امریکہ کے ایٹمی معاہدہ توڑنے کے بعد ایران کی حکمت عملی کیا ہو: ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں سے انٹرویو

ایران کو مشترکہ منصوبۂ عمل سے خود کو لاتعلق نہیں کرنا چاہئے لیکن چونکہ اصل کھلاڑی اس میں مزید دلچسپی نہیں رکھتا ہے، اس لئے ایران کو اس صورت حال کا فائدہ اٹھانا چاہئے اور اسے اپنا نیوکلیائی پروگرام از سرنوشروع کردینا چاہئے۔

admin

امریکہ کے ایران کے ساتھ ایٹمی معاہد ہ توڑنے کے بارے میں ایرانی خبر رساں ایجنسی (ارنا) نےمعروف صحافی اور تجزیہ نگار ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں سے انٹرویو لیا۔  ذیل میں ہیں سوالات و جوابات :

سوال : مغرب۔ ایران ایٹمی معاہدہ معروف بہ ’’مشترکہ منصوبۂ عمل ‘‘کے سلسلے میں بھارت کا موقف کیا ہے؟

جواب: ابھی تک بھارت نے سرکاری طورپر اس سلسلے میں اپنا کوئی موقف ظاہر نہیں کیا ہے۔ فی الحال وہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ بھارت کے ایران اور امریکہ دونوں سے مفادات وابستہ ہیں اور وہ ان دونوں میں سے کسی کو بھی ناراض نہیں کرسکتا۔ اسے عالمی سطح پر امریکی حمایت کی ضرورت ہے اور اس کی ٹیکنولوجیکل مدد بھی درکار ہے جبکہ اسے آسان شرطوں پر ایران کے تیل کی بھی ضرورت ہے۔ نیز وہ پاکستان کا مقابلہ کرنے اور افغانستان ووسطی ایشیا میں آزادانہ طورپر کام کرنے کے لئے بھی ایران کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہے۔

سوال: علاقے میں امن وتحفظ قائم کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لئے ’’مشترکہ منصوبۂ عمل‘‘ کی کیا اہمیت ہے؟

جواب: بلاشبہ اس’’مشترک منصوبۂ عمل‘‘ نے ایران کو ایک مدت تک امن وسکون فراہم کیا اور اس کے اوپرسے مغربی اقتصادی وسیاسی دباؤ کو کم کیا لیکن میں ذاتی طورپر یہ نہیں سمجھتا کہ ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان ’’مشترکہ منصوبۂ عمل‘‘ ان مسائل کا کوئی صحیح حل ہے جو عالمی اور علاقائی طورپر ایران کو درپیش ہیں۔  عالمی سیاسیات بہت ہی بے رحم ہیں۔ یہ صرف طاقت ور کا احترام کرتی ہیں۔  اس حقیقت کو آپ نیوکلیائی قوت رکھنے والے شمالی کوریا کے سلسلے میں نرم امریکی رویے اور ایران کے سلسلے میں اس کی دھمکیوں کے تناظر میں دیکھ سکتے ہیں کیونکہ ایران ابھی تک نیوکلیائی پاورنہیں بن سکا ہے جبکہ شمالی کوریا ایک ایٹمی طاقت ہے۔ ایران کے لئے عالمی عزت ووقار حاصل کرنے کا واحد راستہ نیوکلیائی پاوربننا اور اس کو پرامن مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا ہے۔ اس دنیا میں کمزور کے لئے کوئی عزت یا وقار نہیں ہے اور ایران بھی اس کلیے سے مستثنیٰ نہیں ہے خواہ اس کے عزائم وارادے اور سلوک ورویے کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں۔

سوال: امریکہ کے اس ’’مشترکہ منصوبۂ عمل‘‘ سے باہر نکلنے سے علاقائی اور بین الاقوامی امن وتحفظ کے لئے کیا خطرات لاحق ہوسکتے ہیں ؟

جواب : ’’ مشترکہ منصوبۂ عمل‘‘ سے امریکہ کے باہر نکلنے سے علاقائی امن وتحفظ کے لئے تو کم ہی مسائل پیدا ہوں گے لیکن اس سے ایران کو نیوکلیائی طاقت بننے کا جواز حاصل ہوجائے گا، اور جیسے ہی یہ کام پورا ہوجائے گا یہ تمام ڈرامے ختم ہوجائیں گے۔ ایران دنیا سے کہہ سکے گا کہ معاہدے کے جس حصے کا تعلق ہم سے تھا ہم نے اس کا پورا لحاظ رکھا لیکن چونکہ دوسرے فریق نے اس کا لحاظ نہیں رکھا، اس لئے ہم بھی اپنے مفادات کی تکمیل میں آزاد ہیں۔

سوال: ایران کے ہاتھوں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ضابطوں کی پوری تعمیل کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں جس کا ذکر نیوکلیائی امور کی نگرانی کرنے والی بین الاقوامی ایجنسی نے بار بار کیا ہے؟

جواب : یہ بالکل واضح ہے کہ ایران اپنے اوپر لگائی گئی پابندیوں کا پوری احتیاط کے ساتھ لحاظ رکھتا رہا ہے۔ مذکورہ بین الاقوامی ایجنسی وقتاً فوقتاً اس حقیقت کی تصدیق کرتی رہی ہے، لیکن اس بے رحم وظالم دنیا میں کمزور کا اچھا رویہ بے معنی ہوتا ہے۔ مغرب، خاص طورسے امریکہ نے، دوسرے ممالک کے ساتھ اس وقت تک انتہائی گھٹیا سلوک روا رکھتے ہیں جب تک کمزور ملک قوت قاہرہ (نیو کلیائی قوت) حاصل نہیں کرلیتے۔ تائیوان نے اس وقت تک اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں امریکہ کی مدد سے چین کی مستقل سیٹ پر قبضہ جمائے رکھا جب تک چین نے نیوکلیائی قوت حاصل نہیں کرلی۔  بھارت کو بھی اس وقت تک عزت نہیں ملی جب تک وہ نیوکلیائی پاور نہیں بن گیا۔

سوال: علاقائی امن وتحفظ کے سلسلے میں ایران کی پالیسیوں اور حکمت عملی کو آپ بھارت سمیت دوسرے کئی علاقائی ممالک کی اختیار کردہ پالیسیوں اور تدابیر کے مقابلے میں کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟

جواب: تمام ترعلاقائی اور بین الاقوامی اشتعال انگیزیوں کے باوجود ایرانی رویہ بہت عمدہ رہا ہے۔ اس کو اب بھی اسی احتیاط کے ساتھ اپنی دانش مندانہ پالیسیوں پر عمل جاری رکھنا چاہئے اور دوسروں،  خاص طور سے امریکہ کو، اسے نقصان پہنچانے اور حملہ کرنے کا موقع نہیں دینا چاہئے۔ ایران کی کوئی بھی متشدد اور جارح پالیسی اس کے حق میں مفید نہیں ہوگی۔ اسی کے ساتھ ایران کو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات کو فروغ دینا چاہئے تاکہ وہ ایران کے خلاف امریکہ کی مہمکے دباؤ میں نہ آجائیں۔

سوال: کیا آپ اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی طرف سے اس’’ مشترکہ منصوبۂ عمل‘‘ سے لاتعلقی کا اظہار بین الاقوامی ضابطوں اور بین الاقوامی معاہدوں کو مسترد کرنے کی بین الاقوامی سطح پر ایک بری مثال ہوگا؟

جواب : ایران کو مشترکہ منصوبۂ عمل سے خود کو لاتعلق نہیں کرنا چاہئے لیکن چونکہ اصل کھلاڑی اس میں مزید دلچسپی نہیں رکھتا ہے، اس لئے ایران کو اس صورت حال کا فائدہ اٹھانا چاہئے اور اسے اپنا نیوکلیائی پروگرام از سرنوشروع کردینا چاہئے۔

(انگریزی سے اردو ترجمہ: ملی گزٹ)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *