ایشیا ٹائمز نے جامعہ الیومنائی ایسوسی ایشن کے صدارتی امیدوار ‘ظفر امام ‘سے کی بات ؛ پوچھا کیا ہے ان کا انتخابی ایجنڈا ، لوگ کیوں کریں انہیں منتخب ؟

Asia Times Desk

نئی دہلی : (ایشیا ٹا ئمز/ ابو انس) جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ قدیم (الیومنائی ایسوسی ایشن ) کا 11 سال بعد 11 فروری کو انتخاب ہوگا جس میں صدر ،جنرل سیکریٹری، خازن سمیت دیگر عہدوں کے لیے ساڑھے پانچ ہزار سے زائد جامعی حضرات ووٹ ڈالیں گے اور اپنے پسند کا صدر منتخب کریں گے ۔

صدر کے عہدے میدوار کے لیے پانچ امیدوار میدان میں ہیں ، اور سبھی اپنی اپنی دعوے داری پیش کر رہے ہیں ، علاقہ جامعہ نگر کے درو دیوار پوسٹر اور بینر سے پوری طرح  رنگین ہوگئے ہیں ۔

طلبہ قدیم جامعۃ الفلاح دہلی یونٹ کے صدر نوراللہ خان تقریر کرتے ہوئے

 سبھی اپنی تعلیمی اور قائدانہ صلاحیت کو موثر انداز  میں پیش کرنے میں رطب اللسان  ہیں اور رائے دہندگان کو  پورا یقین دلارہے  ہیں کہ ان کی قیادت میں جامعہ کا الیومنائی ایسوسی ایشن مزید فعال ہوگا ۔

جمعے کی شام  شاہین باغ میں صدارتی عہدے کے امیدوار ظفر امام نے  ایک جلسے کا اہتمام کیا تھا جس میں کثیر تعداد میں جامعی برادری نے شرکت کی اور ان کی جیت کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ۔

اس موقع پر ایشیا ٹائمز نے ظفر امام سے بات کی اور یہ جاننا چاہا کہ ان کا انتخابی ایجنڈا کیا ہے ؟ لوگ انہیں کیوں منتخب کریں ؟

اس کے جواب نے  انہوں نے کہا کہ ”  جامعہ نے جو اختیارات ہمیں دیے ہیں ہم اس کے تحت اپنا ایجینڈا ترتیب دیں گے ۔ سب سے پہلے ہم دنیا بھر کے جامعی حضرات کو جوڑنے کی کوشش کریں گے ، اور ہم نے اس کی باقاعدہ شروعات کر دی ہے  5679 الیومنائی کو جوڑنے کا کام ہوا ہے جس میں صرف میں نے 800 افراد کو جوڑا ہے ” ۔

جب ہم نے ان سے پوچھا کہ وہ دوسرے امیداواروں سے خود کو زیادہ بہتر کیسے پاتے ہیں ؟ وہ کہتے ہیں، ” میں اسلامک ایجوکشن بیک گراونڈ سے ہوں ، میں حافظ قرآن اور عالم ہوں، پھر  میں جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ ہوا جہاں سے میں نے ہمیشہ امتیازی پوزیشن حاصل کی ، میری  سماجی اور تعلیمی سرگرمیاں کئی سطح پر جاری ہیں یہی مجھے دوسرے امیدواروں سے الگ کرتی ہے “۔ 

ویڈیو بھی دیکھیں  

بہر حال ظفر امام کے دعوے کا فائنل ٹیسٹ 11 فروری کو ہو جائے گا ۔ لیکن ایک بات تو اچھی ہوئی ہے  کہ جامعہ کے وی سی پروفیسر طلعت نے 11 سال سے جمود کا شکار جامعہ اولڈ بوائز ایسوسی ایشن پر طاری جمود کو توڑنے کا کام کیا اور نئی   الیومنائی ایسوسی ا یشن کو منظور کیا اور الیومنائی کی سرگرمیوں کو نئے سرے سے انجام دینے کا موقع فراہم کیا ہے ۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ نتائج جامعہ کے مستقبل کے لیے کس قدر سود مند ثابت ہوں گے ، جامعہ الیومنائی اپنے مادر علمی کی ترقی کے لیے کیا کارنامہ انجام دیں گے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *