بڑاشور سنتے تھے پہلو میں دل کا

ڈاکٹر یامین انصاری۔۔۔۔۔۔

Ashraf Ali Bastavi

رام مندر، یکساں سول کوڈ اورکشمیر میں دفعہ ۳۷۰؍ کی طرح آسام میں این آر سی کے مسئلہ کو بھی بی جے پی نے ہندو مسلم کے نظریہ سے ہوا دینےکی کوشش کی۔ یہ سبھی موضوعات بی جے پی کی سیاست کا محور رہے ہیں۔اس کے علاوہ بھی ہندو ووٹ بینک کو مد نظر رکھ کر بی جے پی نے ہر اس مسئلہ کو اٹھایا ہے، جس میں کہیں نہ کہیں ملک کے مسلمان متاثر ہوتے ہیں۔ حالانکہ این آر سی یعنی قومی رجسٹر برائے شہریت کی فہرست جاری ہونے کے بعد نہ صرف بی جے پی کے رہنما بلکہ حکومت خود انگشت بدنداں ہے۔ سوچا تو یہ تھا کہ بنگلہ دیشی مسلمانوں کے نام پر آسام کے لاکھوں مسلمانوں کی شہریت چھین لی جائے گی، ان سے شہری حقوق اور ووٹ دینے کا حق چھین لیا جائے گا،انھیں غیر ملکی قرار دے کر قید خانوں میں ڈال دیا جائے گا اور ملک بھر میں اپنے سخت گیر ہندو ووٹ بینک کو خوش کر کے آئندہ انتخابات میں ان کے ووٹوں کو ایک بار پھر اپنے حق میں یقینی بنا لیا جائے گا۔

لیکن اپنی شہریت ثابت کرنے میں ناکام رہنے والے آسام کےلوگوں کی فہرست جاری ہوئی تو وہ ۴۰؍ لاکھ سے کم ہو کرتقریباً  ۱۹؍ لاکھ افراد تک رہ گئی۔ ساتھ ہی سب سے حیران کن اور بی جے پی کے لئے پریشان کن بات یہ رہی کہ ان ۱۹؍ لاکھ افراد میں تقریباً ۱۳؍ لاکھ ہندو ہیں، جبکہ مسلمانوں کی تعداد تقریباً۶؍ لاکھ ہے۔ قابل ذکر ہے کہ آسام میں دیرینہ این آر سی کی حتمی فہرست۳۱؍ اگست کو جاری کر دی گئی۔ این آر سی میں شامل ہونے کے لئے ۳؍ کروڑ ۳۰؍ لاکھ ۲۷؍ ہزار ۶۶۱؍ افراد نے درخواست دی تھی۔ان میں سے۳؍ کروڑ ۱۱؍ لاکھ ۲۱؍ ہزار ۴؍افراد کو شامل کیا گیا ہے اور۱۹؍ لاکھ ۶؍ ہزار ۶۵۷؍ لوگوں کو باہر کر دیا گیا ہے۔حالانکہ اس ضمن میں جمعیۃ علما ہند ، ممبر پارلیمنٹ مولانا بدر الدین اجمل کی اے آئی یو ڈی ایف ، مسلم سماجی کارکنان اور دیگر تنظیموں نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ مقامی سطح پر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ان کے دستاویز جمع کروانے اور انھیں بطور ثبوت پیش کرنے میں بھرپور مدد کی۔ اس کے ساتھ ہی جمعیۃ علما ہند نے سپریم کورٹ میں اس پورے معاملے کی پیروی کی، اس نے بھی آسام کے مسلمانوں کی مشکلات کو آسان کر دیا۔  یہی وجہ تھی کہ آسام کے بی جے پی لیڈران اور پارٹی کی مرکزی قیادت نے این آر سی کی اس فہرست کو بے معنی قرار دے دیا۔ کیوں کہ انھیں تو امید تھی کی اس پورے عمل میں سب سے زیادہ متاثر مسلمان ہوں گے۔ غرض یہ کہ بی جے پی کی کیفیت بالکل اس شعر کے مصداق ہو گئی ؎

بڑاشور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا  تو اک قطرہ  خوں تک نہ نکلا

اس سب کے باوجود کچھ بی جے پی لیڈران نے حسب عادت اپنی نفرت انگیز مہم کے مطابق مضحکہ خیر بیانات کا سلسلہ شروع کر دیا۔ بھوجپوری اداکار سے سیاستداں بنے دہلی بی جے پی کے صدر منوج تیواری نے کہہ دیا کہ دہلی میںبھی این آر سی کو نافذ کیا جائے۔ اسی طرح اپنی زہر افشانی اور اشتعال انگیزی کیلئے مشہور گری راج سنگھ نے کہا کہ این آر سی کو پورے ملک میں نافذ کر دینا چاہئے۔ یہ الگ بات ہے کہ اب یہ معاملہ عالمی سطح تک پہنچ گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے پناہ گزین معاملوں کے چیف نے ہندوستان سے اس بات کو یقینی بنانے کو کہا ہے کہ آسام میں این آر سی سے تقریباً۲۰؍ لاکھ لوگوں کو باہر کئے جانے کے بعد بھی کوئی شخص شہریت سے محروم نہ رہ جائے۔پناہ گزینوں کے لئے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر فیلیپو گرینڈی نے بیان جاری کرکے اپنی تشویش کاا ظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی کارروائی جس میں بڑی تعداد میں لوگ کسی ملک کی شہریت سے محروم رہ جاتے ہیں تو وہ عدم شہریت کو ختم کرنے کی عالمی کوششوں کے لئے ایک بہت بڑا جھٹکا ہوگا۔ آسام میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب تقریباً۳۴؍ فیصد ہے۔ ان میں اکثریت بنگالی نسل کے مسلمانوں کی ہے، جو گذشتہ۱۰۰؍ برس کے دوران یہاں آ کر آباد ہوئے ۔

یہ لوگ بیشتر غریب، ناخواندہ اور زرعی مزدور ہیں۔ملک میں سرگرم ہندو تنظیم آر ایس ایس، برسر اقتدار جماعت بی جے پی اور اس کی ہمنوا مقامی جماعتوں کا کہنا ہے کہ آسام میں لاکھوں غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن آ کر بس گئے ہیں۔ ان لوگوں کو شہریت سے محروم کرکے ملک سےنکال دیا جائے گا۔حالانکہ اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کو نکالنا ممکن نہیں ہوگا۔ انھیں بنگلہ دیش بھیجنے کے لیے پہلے ان کی قومیت کی شناخت طے کرنی ہوگی۔دوئم یہ کہ بنگلہ دیش سے اس قسم کا کوئی معاہدہ بھی نہیں ہے۔ یہ ثابت کرنا بھی ممکن نہیں ہوگا کہ یہ بے وطن ہونے والے باشندے بنگلہ دیشی شہری ہیں۔ یہ ایک انتہائی پیچیدہ صورت حال ہے۔

بہر حال، آسام میں این آر سی اور پورے ملک میں پھیلی این آر سی نافذ ہونے کی افواہ کے درمیان ایک نظر اس پر بھی ڈالنا ہوگی کہ شہریت سے متعلق ہندستان کا آئین کیا کہتا ہے۔آئین میں شہریت کے قوانین میں حکومت کی طرف سے ترمیم بھی کی جاتی رہی ہیں۔ ۱۹۸۶ءمیں ہوئی ترمیم میں کہا گیا’ ۲۶؍ جنوری۱۹۵۰ء سےیکم جولائی۱۹۸۷ء کے درمیان ہندستان میں پیدا ہوئے لوگ پیدائش سے ہندستان کے شہری ہوں گے، لیکن یکم جولائی۱۹۸۷ء سے۴؍ دسمبر۲۰۰۳ء تک ہندستان میں پیدا ہوئے لوگ تب ہی ہندستان کے شہری ہوں گے جبکہ ان کے والدین میں سے کوئی ایک ہندوستان میں پیدا ہوا ہو۔‘اس ترمیم کے بعد دوبارہ۲۰۰۳ء میں شہریت سے متعلققوانین میں ترمیم کی گئی۔ اس ترمیم کے مطابق۴؍ دسمبر۲۰۰۳ء کے بعد سے وہ لوگ ہندستان کے شہری ہوں گے جو ہندستان میں پیدا ہوئے ہوں۔

ساتھ ہی ان کے والدین دونوں یا دونوں میں سے کوئی ایک ہندستان کا شہری ہو اور والدین میں سے کوئی بھی غیر قانونی تارکین وطن نہ ہو۔‘ اس قانون کے مطابق کسی بھی غیر قانونی تارکین وطن کو ہندوستان میں طویل قیام یا رجسٹریشن کرا لینے کی بنیاد پر شہریت نہیں مل سکتی۔اس ترمیم کے بعد اب نریندر مودی حکومت شہریت ترمیم بل لے کر آئی، جس کی شمال مشرقی ریاستوں خاص طور پر آسام میں زبردست مخالفت ہوئی۔ اس ترمیم کے مطابق ’پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے ۱۴؍ دسمبر۲۰۱۴ء سے پہلے آئے ہندو، سکھ، بدھ مت، جین، پارسی اور عیسائی لوگوں کوچھ سال ہندستان میں رہنے کے بعد یہاں کی شہریت دے دی جائے گی۔ اس کے لئے انہیں کوئی دستاویز بھی نہیں دینے ہوں گے۔‘یعنی برق گرے گی تو بس بیچارے مسلمانوں پر۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بی جے پی نے آسام میں این آر سی کےمسئلہ کو پوری طرح سیاسی بنا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بی جے پی کی حکومت اور اس کے لیڈران نے اس مسئلہ کو جس طرح پیش کیا ہے، وہ انتہائی مضحکہ خیز بھی ہے۔اس کے علاوہ فہرست میں جس قسم کی خامیاں سامنے آ رہی ہیں، وہ اور بھی زیادہ حیران کن اور تشویش ناک ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ این آر سی کی آخری فہرست میں جگہ نہیں پانے والوں میں کرگل جنگ میں حصہ لینے والے سابق آرمی افسر محمد ثناءاللہ، اے آئی یو ڈی ایف کے ایک موجودہ ایم ایل اے اننت کمار مالو اور سابق ایم ایل اے عطاء الرحمان مجربھوئیاں کے نام بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ کسی کے بچوں کے نام فہرست میں شامل ہیں تو کسی کے ماں باپ یا بھائی بہن فہرست سے باہر ہیں۔ ایسی فہرست کو حتمی فہرست کہنا کہاں تک مناسب ہوگا یہ تو اب حکومت اور سرکاری عملہ ہی بتاسکتا ہے۔ حالانکہ فہرست سے باہر ہوئے لوگوں کے پاس غیر ملکی ٹریبونل(ایف ٹی) میں اپیل کرنے کی گنجائش باقی ہے۔اب دیکھنا ہوگا کہ آئندہ چار ماہ کے بعد جب اس فہرست میں ترمیم و تبدیلی کا وقت ختم ہو جائے گا تو کتنے باشندے واقعی غیر ملکی اور غیر قانونی قرار دئے جائیں گے اور پھر ان کا مستقبل کیا ہوگا۔ لیکن اتنا تو طے ہے کہ اب یہ مسئلہ بی جے پی کے لئے سیاسی روٹیاں سینکنے کا موقع نہیں دے گا۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں)
yameen@inquilab.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *