ایک ایسا شخص جو ہمیشہ کیمرے کی چمک سے دور رہتاہے

شاعر مشرق علامہ اقبال کے یوم پیدا ئش کو عالمی سطح پر 'یوم اردو' کے طور پر کرایا تعارف

Asia Times Desk

 نئی دہلی :  (ایشیا ٹائمز / ایم این خان ) ہنستا مسکراتا چہرہ  زبان پر شیرینی  اور ہاتھوں میں لگ بھگ ایک درجن اردو اخبار لیے  ایک شخص سے میری دس سال قبل 2006 میں دہلی میں  پہلی ملاقات ہوئی، علیک سلیک کے بعد میں نے پوچھ لیا سر یہ اتنے اخبار کیا کرتے ہیں پڑھنے کے لیے تو ایک ہی کافی ہے ، جناب نے بڑے محبت بھرے انداز میں کہا عزیزم یہ سبھی اخبار پڑھنے کے لیے ہی شائع ہوتے ہیں ،

بہت تھوڑی رقم میں سب مل جاتے ہیں ، سب میں کچھ نہ کچھ چیزیں الگ الگ طرح کی مل جاتی ہیں ،یہ سب  جاری رہیں اس لیے بھی ہم خرید لیتے ہیں ۔    اس روز سے  جو تعلق بنا خدا شکر ہے آج تک قائم ہے ، یہ جناب  حکیم  سید احمد خان صاحب  ہیں موصوف کا وطنی تعلق اتر پردیش کے ضلع سنت کبیر نگر سےہے ۔ اردو زبان کی ترویج اشاعت ان کی زندگی کا اہم مقصد اور اردو زبان کی ترقی میں عملی دشواریوں کو دور کرنے کے لیے کوشاں رہنا ان کی ہابی ہے۔

ہندوستان میں شاعر مشرق علامہ اقبال کے یوم پیدا ئش کو یوم اردو کے طور پر انہوں نے ہی متعارف کرا یا گویا ہندوستان میں یوم اردو کی داغ بیل انہوں نے ہی ڈالی ۔ یونائٹیڈ مسلم آف انڈیا اور اردوڈیولپمینٹ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام خدمات انجام دے رہے ہیں ۔

حیرت کی بات یہ ہے موصوف نام نمود سے کو سوں دور رہتے ہیں ، ہندوستان میں اردو کی سربلندی کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہنا ان کے مزاج کا ہے ۔

لیکن آپ کو یہ سن کر حیرانی ہو گی کہ ایک ایسا شخص جو اتنے کام کرتا ہو ہمیشہ کیمرے کی چمک سے دور رہتاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پروگراموں میں اکثر رفقا ء مجلس فوٹو سیشن کے دوران سید صاحب کو تلاش کرتے نظر آتے ہیں ۔

اورکسی بھی پروگرام میں ان کی تصویرنمایاں نہیں ہوتی ۔ سید صاحب کوا سٹیج کی زینت بننا بالکل پسند نہیں ۔

ہندوستان میں اردو کے اس خاموش مگر مخلص خا دم کے لیے معروف اردو اسکالر دہلی یو نیورسٹی کے سابق پروفیسر مرحوم شریف احمد صاحب نے کہا تھا کہ ۔


ہماری بس باتیں ہی باتیں ہیں “سید” کام کرتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *