ٹی وی چینلس پر مولوی نُما مداری  مولوی نُما، ٹوپی، داڑھی، اور ٹیلی ویژن کا کھیل مداری

ڈاکٹر شفیع ایوب

Asia Times Desk

 کوئی ہے اس ملک میں جو اِن جاہلوں کو ٹی وی چینلس کے کمینے پن کا حصہ بننے سے روک لے ۔ یہ ننگ قوم ، مینارہ جہالت اپنی بدبختی کی انتہاﺅں کو پہنچ چکے ہیں۔ ہر با شعور شہری ان کی بدزبانی اور جہل آشفتہ بیانی سے عاجز ہے۔ یہ بے ضمیر ، قوم فروش چند سکوں کے عوض اپنی حرمت کو ٹی وی چینلس کے دلالوں کو نیلام کر رہے ہیں۔ یہ جہلان مطلق ، جاہل ابن جاہل ، یا تو معصوم بہت ہیں یا پھر شاطر اور کمینے بہت ہیں۔ یہ ٹی وی چینلس کی سازش میں شامل ہیں یا پھر نام و نمود کا بواسیر ہو چکا ہے ان کو۔ الکشن کے اس موسم میں ان کی قیمت بھی کچھ بڑھ چکی ہے۔ ٹی وی نیوز چینلس کی خوراک ہیں یہ بد بخت دھرتی کے بوجھ ۔ ہمارے ملک میں زیادہ تر ٹی وی چینلس اپنی ذمہ داریوں کو بھول چکے ہیں۔ وہ اپنی ذلالت کی انتہاﺅں کو پہنچ چکے ہیں۔ ان ٹی وی چینلس کے شوز کو مداری کا کھیل کہنا دراصل مداریوں کی توہین ہے۔

مداری کھیل تماشہ دکھا کر سب سے پہلے لوگوں کی تفریح کا سامان فراہم کرتا ہے اور کچھ پیسے کماتا ہے تاکہ اس کے بیوی بچے دو وقت کی روٹی کھا سکیں۔ لیکن ٹی وی چینلس اب کھلے عام کسی سیاسی جماعت کی سیاسی مہم کا حصہ بن چکے ہیں۔ صحافت تو ان ٹی وی والوں کے لئے کب کی مر چکی ہے۔ اب کہیں کہیں دلالی کو صحافت کا نام دیا جا رہا ہے۔ آپ کو اگر یہ ٹی وی شوز دیکھ کر اُبکائی نہیں آتی تو اس کا مطلب آپ کا دل گردہ بہت مضبوط ہے۔ ٹی وی پر نیوز سنتے ہوئے اگر آپ کو اُلٹی آنے لگے تو آپ کو سمجھنا چاہئے کہ ابھی آپ کا ضمیر زندہ ہے اور آپ غلاظت و خوشبو کے فرق سے ابھی آشنا ہیں۔ ٹی وی چینلس پر صبح سے شام تک یا تو ہندو مسلمان ہوگا یا پاکستان ۔ کچھ وقت بچ گیا تو تنتر منتر سادھنا۔ یا پھر قوت باہ کی دوائیوں کا اشتہار۔ خدا کی پناہ۔ ٹی وی نے زندگی اجیرن کر دیا۔ اس ملک میں ایک سیاسی جماعت ہے، اس کے تین اہم ٹھکانے ہیں۔ مسلمان ، پاکستان اور قبرستان۔ اس سیاسی جماعت نے کئی ٹی وی چینلس کو خرید لیا ہے یا گود لے لیا ہے۔

ان ٹی وی چینلس پر اسی سیاسی جماعت کے کچھ جائز ناجائز اولادیں ہر وقت مسلمان، پاکستان اور قبرستان کی رٹ لگانے پر معمور کئے گئے ہیں۔ یہاں ہر شو میں کسی” مولوی نُما “ کی سخت ضرورت ہے۔ یہ ہٹلری آقاﺅں کے زرخرید غلام کسی پڑھے لکھے عالم دین کو اپنے ٹی وی چینلس پر، اپنے اسٹوڈیو میں نہیں بلائیں گے۔ کسی مولوی ، مولانا، مفتی کو نہیں بلائیں گے۔ انھیں اپنے شو کے لئے کوئی ” مولوی نُما“ چاہئے۔ کیا ان کے پاس تین طلاق پہ بات کرنے کے لئے پروفیسر طاہر محمود اور پروفیسر فیضان مصطفی کا فون نمبر نہیں ہے ؟ پاکستان سے رشتوں پر بات کرنے کے لئے شاہد صدیقی اور انجم نعیم کا پتہ انھیں نہیں معلوم ہے ؟ مسلمانوں کے مسائل پہ بحث کا حصہ بننے کے لئے پروفیسر انور پاشا، پروفیسر اخترالواسع، پروفیسر خواجہ اکرام، ڈاکٹر قاسم رسول الیاس، اشرف بستوی، م افضل ، محمد ادیب، شکیل حسن شمسی، مولانا مفتی مکرم احمد، ڈاکٹر ظفرالااسلام خاں،ودود ساجد، احمد جاوید اور ایسے نہ جانے کتنے لائق فائق دانشوران قوم و ملت کا فون نمبر ان ٹی وی چینلس والوں کے پاس نہیں ہے ؟ سب ہے، لیکن انھیں تلاش کسی ”مولوی نُما“ کی ہے۔ ان دنوں ایک خود ساختہ دینی جماعت کا سربراہ اکثر ٹی وی چینلس پر چیختا چلاتا نظر آ جائے گا۔

یہ ننگ قوم مار پیٹ کرنے سے بھی باز نہیں آئے گا۔ ایک ٹور اینڈ ٹریول ایجنسی چلانے والا ” مولوی نُما“ بھی ٹی وی چینلس پر بحث کرتا نظر آئے گا۔ کوئی اپنے نام میں ڈاکٹر کا دُم چھلّہ لگا کر ، مولوی جیسی داڑھی بڑھا کر ، اپنی جہالت کا پٹارا لئے اسٹوڈیو میں پہنچ جاتا ہے۔ جس شخص کو اس کے محلے والے ایک کپ چائے کو نہ پوچھتے ہوں وہ اپنی داڑھی ٹوپی کے بل بوتے ٹی وی اسٹوڈیو میں پہنچ جا رہا ہے۔ اور دنیا کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ یہی شخص ہمارا آپ کا نمائندہ ہے۔ سبھی نہیں لیکن زیادہ تر ٹی وی چینلس کو آج مداری کا کھیل کہنا دراصل مداریوں کی توہین ہے۔مداری تو کھیل تماشہ دکھا کر ، بھالو بندر نچا کر ( مینکا گاندھی کی مہربانی سے اب بھالو بندر نچانا بھی بند ۔ ہاں آپ جب چاہے اولاد آدم کو نچا سکتے ہیں ) تفریح کا سامان بہم پہنچاتا ہے، اور اپنے کنبے کی کفالت کی صورت پیدا کرتا رہا ہے۔ لیکن یہ ٹی وی چینلس تو انسانی زندگی کو خون و آگ کے حوالے کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ جنگ کی ایک فضا تیار کر رہے ہیں۔ سرحد پہ چاہے جو بھی صورت ہو لیکن ٹیلی ویژن کے اسٹوڈیو میں جنگ برپا ہے۔

یہ ٹی وی چینلس والے مالیخولیہ کے مریض ہو چکے ہیں۔ ایک فوبیا کا شکار خود ہیں یا ملک کے باشندوں کو فوبیا کا شکار بنا رہے ہیں۔ ان کے موضوعات کیا ہیں ؟ غور کیجئے۔ ہندو مسلمان ، بابری مسجد ، کاشی ، ایودھیا ، متھرا ، ذاکر نائک ، تین طلاق ، حلالہ ، گﺅ کشی ، گﺅ رکشا ، آتنک واد ( بھگوا نہیں ) ، کشمیر ، پاکستان ، جنگ ، ٹینک ، گولا بارود یا اسی طرح کے دوسرے موضوعات۔ دن رات رٹ لگائے ہوئے ہیں۔ اپنے ان ناپاک موضوعات کو زیادہ کار آمد بنانے کے لئے ان ٹی وی چینلس کو داڑھی ٹوپی لگائے ہوئے کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو شکل سے مسلمان معلوم ہو۔

اگر مولا نا جیسی صورت ہو تو اور اچھا رہے گا۔ ٹی وی چینلس کے ان ناپاک منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے، اور ان کے دوزخ کو بھرنے کے لئے ہمارے معاشرے میں اچھی خاصی تعداد میں ملت فروش موجود ہیں۔ رذالت اور ذلالت کے کوہ گراں اب ہر بستی میں موجود ہیں۔ کوڑیوں کے مول بکنے کو تیار یہ ان رذیلوں کو اب اچھے دام بھی ملنے لگے ہیں۔ یہ تو لنچ اور ڈنر کے لئے اپنا دین دھرم ایمان بیچنے کو تیار بیٹھے تھے.

کہاں اب ہزار دو ہزار روپیوں کی انکم بھی ہونے لگی۔ اور ٹی وی پر اپنی حرام صورت دیکھ کر خوش بھی بہت ہوتے ہیں۔ جہالت کے کوہ گراں پر کھڑے یہ مولوی نُما یا مسلمان نما جاندار ، جان بوجھ کر یا انجانے میں اپنی قوم کی وہ توہین اور ذلت کا سامان فراہم کر رہے ہیں کہ ملک کا ایک نیک ایماندار ، پڑھا لکھا ، سمجھدار ، مسلمان شہری اپنے وجود پر ذلت محسوس کرنے لگے۔ ان بے شرموں کو ٹی وی پر بحث کرتے ہوئے اور اینکر کی جھڑکی کھاتے ہوئے، رائٹ ونگ کے دبنگوں سے ڈانٹ کھاتے ہوئے دیکھ کر ایک شریف ، با عمل اور با کردار مسلمان اپنے وجود میں غلاظت اور بدبو محسوس کرنے لگتا ہے۔ ملت کا ہر ذی ہوش اور باشعور شہری آج ان مداریوں کی ملت فروشی سے عاجز ہے۔ لیکن وہ خود کو مجبور محسوس کرتا ہے کہ کرے تو کیا کرے۔

ہماری قوم میں آج بھی ایسے ایک دو نہیں ہزاروں قابل اور دانا موجود ہیں جو ٹی وی چینلس پر اچھی اور سچی بات دلائل کے ساتھ پیش کر سکتے ہیں۔ وہ اہل زبان بھی ہیں، عالم بھی ہیں اور ماس کمیونیکیشن کی باریکیوں سے بھی واقف ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ماس میڈیا کے تقاضے کیا ہوتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کی بے ایمان اینکروں کی نیت میں کھوٹ ہے۔ ایسے افراد ٹی وی چینلس پر آپ کو بہت کم نظر آئیں گے۔ کیونکہ یہ افراد اپنی جانب سے کوشش نہیں کرتے کہ انھیں ٹی وی چینلس کے ڈبیٹ میں بلایا جائے۔ اور ٹی وی چینلس والے ایسے افراد کو بلانا بھی نہیں چاہتے۔

کیونکہ ان کی منشا پوری نہیں ہوگی۔ اب ایسے بے ضمیر وں کا سماجی بائکاٹ ہونا چاہئے۔ ٹی وی چینلس کا بھی بائکاٹ ہونا چاہئے۔ آپ کے پاس بہت سے آپشن ہیں، متبادل ہے۔ جس ٹی وی چینلس کے بارے میں آپ کی رائے ہو کہ یہ کسی ایک فرقے یا مذہب کے خلاف ہے، یا سماج میں نفرت پھیلانے کا کام کر رہا ہے، تو ایسے ٹی وی چینلس کا بائکاٹ ہونا چاہئے۔

بائکاٹ کے لئے آپ کو دھرنا پردرشن کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ریلی نکالنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کے ہاتھ میں ریموٹ ہے۔ چینل بدل دیجئے۔ ایسے چینل کو بلاک کیجئے۔ اور سماج میں ایسے ملت فروشوں کو بے نقاب کیجئے۔ علماءکو چاہئے کہ ایسے ملت فروشوں کو سمجھانے کا بھی کام کریں۔ پھر بھی نہ مانے تو اور بھی جائز طریقے آزمائے جانے چاہئے۔ لیکن پانی اب سر سے اُنچا ہو چکا ہے۔ صبر کا پیمانہ لبریز ہے۔

(مضمون نگار جے این یو نئی دہلی میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں )  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *