وعدوں اور دعووں کے درمیان مودی سرکار کے چار سال

ڈاکٹر یامین انصاری

Asia Times Desk

بی جے پی کے چار سالہ دور اقتدار میں حصولیابیوں کی سچائی اتنی ہی جتنی اتوار کوپی ایم کے ذریعہ افتتاح کئے گئے دہلی۔میرٹھ ایکسپریس وے کی تکمیل کی
اس میں کوئی شک نہیں کہ نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت کو ’اپنے منہ میاں مٹھو‘ بننے میں مہارت حاصل ہے۔ اپنی پیٹھ کیسے تھپتھپائی جاتی ہے، کوئی اس کا ہنرموجودہ بی جے پی قیادت سے اچھی طرح سیکھ سکتا ہے۔ عوام میں کتنی ہی ناراضگی ہو، کتنی ہی بے چینی ہو، لوگ مہنگائی سے پریشان ہوں، بے روزگاری عام ہو، کسان بد حال ہوں اور بدعنوانی پہلے سے زیادہ ہو، اس سب کے باوجود بی جے پی حکومت پر کوئی فرق نہیں پڑتا، بلکہ اس کے بر عکس وہ عوام کے سامنے اس طرح پیش آتی ہے کہ جیسے ملک میں ہر طرف ترقی ہے، خوشحالی ہے، وکاس کی گنگا بہہ نکلی ہے اور عوام حکومت کی کارکردگی سے پوری طرح مطمئن ہیں۔جبکہ حقیقت یہ کہ زمینی سطح پر کہیں کوئی کام نظر نہیں آتا۔ حکومت کے دعووں سے سے عاجز آ چکے طبقہ پر نہ تو حکومت کوئی توجہ دیتی ہے اور نہ ہی میڈیا کا با اثر حلقہ ان کی آواز ایوان اقتدار تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ لوگ آج بھی ۲۰۱۴ء کے انتخابات کے دوران کئے گئے وعدوں کے وفا ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

۲۰۱۴ء کے انتخابات سے لے کر حکومت کے چار سال مکمل ہونے تک مودی اور امت شاہ کی جوڑی نے لوگوں صرف وعدوں سے کام چلایا ہے۔زمینی سچائی کے بر عکس اخبارات اور ٹیلی ویزن پر بڑے بڑے اشتہارات ایسا احساس کراتے ہیں کہ جیسے ملک میں ہر طرف ترقی کا بول بالا ہے۔ اس کی تازہ مثال دہلی میرٹھ ایکسپریس وے اور ایسٹرن پیریفیرل ایکسپریس وے کی افتتاحی تقریب ہے۔ اتوار کو ان دونوں ایکسپریس وے کا وزیر اعظم نریندر مودی نے نہ صرف افتتاح کیا، بلکہ بالواسطہ طور پر مغربی یو پی کے کیرانہ اور نورپورکے ضمنی انتخابات کو متاثر کرنے کے مقصد سے ایک روڈ شو اور ایک عوامی جلسہ کو خطاب بھی کیا۔ اس پوری تقریب کی حکومت کی زبان بولنے والے کچھ نیوز چینلوں کے ذریعہ اس طرح تشہیر کی گئی کہ جیسے اتوار سے ہی دہلی سے میرٹھ جانے والے لوگ ۴۵؍ منٹ میں اپنی منزل پر پہنچ جائیں گے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس ایکسپریس وے کے مکمل ہونے میں ابھی کم از کم دو سال کا عرصہ درکار ہے۔مودی نے اتوار کو جس ایکسپریس وے کا افتتاح کیا،

وہ اس پروجیکٹ کا پہلا مرحلہ ہے، جبکہ ابھی تین مرحلے باقی ہیں۔ کم از کم دو سال کے بعد جب یہ چاروں مرحلے مکمل ہو جائیں گے، تب کہیں جا کر دہلی سے میرٹھ کا سفرو ڈیڑھ یا دو گھنٹے سے کم ہو کر ۴۵؍ منٹ رہ جائے گا۔ ۸۲؍ کلو میٹر کے اس ایکسپریس وے کا پہلا مرحلہ دہلی کے نظام الدین برج سے دہلی یو پی بارڈر تک ہے۔ اس کی کل لمبائی محض ۸؍ کلو میٹر ہے۔ حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ اسے ریکارڈ ۱۸؍ مہینے میں پورا کیا گیا ہے۔ جبکہ اس ایکسپریس وے کے تین مرحلے باقی ہیں۔ جو کہ دہلی یو پی بارڈر سے ڈاسنا، ڈاسنا سے ہاپوڑ اور پھر ہاپوڑ سے میرٹھ ہیں۔ یعنی ابھی یہ ایکسپریس وے مکمل ہونے میں کم از کم دو سال لگ سکتے ہیں، اس کے بعد ہی دہلی سے میرٹھ کا سفر ۴۵؍ منٹ میں پورا ہو پائے گا۔ اسی طرح دہلی و اطراف کے کئی اضلاع کو جوڑنے والے ایکسپریس وے شروع ہونے میں تاخیر پر سپریم کورٹ کی سرزنش کے بعد آخر کار مجبوراً مودی نے ۱۱؍ ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ۱۳۵؍ کلو میٹر لمبے ایسٹرن پیریفیرل ایکسپریس وے کو قوم کے نام وقف کیا۔ ہریانہ کے کنڈلی سے یو پی میں باغپت، غازی آباد، نوئیڈا، ہوتے ہوئے فریدآباد، پلول کو جوڑنے والے اس ہائی وے سے دہلی پر پڑنے والا بڑی گاڑیوں کا بوجھ کافی کم ہو جا ئے گا۔

پٹرول ڈیزل کی بڑھتی بے تحاشہ قیمتوں کے درمیان نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت نے ۲۶؍ مئی کو اپنے چار سال مکمل کر لئے۔ اس موقع پر مہنگائی کی مار سے بے پروا بی جے پی ملک بھر میں جشن منا رہی ہے،اپنی پیٹھ تھپتھپا رہی ہے، ترقی و خوشحالی کا ڈھنڈھورا پیٹا جا رہا ہے۔ وہیں دوسری جانب اہم اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس دن کو’وشواس گھات دیوس‘ کا نام دیا اور پورے ملک میں احتجاج و مظاہرے کئے۔ اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو کسی بھی حکومت کے لئے اپنی کارکردگی کا محاسبہ کرنے اور اپنے وعدوں کے مطابق عوام کو مطمئن کرنے کے لئے چار سال کا عرصہکافی ہوتا ہے۔ کیوں کہ دوبارہ عوام کی عدالت میں جانے کے لئے حکومت کے پاس صرف ایک سال کا وقت رہ جاتا ہے۔ اور پھر کسی بھی حکومت نے اپنے دور اقتدار میں وعدوں اور دعووں پر کتنا عمل کیا ہے، اس کا فیصلہ عوام کی عدالت میں ہی ہوتا ہے۔

ملک کو آج خاص طور پر قومی سلامتی، سرحدوں کا تحفظ، بلیک منی، بدعنوانی، روزگار، مہنگائی، اقلیتوں اور دلتوں پر ظلم و زیادتی، اور کسانوں کی بدحالی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔خاص بات یہ ہے کہ یہی وہ مسائل اور ایشوز ہیں، جن کو اٹھا کر نریندر مودی ۲۰۱۴ء کی انتخابی مہم میں نکلے تھے اور انھوں نے ان ایشوز پر سابقہ یو پی اے حکومت کو سخت ہدف تنقید بنایا تھا۔ اب مودی کو لگتا ہے کہ جیسے وہ ہوا میں باتیں کرکے ہی عوام کو مطمئن کرلیں گے اور دوبارہ اقتدار میں واپس آ جائیں گے۔ اس کا اظہار وہ اپنی تقریروں اور بیانات میں کرتے رہتے ہیں۔ نریندر مودی نے ۲۶؍ مئی کو اپنی حکومت کے چار سال مکمل ہونے پر ایک ٹوئیٹ کیا ، جس میں انھوں نے لکھا کہ ’ ۲۰۱۴ء میں آج ہی کے دن ہم نے ہندوستان کے بدلاؤ کے سفر کی شروعات کی تھی۔ پچھلے چار سال میں ترقی عوامی تحریک بن گئی ہے۔ ملک کا ہر شہری اس میں اپنی حصہ داری محسوس کر رہا ہے۔

سوا سو کروڑ ہندوستانی ہندوستان کو بلندیوں پر لے جا رہے ہیں۔‘ اس میں کتنی سچائی ہے، عوام بخوبی جانتے ہیں۔ ہاں، اسے اس وقت ضرور سچ مان لیا جاتا جب حکومت کے چار سال مکمل ہونے کا جشن بی جے پی یا اس کی حکومت نہیں، ملک کے عوام مناتے۔اور عوام اسی وقت جشن مناتے جب انھیں لگتا کہ ملک میں واقعی وکاس ہو رہا ہے، ان کی طرز زندگی بدل رہی ہے۔ در اصل خود نمائی اور اشتہاری مہم چلانے کو ہی مودی حکومت اپنی حصولیابی سمجھ رہی ہے۔ اسی لئے اپوزیشن بھی حملہ آور ہے۔ کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت زراعت اور خارجہ پالیسی سمیت کئی محاذ پر ناکام رہی ہے، لیکن اپنی تشہیر بہترین طریقے سے کی۔

ویسے عوام نے گزشتہ کچھ انتخابات میں یہ اشارہ دے بھی دیا ہے کہ وہ مودی حکومت کی کارکردگی کو بہت نزدیک سے دیکھ رہے ہیں اور جب بھی موقع آئے گا، وہ اسی کے مطابق اپنا فیصلہ سنائیں گے۔ حالیہ کچھ ضمنی انتخابات اور گجرات و کرناٹک کے اسمبلی انتخابات کے نتائج یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ ۲۰۱۹ء بی جے پی کے لئے ۲۰۱۴ء کی طرح ثابت نہیں ہوگا۔ اس سلسلہ میں مختلف سروے اور نیوز چینلوں کے جائزے بھی ہمارے سامنے موجود ہیں۔خبریں تو یہ بھی ہیں کہ آر ایس ایس بھی مودی کے طرز حکومت سے مطمئن نہیں ہے۔ آر ایس ایس نے مودی حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد سے ہونے والے ممکنہ خطرے کو دیکھ لیا ہے۔

اسی لئے اس نے اپنی سطح پر تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلہ میں بی جے پی اور سنگھ کے لیڈران کے درمیان میٹنگوں کا دور بھی چلا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ آر ایس ایس کچھ معاملات میں مرکز کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے۔ ان میں روزگار دینے کا وعدہ، ایف ڈی آئی اور مزدوروں سے متعلق مسائل شامل ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اپوزیشن کے اتحاد سے بی جے پی کافی پریشان ہے۔ اسی لئے وہ بنگلور میں ہونے والے اپوزیشن کے اجتماع سے بوکھلائی ہوئی نظر آ رہی ہے اور مختلف قسم کے تبصرے کر رہی ہے۔بہر حال اتنا تو طے ہے کہ اگر اپوزیشن جماعتیں ٹھان لیں تو مودی حکومت کے سارے دعوے اور وعدے رکھے رہ جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *