فلم انماد (UNMAAD) ہجومی تشدد پر مبنی ایک دلچسپ کہانی

Asia Times Desk

 

ممبئی (ایشیا ٹائمز/ انصاری حنان) آخر وہ فلم جسکا شدت سے ناظرین کو انتظار تھا وہ منظر عام پر آہی گئی جی ہاں ہم یہاں پر فلم ”اُنماد  کا ذکر کر رہے ہیں جو کہ ایک ہندی ڈراما فلم ہے جسے پروڈیوس کیا ہے ادتیہ روشن نے جبکہ ڈائریکٹر اور اس فلم کی کہانی کے مصنف کبیرا میڈیا انٹرٹینمنٹ کے روح رواں شاہد کبیر ہیں اور مینیجنگ پروڈیوسر محمد خان ہیں واضح رہے یہ فلم حالات حاظرہ پر مبنی ہے یعنی جیسا کہ عام طور پر پورے ملک میں جگہ جگہ معصوم افرادہجومی تشدد کا شکار ہو رہے ہیں اس فلم کا کلیدی موضوع اسی سے متعلق ہے فلم میں ایک طرف ان پریشان حال کساء کو اور انکے کھرانے کودکھایا گیا ہے جنکے کاروبار سلاٹر ہاؤس اور گوشت کا کاروبار تقریباً بند ہونے سے مفلسی کا شکار ہو رہے ہیں تو وہیں ایسے ظالموں کو بھی خوب ظاہری طور پر دکھانے کی کوشش کی کئی ہے جو ہجومی تشدد برپا کرتے ہیں اور انہیں کیسے چند سیاستداں افراد کی پشت پناہی صاحل ہوتی ہے

Asia Times

فلم میں ایک جوڑے کی محبت بھری داستاں ہیجس سے فلم میں محبت کی چاشنی ڈالی گئی ہے لیکن غورطلب یہ بھی ہے کہ اس جوڑے کی محبت بھری کہانی کے ذریعہ لوجہاد کی منظر کشی کی کئی ہے جس میں محبوب ہندو مذہب اور محبوبہ مسلمان دکھائی گئی ہے جو کہ اپنے اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو چکے ہیں وہیں فلم میں کلوکساء نامی کلیدی کرداد کا رول امتیاز احمد نے بخوبی نبھایا ہے جو کہ ایک ہندو دھرم گرو پنڈت شمبھو شرما (اصل نام گیان پرکاش)کا جگری دوست ہے یہ دونوں بھی اپنے اپنے مذہب کے پابند ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے دوست کا کردار ادا کرتے ہوئے فلم میں انسانیت کا درس دیتے نظر آرہے ہیں فلم میں جہاں سبھی ادا کاروں نیاپنے کرداروں میں جان پھونک دی تو وہیں ناظرین نے فلم کی کہانی کو اور تمام کرداروں کی اداکاری کو خوب سراہا اور اور اکثر ناظرین کا کہنا ہے کہ ایک خاص طبقہ یا چند سیاستدانوں کی جانب سے ملک میں جو ہجومی تشدد کے خوف کی لہر پھیلا ئی گئی ہے اسے اس فلم نے عام زبان میں اجاگر کیا ہے

مصنف نے اپنی بات کو ایک بہتر طریقہ سے کسی کا نام لئے بغیر کہہ دیا ہے ایک ناظرین میں سے ایک شخص کا تو یہ کہنا ہے کہ اس فلم کو ملک کے وزیر اعظم کو بھی ضرور دیکھنا چاہئے فلم میں ایک قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ مظلوم اور ظالم اور محبوب ومحبوبہ کے کرداروں کو بھی ایسے فلمایا گیا ہے جس میں کسی بھی مذہب کو ٹھیس نہ پہنچے اس کی پابندی نظر آتی ہے جبکہ فلم میں تمام مذہب کا خیال رکھتے ہوئے ایک طرف ایک غریب لاچار مظلوم مسلمان کو ایک ہندو پنڈت کا جگری دوست دکھایا گیا ہے تو وہیں دوسری طرف سیاستدانوں کی بھڑکیلی تقاریر اور چند مفاد پرست عہدیداران و ذمہ داران کی باتوں میں آکر کٹر ذہنیت کے لوگوں کو ذرا ذرا بات پر فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے فلم میں امت پنڈرجنہوں نیشنکر یوگی نامی ایک کٹر زہنیت والے پر تشدد سیاست داں کا کردار ادا کیا ہے جو ذار ذار موقع کا فائدہ اٹھا کر اپنی سیاست کو فروغ دینے کی کوشش میں لگا ہوتا ہے فلم میں مظلوم کسائی کا کردارامتیاز احمد نے بطورکللو کساء خوب نبھایاتو وہیں کلو کے غیر مسلم دوست کا کردار گیان پرکاش ناگرنیشمبھو شرما کی شکل میں ادا کیا ہے جس کی اہلیا بھی اپنے شوہر کے مسلم دوست کی مدد کو تیار رہتے ہے جسے نکیتا وجئے ورگیانے پنڈتائین پارواتی کے روپ میں ادا کیاہے نیرج گری نے ایک فری لانس جرنلسٹ صحافی کا کردار ادا کیا ہے جو اپنی نیوز اور ریپورٹس وغیرہ اخبارات میں شائع کرنے کی جدودہد میں لاگا ہوتا ہے کہ کسی طرح اسکی کور کی ہوئی کوئی خبر کسی اخبار میں شائع ہو جائے اور دوسری طرف وہ اپنی محبوبہ شبانہ جمیل کے عشق میں گرفتار ہو چکا ہوتا ہیجوکہ ایک مسلمان لڑکی ہیاور اس کردار کواداکارہ منیشا مونڈل نے ادا کیا ہے

جہاں تشددکے ذریعہ اپنی سیاست کرنے والے ہندو سیاستداں کا کردار امت پنڈر نے ادا کیا ہے تو انکے مد مقابل مسلمانوں کے بھروسے کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلم سیاستداں کے طور پر سندیپ شرمانے جمال اعظمی کا کردار ادا کیا ہے جنہیں شرافت علی خان یعنی فلم میں مولانا / امام صاحب کی اور چند مسلمانوں کی حمایت حاصل ہیفلم میں دونو مذاہب کیسیاست دانوں کی آپسی خوفیا ملی بھگت کو دکھایا گیا ہے تو فلم کے ڈائریکٹر شاہد کبیر نے اس فلم میں دونوں مذاہب کے مذہبی رہناؤ کو بھی کرداد میں اتارا اور ایک طرف امام صاحب تو دوسری طرف پنٹت جی یعنی ہنسراج مینا کی ادا کاری سے فلم میں ہلکی پھلکی مذہبی تکراربھی دکھائی ہے فلم میں خاص طور پر گائے اور ہجومی تشدد کو دکھاتے ہوئے

اس بات کو عوام الناس تک لانے کی کوشش کی گئی ہے کہ کیسے بیل کو خرید و فروخت کرنے والوں کو موقع پاکر چند تشدد پسند کروہ بیل کو بھی گائے ثابت کرکے اکثر پیٹ پیٹ کر جان لینے کی کوشش کرتے ہیں اور انتظامیہ اور پولیس تماشائی بنی رہتی ہے اور کسی کسی معاملہ میں خود پولیس کیس کا رخ بدلدیتی ہیپھر وہ چاہے مذہبی تعصب کی بنا پر ہو یا پولیس کو کسی کے دباؤ میں آکر کرنا پڑھتا ہو لیکن ملک میں کئی ایسے موب لینچنگ (ہجومی تشدد)کے معاملات سامنے آئے ہیں جہاں پولیس پر بڑی لاپرواہی برتنے کا الزام لگا ہیفلم انماد میں ادا کار پردیب کٹاریہ کے ذریعہ ایسے بدعنوان پولیس افسر کو دکھانے کی کوشش کی گئی ہے جو مظلوم اور بے گناہوں کے ساتھ ساتھ اپنیجونئیر پر بھی حکم چلاتے ہیں فلم میں ہوالدار کا کردار شریف محمد نامی اداکار نے اپنے مخصوس لہجہ میں پیش کرکے سامعین کو لطف اندوز کیا ہے

فلم میں گائے اور بیل کا ذکر ہے تو یقیناً گؤ شالا بھی ہونا طے ہے اور اس گؤ شالا کے کیرٹیکر یعنی گائے کے رکھوالے کے طور پر انور خان نے اور جج کے طور پر وشوا وجئے بہل،سرکاری وکیل کے طور پر گووند جھا اور وکیلِ استغاصہ کا کردار وریندر شرما نے ادا کیا انکے علاوہ فلم میں مزاحیہ کردار کے طور پر انوبھؤ بھلا نیراجو لیلے (درمیانی جنس)والے شخص کا کردار ادا کیا ہیاسکے علاوہ ایک نوجوان مسلمان اور شبانہ کے بھائی کا کردار مینک گرگ نیساحل جمیل کے طور پر بخوبی نبھایا ہے جو اپنی بہن کے غیر مسلم عاشق اور فلم میں صحافی کا کردار ادا کر رہے نیرج گری سے بدلہ لینے اور اسے اپنی بہن سے دور رکھنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے مجموعی طور پر دیکھا جائے تو فلم انسانیت و یکجہتی کا پیغام ایک منظم اور بہتر طریقہ سیدیتی ہوئی نظر آتی ہے۔۔۔

Asia Times

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *