اجتماعی اجتہاد ،عصری مسائل کی تحقیق اورتحفظ دین کی فکر علماءکی اہم ذمہ داری : مولانا رابع حسنی ندوی

ممبئی سے شمس تبریز قاسمی کی رپوٹ

Asia Times Desk

اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کو ہندوستان اور ایشاءسمیت دنیا بھر میں ایک معتبر فقہی ادارہ کی حیثیت سے جانا جاتاہے ،جدید اور عصری مسائل کی تحقیق اور اجتہاد اکیڈمی کا خصوصی طرہ امتیاز ہے ،یہاں عصری مسائل کی تحقیق کے ساتھ نوجوان علماءاور مدارس کے منتہی طلبہ کی تربیت پر بھی خصوصی تربیت دی جاتی ہے، آغاز سے لیکر اب تک 26 سمینار ہوچکے ہیں اور یہ ستائیسواں سمینار عروس البلاد ممبئی میں جاری ہے ،ان خیالات کا اظہار 27 ویں فقہی سمینار کے افتتاحی سیشن میں کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولانا خالدسیف اللہ رحمانی نے کیا ،انہوں نے مزیدکہاکہ ان ساری کوششوں کا مقصد افراد سازی اور رجال کار کی تیاری ہے ،اسی مقصد کے تحت خود ان سمیناروں میں بزرگ اور کہنہ مشق اساتذہ کے دوش بدوش جوان اور نوجوان اساتذہ وارباب افتاءکو بھی مدعو کیا جاتاہے ۔شروع میں جدید مسائل پر لکھنے والے افراد نہیں ملتے تھے لیکن اب اتنے ہوگئے ہیں کہ سب لوگوں کو مدعو کرنا مشکل ہوجاتاہے ،مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے مزید کہاکہ اکیڈمی کا یہ سمینار ہندوستان بھر میں اصحاب فکر علماءو ارباب افتاءکا سب سے بڑا اجتماع ہوتاہے ۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے صدر اور اکیڈمی کے سرپرست مولانا رابع حسنی ندوی اپنے خطاب میں کہاکہ اسلامک فقہ اکیڈمی جیسا ادارہ عصر حاضر کی اہم ضرورت ہے ، نئے مسائل کی تحقیق اور اجتماعی اجتہادکی حیثیت سے اس ادارہ کو خصوصی امیتاز حاصل ہے اور جولوگ یہ خدمات انجام دے ہیں وہ قابل صدمبارکباد ہیں ، انہوں نے کہاکہ دین کی حفاظت کرنے کا اللہ تعالی نے علما ءکو حکم دیا ہے اور اس کیلئے جدوجہد کرنا ،عصری مسائل کو جدید اسلوب میں پیش کرنا اہم فریضہ ہے اور فقہ اکیڈمی انتہاءخوش اسلوبی کے ساتھ یہ کام کررہی ہے ۔ ترکی سے تشریف لائے معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر عمر فاروق نے کہاکہ فقہ کی تدوین اور اسلامی علوم و فنون کی اشاعت میں ہندوستانی علما کی خدمات ناقابل فراموش ہے، دیوبند نے علوم و فنون کے فروغ میں نمایاں کردار انجام دیا ہے اس کے علاوہ علامہ اقبال اور علامہ شبلی نعمانی سے بھی ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ان خیالات کا اظہار اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیاکے ستائیسویں سمینار سے خطاب کرتے ہوئے ترکی سے تشریف لائے معروف اسکالر ڈاکٹر عمرفاروق نے کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ خلافت عثمانیہ کے دور میں علامہ شبلی نعمانی تشریف لائے تھے اور اس وقت وہاں انہوں نے جو خطاب کیا تھ

ا اس کی اہمیت اور افادیت آج بھی محسوس کی جاتی ہے۔
سعودی عرب سے تشریف لائے ڈاکٹر عامر بہجت نے اجتہاد اور جدید مسائل کی تحقیق کو بیحد ضروری قراردیتے ہوئے کہاکہ عصر حاضر میں یہ انتہائی اہم علمی کام ہے اور ہندوستان جیسے ملک میں اس ادارہ کا قیام قابل فخر ہے ،بحرین سے تشریف لائے ڈاکٹر حبیب ناملیتی نے کہاکہ اسلام ایک دائمی مذہب ہے ،بدلتے زمانے کے ساتھ مسائل کی تحقیق اور اجتہاد کی ضرورت پیش آتی ہے ،لہذافقہاءکی ذمہ داری ہے کہ وہ غور وخوض کریں اور نئے مسائل کی تخریج کریں ۔افغانستان سے تشریف لائے شیخ صبغة اللہ زادہ نے کہاکہ فقہ کی تدوین ہر زمانے میں ہوئی اور موجودہ دور میں اجتماعی سطح پر کیا جانے والاکام انتہائی اہمیت کا حامل ہے ،بنگلہ دیش سے تشریف لائے شیخ عبد المالک اور لند ن سے تشریف لائے مفتی برکت اللہ قاسمی نے بھی اپنے تفصیلی خطا ب میں اکیڈمی کی خدمات کو سراہا۔جمعیة علماءہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے بھی سمینار کے افتتاحی سیشن میں شرکت کی اور اکیڈمی کی فقہی خدمات کو سراہتے ہوئے کہاکہ فقہی اعتدال کے ساتھ ہر میدان میں اعتدال پیداکرنے کی ضرورت ہے ۔ اس موقع پر دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم مولانا عبد الخالق سنبھلی ،مولانا منیر احمد ممبئی،محمد علی پاٹنکر وغیرہ نے بھی خطاب کیا ،جبکہ صدارت کا فریضہ اکیڈمی کے صدر مولانا نعمت اللہ اعظمی استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند نے انجام دیا ۔قبل ازیں مفتی عزیز الرحمن فتح پوری نے خطبہ افتتاحیہ پیش کیا ،مفتی سعید الرحمن فاروقی اور مولانا شاہد ناصری الحنفی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا ،سمینار کا تعارف مولانا عتیق احمد بستوی نے کرایا اور نظامت مولاعبید اللہ اسعدی نے کی ۔اکیڈمی کے نائب صدر مولانا بر ہاالدین سنبھلی کی دعاءپر افتتاحی سیشن کا اختتام ہوا۔
سمینار کے افتتاحی سیشن میں ملک وبیرون ملک سے تشریف لائے چار سو سے زائد علماءواسکالر س نے شرکت کی جس میں مولانا شوکت بستوی استاذ دارالعلوم دیوبند،مولانا برہان الدین قاسمی ڈائریریکٹر مرکزالمعارف ایجوکیشن اینڈر یسرچ سینٹر ممبئی ،پروفیسر شکیل احمد صمدانی علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی علی گڑھ ،مفتی ندرتوحید جھارکھنڈ،مولانا انیس الرحمن قاسمی ناظم امارت شرعیہ پٹنہ ،مولانا عتیق الرحمن مکی وغیرہم کے اسماءگرامی سرفہرست ہیں ۔
واضح رہے کہ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ستائیسواں سمینار سال رواں ممبئی میںمنعقد ہورہاہے جو 25 تا 27 نومبر جاری رہے گا اور اس میں ملک وبیرون ملک کے علماءمتعدد جدید مسائل پر تحقیق کریں گے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *