معروف سائنس داں تھے بیک وقت اصولِ حدیث اور فنِ تفسیر میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ ابن نفیس ، جو ابن سینا کے القانون فی الطب کے محاکمے کے لیے مشہورہیں ، فقہِ شافعی کے اساطین میں سے تھے۔ اسی طرح نظام الدین نیشا پوری جو اپنی سائنسی تالیف شرح التذکرہ اور شرح المجسطی کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں ، وہ بیک وقت غرائب القرآن ورغائب الفرقان کے مصنف بھی ہیں۔ ابن شاطر جن کی تحریروں سے مغرب میں نئے نظام کائنات کی بحث شروع ہوئی اور جس کے سرقے سے کوپرنکس کو مغرب میں جدید دنیا کا بانی مبانی سمجھا گیا انکی بابت تو ہر شخص کو معلوم ہے کہ وہ دمشق کی مسجد اموی میں موقیت کے عہدے پر مامور تھے۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی جن کے التباس فکری اور آزاد خیالی کا چر چا ہوتا رہا ہے جس میں ابن رشد کا نام سرِ فہرست ہے وہ بھی اشبیلیہ اور قرطبہ میں عہد ۂ قضا سے وابستہ تھے۔ گویا ظور اسلام سے سولہویں صدی بیسوی تک تحریک تسخیر واکتشاف بنیادی طور پر ایک مذہبی تحریک تھی جس کی کمان اہلِ مدرسہ کے ہاتھوں میں تھی۔

برج کورس کا قیام دراصل ا س خیال سے عبارت ہے کہ قرآنی تہذیب کا جو سرچشمہ گزشتہ چندصدیوں سے خشک چلا آتا ہے، اور جس کے عوامل اور تجزیہ کا یقیناًیہ موقع نہیں، اسے پھر سے بتمام وکمال جاری کردیا جائے۔کل بھی اہلِ مدرسہ نے ا س کا م کو انجام دیا تھا آج بھی اس تہذیب کی تابانی کا کوئی کام ان کے بغیر انجام نہیں پاسکتا۔ ہم چاہتے ہیں کہ فارغین مدارس کے لیے سائنسی علوم کے امکانات کا جائزہ لینے اور مستقبل کی منصوبہ بندی میں ارباب دانش کی رہنمائی اور مشائیت ہمیں ضرو ر حاصل ہو۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سائنسی اور دینی علوم کے حاملین— یونیورسٹی اور دینی جامعات—ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ امت کی شیرازہ بندی میں ایک دوسرے کے معاون او ررفیق بن سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم لوگوں نے ۱۲ اور ۱۳ ؍ مارچ ۲۰۱۸ ؁ء کو کل ہند سطح کی ایک دوروزہ مجلسِ مشاورت کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔مزیدتفصیلات درج ذیل سائٹ پر ملاحظہ کریں

:amucoference.org ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *