غریب نادا ربچوں کوتعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے کھلا مفت انگلش میڈیم اسکول

admin

نئی دہلی(ہ س) ریاست اتر پردیش کے شہر الہ آباد کے نینی علاقے میں ایک ایسا انگلش میڈیم اسکول چل رہا ہے جس میں پڑھنے والے بچوں کو کوئی فیس نہیں دینی پڑ رہی ہے ۔ یہی نہیں یہاں پر پڑھنے والے بچوں کو اسکول کی طرف سے مفت کتابیں اور اسکول ڈریس بھی مہیا کرایا جا رہا ہے ۔شاید اپنی نوعیت کا یہ پہلا اسکول ہے جہاں بچوں کو مفت انگریزی میڈیم میں تعلیم دی جا رہی ہے ۔اسکول فی الحال یو پی عربی فارسی بورڈ سے تسلیم شدہ ہے مگر اس اسکول
کو سی بی ایس ای سے تسلیم شدہ کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔
بنیاد اکیڈمی کے نام سے کھولے گئے اس اسکول کو ہیلپ کیئر فاو¿نڈیشن چلا رہا ہے ۔گزشتہ سال سے یہ اسکول شروع کیا گیا ہے ۔اسکول میں نر سری سے پانچویں کلاس تک ہی پڑھائی ہو رہی ہے لیکن اس اسکول کوہائی اسکول تک لے جانے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ اسکول میں سی بی ایس ای کا سلیبس پڑھایا جا رہا ہے ۔ یہ اسکول ایک کرائے کی عمارت میں چل رہا ہے لیکن جلد ہی اس کی اپنی عمارت بنانے کی کوشش بھی چل رہی ہے ۔
اسکول میںعلاقے کے غریب نادا بچوں کو داخلہ دینے کا کام ابھی بھی چل رہا ہے ۔فی الحال 350بچوں کا داخلہ یہاں ہو چکا ہے ۔لیکن امید کی جا رہی ہے کہ یہ تعداد بڑھ کر چار سو ہوجائے گی۔اسکول میں بنے کلاس روم میں وہ سبھی سہولیات موجود ہیں جو کہ ایک عام اسٹینڈرڈ اسکول کے کلاس میں مہیا ہوتی ہے۔
ہیلپ کیئر فاو¿نڈیشن کے مینجنگ ڈائریکٹر الطاف احمد نے بتایا کہ جب انہوں نے ہائی اسکول امتیازی نمبر سے پاس کیا تھا تو ان کے والد نے انہیں ایک پرانا اسکوٹر دیا تھا اس اسکوٹر کو کلر کرانے کے لئے جب وہ کارخانے گئے تو وہاں پر کچھ بچوں کو کام کرتے ہوئے دیکھا ۔ ان بچوں سے بات چیت کرنے میں پتہ چلا کہ وہ اسکول نہیں جاتے کیونکہ ان کے والدین کے پاس اسکول کی فیس بھرنے کے لئے پیسہ نہیں ہے ۔انہوں نے بتایا کہ تبھی میری ذہن میں آیا کہ کیوں نہیں ایک ایسا اسکول بنایا جائے جہاں پر بچوں کو پڑھانے کے لئے کوئی فیس نہیں دینی پڑے۔انہوں نے بتایا کہ اب ہم اس لائق ہو گئے ہیں کہ ہم ایسے اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر فری انگلش میڈیم اسکول قائم کیاہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس اسکول پر ہر ماہ ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے کا خرچہ آ رہا ہے ۔اس میں اسکول کے ٹیچروں کی تنخواہ بھی شامل ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ہم نے اسکول میں جو اسٹاف رکھا ہے وہ کافی تعلیم یافتہ ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس طرح کا اور بھی اسکول ہم کھولنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے کوشش بھی کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج جب تعلیم ایک بازار کا روپ اختیار کر چکی ہے ایسے ماحول میں فری تعلیم دینے کے لئے اپنی پوری محنت سے کام کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ غریب بچوں کو انگلش میڈیم اسکول میں پڑھانے کا کام د2011سے بھی شروع کیا گیا ہے ۔تقریباً 60بچوں کو ہم لوگ الہ آباد کے دوسرے اسکولوں میں تعلیم دلاتے آ رہے ہیں ۔
لیکن اسکولوں کی منمانی کی وجہ سے ہم لوگوں نے اپنا اسکول کھولنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہمیں یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ جن 60بچوں کو ہم دوسرے اسکولوںمیں پڑھا رہے تھے ان پر جو خرچ آیا تھا اسی خرچ میںہم اپنے اسکول میں350بچوں کومعیاری تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *