’’ضمیر‘‘ جاگا مگردیر سے

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

Asia Times Desk

گجرات ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ اس مرتبہ گجرات سے شمالی ہند سے تعلق رکھنے والے شہریوں پر مقامی افراد کے پُرتشدد حملے اور ان کے ہزاروں کی تعداد میں گھر واپسی ہورہی ہے۔ یہ وہ گجرات ہے جسے مسٹر نریندر مودی کا مثالی گجرات کہا جاتا ہے۔ اسی کے پس منظر میں ہندوستانی فوج کے سابق نائب سربراہ لیفٹننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ کی اپنی سوانح حیات ’’سرکاری مسلمان‘‘ میں کئے گئے بعض انکشافات کو بھی میڈیا میں نمای

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

اں جگہ مل رہی ہے۔ ضمیرالدین شاہ نے اُس وقت گجرات کی مودی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ اگر بروقت فوج کو ٹرانسپورٹیشن فراہم کیا جاتا تو حالات کو قابو میں لایا جاسکتا تھا مگر 24گھنٹے 3000 فوجی ہوائی اڈے پر ٹرانسپورٹیشن کا انتظار کرتے رہے۔

فسادات میں جلتے ہوئے گجرات کے بعض علاقوں سے متعلق لیفٹننٹ جنرل ضمیرالدین شاہ نے رات کے آخری پہر چیف منسٹر سے ان کی قیام گاہ پر ملاقات کی تو اس وقت وزیر دفاع جارج فرنانڈیز بھی موجود تھے‘ تاہم حالات پر قابو پانے کے لئے ٹال مٹول سے کامیاب لیا گیا۔ لیفٹننٹ جنرل ضمیرالدین شاہ جو فلمی اداکار نصیرالدین شاہ کے بھائی ہیں‘ اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ گجرات فسادات پر فلم ’’پرزانیہ‘‘ میں انہوں نے اس پارسی کا رول ادا کیا جو فسادات سے متاثر ہیں۔ اس فلم کو بھی نمائش سے روکا گیا۔ اگرچہ کہ بعض مقامات پر اس کی نمائش ہوئی اور اسے دو قومی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

بہرحال لیفٹننٹ جنرل ضمیرالدین شاہ جو پدمابھوشن بھی ہیں اور کئی فوجی اعزازات سے نوازے جاچکے ہیں جن میں پرم وشسٹ سیوا میڈل، وشسٹ سیوا میڈل، سینا میڈل قابل ذکر ہیں۔ ان کی کتاب ’’سرکاری مسلمان‘‘ کو یقیناًپذیرائی ملے گی کیوں کہ لوگ یہ ضرور جاننا چاہیں گے کہ سرکاری مسلمان آخر ہوتے کیسے ہیں؟ یہ کتاب جو منظر عام پر آنے والی ہے‘ اس میں یقیناًضمیرالدین شاہ کے اپنے ضمیر کی آواز محسوس ہوگی۔ سرکاری مسلمان‘ کے بارے میں عام مسلمان کا یہ تاثر ہے کہ اکثر سرکاری عہدوں پر فائز مسلمان بھلے ہی دل میں اپنی قوم سے ہمدردی رکھتے ہوں مگر عملی طور پر یہ نہ تو لیپنے کے ہوتے نہ تھوپنے کے۔ انہیں اپنے مفادات ارباب اقتدار کی خوشنودی حاصل کرنے اور اپنے پروموشن کی فکر رہتی ہے۔ اپنے عزیز و اقارب کو کس طرح سے فائدہ پہنچایا جائے اس کے لئے وہ اپنے تمام وسائل، اثرات و رسوخ اور توانائیوں کا استعمال کرتے ہوئے قوم کے لئے کبھی تقریر کردی‘ کسی کے پیٹ تھپک دی‘ کیمرے کے سامنے کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھ دیا‘ کہیں قرآنی آیات کی تفسیر اور احادیث کا حوالہ دے دیا۔ علامہ اقبال کے دو چار غلط سلط اشعار پڑھ دےئے‘ یہی بہت ہوگیا۔ ہاں! جب وہ اپنی ملازمتوں سے سبکدوش ہوجاتے ہیں تو انہیں قوم کا درد اور ان کی تڑپ محسوس ہوتی ہے۔ وہ اپنی زندگی کا آخری حصہ قوم کے لئے صرف کرنا چاہتے ہیں۔ کیوں کہ اپنی سرکاری زندگی میں وہ اس قدر مصروف ہوجاتے ہیں کہ اپنے گھر کے بھی نہیں رہ پاتے۔ اگر ان کی قسمت سے برسر حکومت کوئی اعزازی عہدہ دے دے تو پھر قوم سے ہمدردی کا جذبہ سرد پڑجاتا ہے۔ یقیناًایک فرض شناس فوجی عہدیدار رہے ہیں۔ چوں کہ بہت کم مسلمان فوج کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ اس لئے جو نمک کے کنکر نظر آتے ہیں وہی ملت کے نگینے سمجھے جاتے ہیں۔

لیفٹننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ کی کتاب کا اثر کیا ہوگا یہ تو نہیں کہا جاسکتا۔ یہ بات طئے کہ انہیں مستقبل میں شاید کوئی اعزازی عہدے نہ ملے اور سابق اور موجودہ حکومتیں اپنی گناہوں کی پردہ پوشی کیلئے ضمیر شاہ کے خلاف کچھ ایسے مقدمات دائر کرے جن کا حقاق سے کوئی تعلق نہ ہو۔ کیوں کہ یہ ارباب اقتدار کی روایت رہی ہے کہ جب کوئی ان کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو اُسے بند کرنے کے لئے اسے جھوٹے الزامات میں پھنسادیا جاتا ہے یا ہر طریقہ ہریساں و پریشان کیا جاتا ہے۔ لیفٹننٹ جنرل اگر اپنے دور ملازمت میں یہی انکشافات کرتے یا احتجاجی اقدام کے طور پر مستعفی ہوجاتے تو ان کی قدر و منزلت بڑھ جاتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ان پر بھی گجرات کے کے تین آئی پی ایس عہدیداروں سری کمار (سابق آئی پی ایس )، سنجیو بھٹ اور راہول شرما کی طرح سرکاری عتاب نازل ہوتا۔ ان تینوں غیر مسلم عہدیداروں نے اپنے عہدوں پر فائز رہتے ہوئے گجرات فسادات میں حکومت کے منفی رول کے خلاف رپورٹ دی تھی۔ سری کمار جو گجرات واقعہ کے وقت ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس گجرات تھے انہوں نے ناناوتی کمیشن کو وہ حلف نامہ پیش کیا جس میں مودی حکومت کے منفی رول کا کچاچٹھا بیان کیا گیا تھا۔ اور یہی نہیں بلکہ انہوں نے اُس وقت کے چیف الیکشن کمیشن کو فسادات میں حکومت کے مشکوک رول سے متعلق رپورٹ پیش کی تھی جس کی بناء پر گجرات میں عاجلانہ انتخابات کی تجویز مسلط کردی گئی۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے ارباب اقتدار اور بیورو کریٹس کی جانب سے انہیں دی جانے والی ہدایت کی خفیہ ریکارڈنگ بھی کی تھی جس کے پاداش میں انہیں ڈائرکٹر جنرل پولیس کے عہدہ پر ترقی دی گئی تھی۔
سری کمار جنہوں نے اپنی کتاب ’’گجرات کے سائے میں‘‘ لکھ کر بہت کچھ منظر عام پر لایا تھا۔ اپنے ساتھ کی جانے والی ناانصافی کے خلاف سنٹرل اڈمنسٹریٹیو ٹریبونل سے رجوع ہوئے تھے۔ جس نے سری کمار کے حق میں فیصلہ دیا مگر گجرات ہائی کورٹ نے اسے مسترد کردیا۔ سنجیو بھٹ نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں اس وقت کے چیف منسٹر گجرات نریندر مودی کے خلاف حلف نامہ داخل کیا اور اس میں گجرات فسادات کے دوران مودی کے رول پر تشویش ظاہر کی تھی۔ انہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایک میٹنگ میں شرکت کی تھی جس میں مسٹر مودی نے پولیس عہدیداروں سے کہا تھا کہ وہ ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف اپنا غصہ نکالنے کے لئے چھوڑ دیں۔ تاہم اسپیشل انوسٹی گیٹیو ٹیم (SIT) نے جسے سپریم کورٹ نے مقرر کیا تھا۔ سنجیو بھٹ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے رپورٹ دی کہ مسٹر بھٹ نے اس میٹنگ میں شں رکت نہیں کی تھی۔ 2015ء میں انہیں پولیس خدمات سے برطرف کردیا گیا اور سپریم کورٹ نے گجرات حکومت کے خلاف دائر کردہ عرضی کو بھی خارج کردیا۔ سنجیو بھٹ کو حال ہی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا کوئی اتا پتا نہیں ہے۔ جہاں تک راہول شرما کا تعلق ہے‘ گجرات فسادات کے دوران انہوں نے فسادیوں سے بڑی سختی نمٹا تھا اور دس ہزار سے زائد فسادیوں کو بھاؤنگر میں ایک مدرسہ پر حملے سے روکتے ہوئے چار سو بچوں کی جان بچائی تھی۔ اُس وقت وہ ضلع بھاؤنگر میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس تھے۔
انہوں نے فسادیوں پر بے دریغ فائرنگ کی تھی جس کیک وجہ سے کچھ ہلاک ہوئے اور کچھ زخمی ہوئے۔ ان کے بروقت ا قدام کے اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ اڈوانی نے پارلیمنٹ کے ساتھ اپنی سوانح حیات میں اس کی تعریف کی تھی جبکہ نریندر مودی نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اسے سستی شہرت کے لئے ہیرو کی طرح فرض نبھانے کا الزام عائد کیا تھا۔ راہول شرما سے گجرات کے وزیر داخلہ گوردھن زدافیہ بھی بڑے ناراض ہوئے۔ انہوں نے کہا تھا کہ پولیس فائرنگ کی وجہ سے ہلاکتوں کا تناسب مناسب نہیں ہے۔

راہول شرما نے ایک مسجد پر حملہ کرنے والے 21شرپسندوں کو بی جے پی کی درخواست پر رہا کرنے سے انکار کیا دیا تھا۔ راہول شرما نے وہ سی ڈیز ناناوتی کمیشن کے حوالہ کی جس میں مختلف سیاست دانوں اور فسادیوں کے درمیان ٹیلی فون کالس کا ڈاٹا محفوظ تھا۔ انہیں بھی حکومت کے عتاب کا شکار ہونا پڑا۔ ان کا تبادل کیا گیا۔جہاں انہوں نے مزید حکومت کی ناک میں دم کیا۔ بعد میں راہول شرما نے رضاکارانہ طور پر سبکدوشی اختیار کرلی۔ گجرات فساد ہو یا مظفرنگر بعض غیر مسلم صحافیوں نے ہمت سے کام لیتے ہوئے قلم چلایا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم صحافی غیر جانبداری کا مظاہرہ کرے تو اُسے سیکولر کہا جاتا ہے اور کوئی مسلم صحافی سچ کو سچ لکھے تو اُسے فرقہ پرست یا پھر کسی پڑوسی ملک کا ایجنٹ قرار دیا جاتا ہے یا پھر اس کے تانے بانے کسی دہشت گرد تنظیم سے جوڑ دےئے جاتے ہیں۔کئی غیر مسلم صحافیوں نے ڈاکرمنٹری فلمیں بھی بنائیں اور برکھادت نے بہت ہی جرأت کے ساتھ این ڈی ٹی وی پر گجرات کے حقائق کو پیش کیا۔ اس کا خمیازہ اُسے بھگتنا پڑا۔ اس وقت وہ گمنامی میں ہیں کیوں کہ انہیں اپنے پراجکٹ کے آغاز سے روک دیا گیا۔ رعنا ایوب نے گجرات فائلس میں حقائق کا انکشاف کیا تو ان کے خلاف بھی سوشیل میڈیا کے ذریعہ گھناؤنی مہم چلائی گئی۔ بہرحال مسلمانوں کے خلاف مظالم پر بعض غیر مسلم پولیس آفیسروں نے، بعض صحافیوں نے دلیری کا مظاہرہ کیا اور انسانیت کی بقا کیلئے اپنے کیرےئر کو داؤ پر لگادیا۔ مسلم عہدیداروں نے بھی شاید قربانی دی ہوں‘ جس سے ہم لاعلم ہیں۔ ویسے آزاد ہندوستان کی تاریخ میں شاید ہی ایسی کوئی مثال ملے گی جب سرکاری مسلمانوں نے اپنے مذہب یا اپنی قوم کیلئے کوئی قربانی دی ہو۔ بلکہ اپنے سیاسی اور مالی مفادات کے لئے کبھی مذہب کو داؤ پر لگادیا تو کبھی قوم کا سودا کرلیا۔
لیفٹننٹ جنرل ضمیرالدین شاہ نے قلم اٹھایا مگر بہت دیر سے‘ ان کا ضمیر جاگا بھی تو بڑی دیر سے۔خیر یہ بھی غنیمت ہے ورنہ ہمارے درمیان ایسے بے شمار سرکاری مسلمان موجود ہیں‘ جن کے پیر قبر میں ہے اور اب بھی وہ کسی عہدہ یا منصب کے لالچ میں اپنی ضمیر ک وکچلتے ہوئے قاتلوں، ظالموں کی مدح سرائی میں مصروف ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں معاف کرے’ انہیں نیک ہدایات دے۔

 مضمون نگار  اردو ویکلی” گواہ ” حیدرآباد کے ایڈیٹر ہیں

 رابطہ ۔ فون:9395381226

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *