مسجد اشاعت اسلام میں  خطبۂ عیدالفطر: امیر جماعت اسلامی ہند مولانا سید جلال الدین عمری نے کہا ؛ یاد رہے ، کمزوروں ہی کو مشورے دیے جاتے ہیں , طاقت ور مشوروں کی ضرورت محسوس نہیں کرتا   

Asia Times Desk

نئی دہلی : (ایشیا ٹائمز نیوز ) موجودہ حالات میں ہمیں ہر طرح کے مشورے دیے جاتے ہیں۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ کم زوروں ہی کو مشورے دیے جاتے ہیں۔ اس میں ترحّم اور ہم دردی کا پہلو غالب ہوتاہے۔ جو طاقت ور ہے وہ مشوروں کی ضرورت نہیں محسوس کرتا، بلکہ اس سے مشورے لیے جاتے ہیں اور اس کی تقلید میں فخر محسوس کیاجاتاہے۔

مسجد اشاعت اسلام ابوالفضل انکلیو میں عید کی نماز کا منظر

ان خیالات کا اظہار محترم امیر جماعت اسلامی ہند مولانا سید جلال الدین عمری نے مرکز جماعت اسلامی کی مسجد اشاعت اسلام میں خطبۂ عید الفطر دیتے ہوئے کیا ،جہاں دو ر دور سے لوگ بڑی تعداد میں نماز کے لئے آتے ہیں ۔ مولانا نے آل عمران کی آیت ۱۳۹  ’’کم زوری نہ دکھائو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہوگے ،اگر تم ایمان رکھتے ہو‘‘، سے خطبہ شروع کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ تمام بھائیوں اور بہنوں کو عید کی مبارک باد پیش کرتاہوں۔

پوری دہلی کے برادرانِ اسلام کو، بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو عید کی مبارک باد دیتاہوں۔ حالات جیسے بھی ہوں، عید منانے کا حکم ہے اور ہم اس کی تعمیل کررہے ہیں۔اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ محترم امیر جماعت نے   اس بار جو خطبہ دیااس کا تعلق انابت الیٰ اللہ سے تھا۔ اسی میں امت کی فلاح و کام رانی ہے۔اسی سے وہ دنیا میںامامت و قیادت کا مقام حاصل کرسکتی ہے۔

advt

موجودہ حالات میں اس خطبہ میں امت کی راہ نمائی کا سامان موجود ہے۔ مولانا نے کہا کہ ہمارے مسائل ہیں اور بہت سنگین مسائل ہیں۔ ان کو حل کرنے کی ہم کوشش بھی کررہے ہیں۔ یہ کوشش جاری رہنی چاہیے۔

اس میں کوتاہی صحیح نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کا حکم ہے : ’’اللہ تعالی کا تقویٰ اختیار کرو ،جتنی تمہارے اندر استعداد ہے‘‘۔(التغابن:۱۶)یہ اللہ کی عنایت ہی ہے کہ اس نے ہم پر طاقت سے زیادہ بار نہیں ڈالا۔ اس کا دوسراپہلو یہ ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کرنی ہوگی کہ جو کچھ ہماری طاقت میں تھا وہ ہم نے کیا اور جو نہیں کرسکے وہ ہماری طاقت سے باہر تھا۔

اللہ تعالی نے ہمیں نمازروزے کا حکم دیاہے ، زکوٰۃ اور انفاق فی سبیل اللہ کی ہدایت کی ہے، استعداد ہوتو حج فرض کیاہے۔اس نے کہاہے کہ بیوی بچوں کی اصلاح کی کوشش کی جائے، انہیں فتنہ نہ بننے دیاجائے۔ اس نے کہاہے کہ امت کے ساتھ خیر خواہی کی جائے اور اسے دین پر قائم رکھنے کی سعی کی جائے۔اس نے تبلیغِ دین اور اس کی سربلندی کے لیے جدّوجہد اور اس کے لیے تکلیفیں برداشت کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ہم سینہ پر ہاتھ رکھ کر کہیں کہ کل قیامت کے روز کیا ہم کہہ سکیں گے کہ ان کاموں کے لیے ہمارے اندر جو طاقت تھی وہ ہم نے لگادی اور جو نہ کرسکے وہ ہماری طاقت سے باہر تھا۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتاہے کہ کیاکچھ ہماری استعداد میں تھا؟ اور کیا ہماری استعداد سے باہر تھا؟ اس کا حکم ہے : ’’اللہ کے راستہ میں جدّوجہد کرو جس طرح جدّوجہد کا حق ہے۔ اس کے لیے اس نے تمہیں منتخب کیاہے‘‘۔(الحج:۷۸)سوال یہ ہے کہ کیا دین کے لیے جدّوجہد کا حق اداہورہاہے؟

قرآن کہتاہے اور بار بار کہتاہے :  ’’ اگر تمہارے اندر اللہ تعالیٰ پر صحیح معنیٰ میں ایمان ہے اور اس کی ہدایات پر عمل کرنے کے لیے تم تیار ہو تو تمہاری کم زوریاں دور ہوں گی اور تمہیںلازماً سربلندی عطاہوگی۔یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ اس سے سچاوعدہ کس کا ہوسکتاہے؟کیا اس کے وعدے پر ہمیں یقین نہیں ہے؟(آل عمران:۱۳۹)

advt

 امیر جماعت نے کہا کہ اس امت نے ہر طرح کے تجربے کیے،سیاسی اور غیر سیاسی کوششیں کیں ، لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے، اس کی قسمت نہیں بدلی۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت حاصل ہوتی۔ اس کے بغیر کوئی بھی کوشش نتیجہ خیز نہیں ہوسکتی۔

قرآن پورے زور کے ساتھ کہتاہے:’’اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہ ہوگا اور اگر وہ تم کو چھوڑدے تو پھر کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے اور اللہ ہی پر ایمان والوں کو توکل کرنا چاہیے‘‘۔(آل عمران:۱۶۰)تاریخ کے اوراق اس کی تائید کرتے ہیں کہ جب اللہ کی نصرت اس امت کو حاصل رہی وہ سربلند ہوکر رہی۔ کوئی اس پر غلبہ نہ پاسکا۔جب اس کی نصرت سے وہ محروم ہوگئی تو کسی کی حمایت اس کے کچھ کام نہ آئی۔

اللہ تعالیٰ کی نصرت وحمایت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب اس کی شرائط کی تکمیل ہو۔ اللہ تعالیٰ سے توقعات ہی نہ رکھی جائیں ، بلکہ اس کے مطالبات بھی پورے کیے جائیں۔اللہ کے اس ارشاد کو غور سے پڑھنے کی ضرورت ہے  :

’’جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں تو بتادو کہ میں قریب ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتاہوں، انہیںبھی چاہیے کہ وہ میری پکار کا جواب دیں اور مجھ پر ایمان رکھیں۔ توقع ہے، وہ ہدایت پائیں گے‘‘۔(البقرۃ:۱۸۶)

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے قریب ہے۔ وہ ان کی دعائیں سننے کے لیے ہر آن تیار ہے۔کوئی لمحہ ایسا نہیں جس میں وہ ہماری دعا نہ سنتاہو۔وہ چاہتاہے کہ بندے بھی اس کی آواز پر لبیک کہیں اور اس کی اطاعت کے لیے تیار ہوں۔یہی راہ راست ا ور ہدایت ہے۔

اہل کتاب سے کہاگیا: ’’پورا کرو میرے عہد کو جو تم نے مجھ سے کیا ہے، میں تم سے کیے گئے عہد کو پورا کروں گا اور صرف مجھ سے ڈرتے رہو‘‘۔(البقرۃ:۴۰)یعنی یہ کہ تم نے مجھ سے عہد کیاتھا کہ احکام شریعت کے پابند رہوگے ، اسے پورا کرو، میں نے تم سے جو عہد کیاتھا اسے میں پورا کروں گا اور تمہیں دنیا اور آخرت میں سرخ رو اور کام یاب کروں گا۔

advt

اللہ تعالیٰ کی نصرت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب اس کے دین کی حمایت میں آپ کھڑے ہوں:

’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم اللہ (کے دین) کی نصرت کروگے تو اللہ تمہاری نصرت فرمائے گا اور تمہارے قدموں کو ثبات عطاکرے گا‘‘۔(محمد:۷)

اب آئیے دیکھیں کہ کیا ہماراایمان وہی ایمان ہے جس کا ہم سے مطالبہ کیاگیاہے اور جس پر اللہ تعالی کی مدد اور نصرت کا وعدہ کیاگیاہے۔ قرآن کہتاہے : ’’مومن تو بس وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ،پھر شک میں نہیں پڑے اور اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کے راستہ میں جہاد کیا ۔یہی سچے اور راست باز ہیں‘‘۔(الحجرات:۱۵)

ایمان وہ معتبر ہے جس سے یقین ابل رہاہو، جس میں اللہ اور اس کے رسول کی ہدایات پر شک و تردّد کی پرچھائیاں تک نہ پڑی ہوں اور جو انسان کو اللہ کے راستے میں جان اور مال کی قربانی کے لیے آمادہ کرے۔ جس کا یہ حال ہو وہی اپنے دعوی ٔایمان میں مخلص اور سچا ہے۔

ایک جگہ فرمایاگیا :  ’’مومن تو بس وہی ہیں، جب اللہ کا ذکر کیاجاتاہے تو ان کے دل دہلنے لگتے ہیں۔‘‘(الانفال:۲)اہل ایمان کی ایک پہچان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتاہے تو اس کی عظمت و ہیبت سے ان پر لرزش طاری ہوجاتی ہے، اس کی قدرت و طاقت کے تصوّر سے وہ کانپ اٹھتے ہیں۔اس دنیا میں آدمی اقتدارِ و قت سے ڈرتاہے ، حکومت سے خوف کھاتاہے،اس کے حکم کی خلاف ورزی ہوتو معافی کا طلب گار ہوتاہے، معافی کی توقع نہ ہوتو روپوش ہوجاتاہے، دوسرے ملکوں سے پناہ کا طالب ہوتاہے، لیکن اللہ تعالیٰ سے آدمی کہاں راہِ فرار اختیار کرے گا۔یہاں ہر طرف اسی کی حکومت اور فرماں روائی ہے ۔ اس کی گرفت سے بچ کر نکلنا ممکن نہیں ہے:

’’اے گروہِ جن و انس !اگر تم آسمانوں اور زمین کے اطراف سے نکل کر جاسکو  تو چلے جائو، لیکن تم نہیں جاسکتے۔ اس کے لیے جو اقتدار اور اور طاقت چاہیے وہ تمہیں حاصل نہیں ہے‘‘۔(الرحمن:۳۳)پوری دنیا پر اللہ کی حکومت ہے۔کسی میں یہ زور نہیں ہے کہ اس کے حدودِ مملکت سے باہر نکل سکے۔

اس کائنات میں اللہ تعالیٰ سے بڑی کوئی ہستی نہیں ہے کہ اس سے انسان کو ڈرایا جائے،اس کی قدرت سے زیادہ کسی کی قدرت نہیں کہ اس کا خوف دلایاجائے، لیکن افسوس کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان کا دعویٰ کرنے والے بھی اس کی قوت واقتدار کا تصوّر نہیں کرتے اور اس سے خوف نہیں کھاتے۔

advt

اہل ایمان کی ایک خصوصیت یہ بتائی گئی ہے :  ’’جب انہیں اللہ کی آیات سنائی جاتی ہیں تو وہ ان کے ایمان میں اضافہ کرتی ہیں اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں‘‘۔(الانفال:۲)اللہ کی آیات سن کر ان کا ایمان اور بڑھ جاتاہے اور راہِ حق زیادہ وضاحت سے ان کے سامنے آجاتی ہے۔یہ خیال ذہن کے کسی گوشے میں نہیں ابھرتا کہ اس پر عمل کی وجہ سے ہم پریشانی میں پڑگئے۔سخت سے سخت حالات میں بھی، جب کہ دین پر چلنا دشوار ہو، ان کا ایمان غیر متزلزل ہوتاہے اور انہیں اطمینان ہوتاہے کہ حق یہی ہے اور اسی میں ہماری کام یابی ہے۔انہیں اسباب دنیاپر نہیں ، اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل ہوتاہے کہ وہ ہمارے مسائل حل کرے گا اور ہماری دشواریاں دور فرمائے گا۔

جنگِ خندق میں مدینہ پر دشمنوں نے ہر طرف سے یلغار کردی اور محسوس ہورہاتھا کہ مدینہ کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے۔ اس وقت اہلِ ایمان پر اللہ کے توکّل کا یہ عالم تھا کہ ان کے نزدیک یہی اللہ کی رحمت کے نزول اور اس کے وعدوں کی تکمیل کا وقت ہے:

 ’’اور جب ایمان والوں نے لشکروں کو دیکھا تو کہا کہ یہ تو وہ چیز ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیاتھا اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا۔ اس نے ان کے ایمان اور اطاعت کے جذبہ میں اضافہ ہی کیا‘‘۔(الاحزاب:۲۲)

advt

 اخیر میں مولانا نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ ہی اس کائنات کا خالق، مالک، معبود و مسجود اور فرماں روائے حقیقی ہے۔ یہ نیل گوں آسمان، یہ چمکتے ستارے، یہ آفتاب و ماہتاب،یہ گردش کرتی ہوئی زمین، یہ شجر و حجر،یہ دریا اور پہاڑ، سب اس کے تابع ہیں۔ کسی میں مجال نہیں کہ اس کے حکم سے ذرّہ برابر سرتابی کرے، اس کی قدرت بے پایاں ہے، وہ جو چاہے وہی ہوتاہے، اس کی مشیت ہر چیز پر غالب ہے، اس کے فیصلوں کو کوئی بدل نہیں سکتا، اس کی سلطنت مشرق و مغرب، شمال اور جنوب ہر طرف ہے، وہ ہماری شاہ رگ سے بھی قریب ہے، وہ سیاہ رات سے روشن صبح نکالتاہے، مردہ زمین کو لہلہاتے چمن میں تبدیل کردیتاہے۔کائنات کے ہر گوشے سے یہ صدابلند ہورہی ہے کہ تم اس خدا کے ہوجائو، یہ دنیا تمہاری ہوجائے گی۔ پھر تمہیں کوئی زیر نہ کرسکے گا۔ یہ آواز ہر طرف گونج رہی ہے۔ کاش ہم یہ آواز سنتے تو ہماری دنیا بدل جاتی۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *