یومِ مادر پر مقدمہ

ڈاکٹر احمد عیسیٰ

Asia Times Desk

ترجمہ: تنویر آفاقی

یور آنر، ہم بچے اور بچیاں دنیا کے تمام بچوں کی طرف سے آج  ’’یوم مادر‘‘  (مدرز ڈے) کے موقع پر آپ کے سامنے کھڑے ہیں۔ ہم سب کی یہ آرزو ہے کہ آپ ہمارے ساتھ گزرنے والے واقعات اور ہماری شکایتوں کو سن کر ’’یوم مادر‘‘ کے نام سے منائے جانےوالے دن اور ہماری مائوں کے بارے میں عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمائیں کہ کیا واقعی یہ دن جشن منانے کا ہے یا اس بگاڑ کو جاننے کا دن ہے جو معاشرے میں آ چکا ہے؟

یور آنر، ہمیں اس بات سے انکار نہیں ہے کہ اکثر مائیں مہربان ہوتی ہیں، جو اس بات کی مستحق ہوتی ہیں کہ انھیں تمغۂ شرف سے نوازا جائے، انھیں تمغۂ تشکر سے سرفراز کیا جائے اور ان کے جشن میں سال کاایک دن نہیں بلکہ ہر دن یوم مادرکے طور پر منایا جائے۔ لیکن، یور آنر ہم آپ کے حضور اس لیے آئے ہیں کہ بعض مائوں کے بچوں کی زندگیکا ایک دوسراتکلیف دہ پہلو دنیا کے سامنے لا سکیں۔

۱۔ جنھیں دورانِ حمل ختم کر دیا گیا

یور آنر، ہم زندگی کی روشنی نہیں دیکھ پائے۔ ہماری ماں نے ہمیں اپنے پیٹ کے اندر ہی مار ڈالا تھا۔ کسی نے بلا ضرورت یہ کام کیا تو کسی نے بچے یا بچی کی خواہش نہ ہونے کے تحت یہ کام کیا۔ مثال کے طور پر ہندستان میں ہر سال ہم میں سے سات لاکھ بچیوں کو حمل کے دوران ہی ہلاک کر دیا جاتا ہےاور وہ اپنی ماں کا چہرہ بھی نہیں دیکھ پاتیں !اور ۲۰۱۰ سے ۲۰۱۴ کے دوران ہر سال ۵۶ ملین واقعات حمل گرانے کے، نہ کہ حمل گر جانے، کے پیش آئے ہیں۔

یور آنر، ہم  میں سے کتنے ہی بچے ایسے ہیں جو جنین کی عمر میں ہی قتل کر دیا جاتے ہیں اور وہ اُس ماں کا یومِ جشن نہیں دیکھ پاتے جس نے انھیں بغیر کسی ضرورت کے ہی قتل کر دیا تھا۔ ابھی ہم خون اور لوتھڑا ہی تھے کہ اس نے ہمیں نکال پھینکا اور ہم سے جان چھڑا لی تاکہ وہ خود زندگی اور یومِ مادر سے لطف اندوز ہو سکے۔

۲۔ بیمار

یورآنر، ہم وہ بچے ہیں جنھیں اپنی مائوں کے ذریعے سےاس وقت ایڈز کی بیماری لگ گئی تھی جب ہم ماں کے پیٹ میں تھے، یا جب ہماری پیدائش ہو رہی تھی یا جس وقت ہم ایڈز میں مبتلا اپنی مائوں کا دودھ پی رہے تھے۔ ہم میں سےپندرہ سال سے کم عمر کے دو ملین بچے ایسے ہیں جو اس مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ ۲۰۱۷ء میں یومیہ ۱۸۰ ہزار بچے ایڈز کا شکار ہوئے ہیں۔ اب بتائیے ہم اپنی ماں کے نام سے کوئی دن کیسے منائیں جب کہ ہماری مائوں نے ناجائز جنسی تعلقات یا نشہ آور انجکشنوں کے ذریعےسے یہ مہلک مرض ہمارے اندر منتقل کر دیا ہے؟!

۳۔ ماں باپ کی شفقت سے محروم

کسی شاعر نے کہا ہے کہ یتیم وہ نہیں ہے جس کے والدین غم روزگار سے نجات پاکر گزر گئے ہوں اور ان کا بچہ ذلیل و خوار تنہا رہ گیا ہو، بلکہ یتیم تو وہ ہے جسے ایسی ماں ملی ہو جو بچے کی ذمہ داریوں سے خود کو دست بردار کر چکی یا ایسا باپ ملا ہو جو بچوں سے بے پروا ہو کر اپنے کاموں میں مشغول رہتا ہو۔

یور آنر، شاعر نے کتنی سچی بات کہی ہے۔ ہم وہ بچے ہیں جن کی مائیں تو ہیں، لیکن وہ اپنے لیے جیتی ہیں اور سوچتی یہ ہیں کہ وہ ہمارے لیے جی رہی ہیں۔ ہماری مائیں ہمیں صبح سویرے جگا کر نرم و گداز بستروں سے اٹھا دیتی ہیں اور شام تک کے لیے ہمیں آیائوں کے حوالے کر دیتی ہیں۔ اس طرح آیائیں خود بھی اپنے بچوں سے الگ ہو جاتی ہیں اور ماں کی حیثیت سے اپنا فریضہ ادا نہیں کر پاتیں۔ ہماری مائیں مال کمانے کے لیے ملازمت کرتی ہیں لیکن مادریت سے محروم ہو جاتی ہیں۔ تھکی ماندی گھر واپس آتی ہیں تو ان کے پاس ہمارے لیے وقت نہیں رہتا۔

تحقیقات یہ بتاتی ہیں کہ ملازمت پیشہ عورت ہفتے میں دو سے تین گھنٹے یا اس سے بھی کم اپنے بچوں کے ساتھ گزارتی ہے۔ اس کی وجہ سے ہم ۷ سے ۱۱ برس کی عمر کے دوران6.2گنا اس خطرے کا شکار ہو جاتے ہیں کہ ہمیں موٹاپے اور اس کے عوارض لاحق ہو جائیں۔

برطانیہ کے دوہزار گھروں کے ایک جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دفتری کاموں کے طویل اوقات اور گھر اور دفترکی طویل آمد و رفت ماں باپ کو حد درجہ تھکا کر چور کر دیتی ہے۔ یور آنر، آپ تصور کیجیے کہ بچوں کی حیثیت سے والدین کی طرف سے ہمیں دیا جانے والا وقت (جس میں ہم کمپیوٹر، موبائل وغیرہ میں مصروف نہ ہوکر اپنے والدین کے ساتھ رہتے ہوں )  صرف ۳۴ منٹ یومیہ ہوتا ہے۔

۴۔ سنگل پیرنٹ (والدین میں سے کوئی ایک )

یور آنر، ہم ایک بکھرے ہوئے خاندان میں رہتے ہیں، جہاں ماں باپ میں سے کوئی ایک ہی ہمارے ساتھ ہوتا ہے، عام طور پر وہ ماں ہی ہوتی ہے۔ ہم اس طرح کے بچے اقلیت میں بھی نہیں ہیں، کیوں کہ ہماری تعداد ۳۲۰ ملین ہے جو سنگل پیرنٹ گھروں میں رہتے ہیں۔

یور آنر، ہم مالی اور جذباتی اعتبار سے مصیبت زدہ بچے ہیں۔ ہماری دیکھ بھال اور نگہداشت کم ہی ہو پاتی ہے۔ ہم خاندان کے نصف ثانی (ماں یا باپ میں سے کسی ایک) سے محروم ہیں۔ قدیم زمانے میں اس کا سبب والدین میں سے کسی ایک کی موت ہو جاتی تھی اور زندہ رہ جانے والا باپ یا ماں اپنی اولاد کی بہترین تربیت کے لیے اپنا سب کچھ لگا دیا کرتی تھی۔ لیکن اب اس کا سبب کچھ اور ہے۔ اس کا ایک سبب بعض عورتوں کی احمقانہ آزادی ہے جو وہ کسی مرد کے بندھن سے نہ بندھ کر حاصل کرتی ہیں۔ اسی طرح اس کا ایک سبب طلاق، شوہر بیوی کا ایک دوسرے کو چھوڑ دینا، علیحدگی اختیار کر لینا اور شادی کے تعلق سے منفی نظریہ بھی ہے۔ ناجائز اور غیر قانونی جنسی تعلقات بھی اس کی ایک وجہ ہے۔

یور آنر، ہم اس صورت حال کی وجہ سے فقر و فاقے کا شکار ہیں اور ہماری تعلیم میں تسلسل نہیں ہے۔ جو بچے ایک مکمل خاندان میں رہتے ہیں، ان کے مقابلے میں ہم جذباتی، سماجی، نفسیاتی اور اخلاقی مسائل سے دوچار ہیں۔

ان تمام صورت حالات کے لیے ہم صرف ماں کو ہی مورد الزام نہیں ٹھہراتے، اگرچہ معاشرہ، خاندانی نظام اور قانونی صورت حال بھی اس کے لیے ذمہ دار ہے، لیکن ماں کا بھی اس میں دوس ہے، کیوں کہ اس نے ہی ہمارے لیے یہ راستہ چنا ہے اور وقت گزر جانے سے پہلے ہی اس کو درست کرنے کی کوشش نہیں کی۔

یور آنر، ہم آپ کی خدمت میں کچھ دلائل پیش کرتے ہیں۔ بعض محققین نے مکمل خاندان (ماں اور باپ دونوں ) کے ساتھ رہنے والے بچوں اور دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ رہنے والے بچوں کے درمیان  نہایت باریک بینی سے جائزہ لیا ہے۔ ان کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ماں اور باپ دونوں سے مل کر چلنے والی خاندانی زندگی آسودہ اور مکمل زندگی ہوتی ہے، حتی کہ حمل ٹھہرتے ہی اس آسودگی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے کیوں کہ باپ گھریلو کاموں میں ماں کا ہاتھ بٹاتا ہے۔ اس کے بعد خاص طور سے ان گھروں کے بچوں میں جو باہم شادی کی بنا پر وجود میں آتے ہیں اور ماں باپ ایک دوسرے کے کاموں میں مثبت طور پر ہاتھ بٹاتے ہیں، وہاں ہماری زندگی میں زیادہ سکون ہوتا ہے اور ہماری تربیت پر زیادہ وقت اور مال خرچ ہوتا ہے۔ لیکن جو خاندان شادی کے بغیر وجود میں آتے ہیں، یا جہاں ماں یا باپ میں سے کوئی ایک ہی رہتا ہے انھیں بعض تحقیقات میں ’’غیر محفوظ‘‘ خاندان کانام دیا گیا ہے۔ مکمل خاندان کے بچوں کے مقابلے میں اس قسم کے غیر محفوظ خاندانوں کے دو گنا سے بھی کم بچے اسکول کی تعلیم مکمل کر پاتے ہیں۔

یور آنر، یہ ایک امریکی رپورٹ کا خلاصہ ہے جس نےسال ۲۰۰۰ء میں پانچ ہزار سے زیادہ بچوں کی پرورش اور ان کے خاندان کا جائزہ لینےکے بعد یہ نتائجپیش کیے ہیں۔ جب کہ ایک برطانوی تحقیق نے بھی  ۱۹ہزار بچوں اور ان کے اہل خانہ کا جائزہ لے کر یہ ثابت کیا ہے کہ والدین میں سے کسی ایک کے ساتھ رہنے والے بچے مکمل خاندان میں رہنے والے بچوں کے مقابلے میں بہت کم اسکول میں تعلیم حاصل کر پاتے ہیں۔ اسی طرح سنگل پیرنٹ خاندان میں رہنے والے ہم بچوں کے بارے میں یہ بھی ثبوت فراہم کیا ہے کہ ہم زیادہ نفسیاتی امراض کاشکار رہتے ہیں۔ بہتر اور مناسب تو یہ تھا کہ ہماری ماں کسی مرد شوہر کے ساتھ رہ کر اپنا گھر آباد کرتی اور خاندانی ڈھانچےاور اس کی ترقی کو محفوظ کر لیتی۔ ہماری رائے ہے کہ ہم اِ س ماں کے اعزازمیں یوم مادر نہیں منائیں گے جب کہ اس نے ہمیں بغیر باپ کے پرورش پانے کے لیے  چھوڑ دیا ہے۔ ہمارا باپ ہوتا تو ماں کے ساتھ مل کر ہماری تعلیمی، تربیتی اور نفسیاتی کفالت کرتا۔

۵۔ غیر مہذب ماحول

یور آنر، لادینی سماج ہی اصلاً وہ سماج ہے جس نے ہمیں ماں اور اس کی شفقتوں سے محروم کیا ہے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ بعض معاشروں نے دین و مذہب، مروءت و اخلاق اور فطرت انسانی سے دور ہو کر ہم جنسی کی شادی کی اجازت دے دی ہے۔ پھر یہ معاشرہ ہم میں سے کسی ایک بچے کو وجود میں لے آیا اور ہمیں اس الگ ہی قسم کے گھر میں زندگی گزارنے کے لیے چھوڑ دیا۔ یہ مائیں ہمارے دفاع کے لیے نہیں اٹھیں، بلکہ ان میں سے بعض مائیں تو دوسری عورتوں کے ساتھ شوہر بیوی کی طرح زندگی گزارنے پر آمادہ و راضی ہو گئیں۔ اس قسم کی زندگی سے انسانی فطرت کبھی واقف نہیں رہی اور نہ اعلی فکر اس سے واقف رہی ہے۔

بلکہ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہم دو ہم جنسوں کے ساتھ رہ کر پرورش پاتے ہیں جو آپس میں ایک دوسرے کو میاں بیوی سمجھ کر ساتھ رہ رہے ہوتے ہیں۔ اور یہ واقعہ ہے، جیسا کہ بی بی سی  ٹیلی ویژن کی  رپورٹ ہے کہ جب دو ہم جنس پرست مردوں کے اندر  ایک بچے کو جنم دینے کی خواہش پیدا ہوئی —  یور آنر، آپ حیران نہ ہوں — تو انھوں نے امریکہ میں رہنے والی ایک نامعلوم خاتون سے جو کہ اپنے پیدائشی انڈوں کو ہبہ کر تی ہے، اس کے انڈے لیے اورلاس ویگاس گئے۔ وہ انڈے ان سے لے لیے گئے اور انھیں دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ کچھ انڈوں کو دونوں میں سے ایک شخص کے مادۂ منویہ کے ساتھ باور کرا دیا گیا، اور کچھ انڈوں کو اس کے دوست کے مادۂ منویہ کے ساتھ باور کرا دیا گیا۔ اس کے بعد دونوں جنینوں کو یکجا کر کے منجمد کر دیا گیا اور بعد میں کینڈا کی ایک کرائے کی ماں کے رحم میں منتقل کر دیا گیا جس نے اجرت پر یا رضاکارانہ طور پر اپنی کوکھ اس کام کے لیے پیش کی تھی۔ اس عمل کے نیتجے میں یور آنر، ہمارے دو جڑواں بہن بھائی پیدا ہوئے جن کی ماں تو ایک ہی تھی لیکن باپ الگ الگ تھے۔ یور آنر، ہمارے حقوق کی کوئی پروا کیے بغیرے ہمارے ساتھ اور ہمارے مستقبلکے ساتھ یہ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے؟! کیا موجودہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں اور غیراخلاقی طور پر انجام پانے والے حمل کے زمانے کی اس ماں کے لیے ’’یومِ مادر‘‘ منایا جا رہاہے؟او رہمیں دو مردوں کے درمیان اس طرح چھوڑ دیا گیا ہے کہ ہمیں یہ نہیں معلوم کہ ہمارا مستقبل کیا ہوگا؟!

۶۔ ہم تعزیت کے مستحق ہیں

یور آنر، ہماری ماں یوم مادر کا جشن منانے کے لیے اس دنیامیں موجود نہیں ہے۔ وہ دنیا سے چلی گئی، اسے قتل کر دیا گیا، وہ ڈھیروں ملبے کے نیچے دبا دی گئی۔ شام پر گرنے والے موت کے بموں نے،یمن میں ہونے والی بم باری نےاور عراق کے بم دھماکوں نے اس کے جسم کے چیتھڑے کر دیے۔ اس سے پہلے بوسنیا میں پیراملٹری فورس کے ہاتھوں، غزہ میں فاسفور بموں اور قتل عام کے ذریعے ان کے ساتھ یہی سلوک کیا گیا تھا۔ ہماری مائیں اس دنیا میں نہیں رہیں کیوں کہ دشمنوں کے حصار اورغذائی اجناس سے محرومی کی وجہ سے بیماریوں نے انھیں ناتواں کر دیا تھا۔ اور یہ سب اکیسویں صدی میں پوری دنیا کی آنکھوں کے نیچے ہو رہا ہے۔

ہم تعزیت کے مستحق ہیں نہ کہ جشن کے۔ یمن کے اندر گزشتہ دو برسوں کے دوران تقریباً ۶۰ ہزار لوگ ما ر دیے گئے۔ ان میں مائیں بھی تھیں اور بیٹیاں بھی تھیں جنھیں مستقبل کی مائیں ہونے کا فریضہ ادا کرنا تھا۔ یور آنر، جیسا کہ ادارۂ ’’انقذوا الاطفال‘‘ (بچوں کو بچائو) نے بتایا ہے کہ ہم میں ۸۵ ہزار بچے اور بچیاں بھوک کی وجہ سے مر چکی ہیں۔ یہاں وہاں ہماری مائیں اور بہنیں موت کاشکار ہوئی ہیں، اللہ ان پر رحم فرمائے۔ اچھا تو یہ ہوتا کہ ان مائوں اور بہنوں کی زندگی میں یہ دن منایا جاتا، انھیں بہتر اور محفوظ زندگی فراہم کر دی جاتی اور وہ یتیم بچوں کی پرورش کرتیں جو ضائع ہو رہے ہیں اور جنھیں ایک طرف ڈال دیا گیا ہے۔ ہم کیسے کوئی جشن منائیں جب کہ مصائب نے ہمیں اپنے قبضے میں لے رکھا اور ہر خوبصورت چیز ہماری زندگی سے چھین لی گئی ہے؟!

زندگی تاریک ہو چکی ہے،اور مستقبل بھی سیاہ و تاریک ہے۔ اللہ کے سوا ہمارا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔ ہم جشن منانے کہاں جائیں ؟! اور کیسے کوئی جشن منایا جا سکتا ہے جب کہ ظالموں نے ہم پر بم باری کی ہے، ہمیں بھوکا رکھا ہے اور ہماری مائوں کی زندگی ختم کردی  ہے؟!

۷۔ بدقسمت

یور آنر، ہم سڑکوں اور فٹ پاتھ پر زندگی گزارنے والے بدقسمت بچے ہیں۔ ہمارا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ نہ تعلیم ہے، نہ صحت ہے۔ سگریٹ پیتے ہیں، نشہ کرتے ہیں۔ ظالم بھیڑیوں اور لومڑی کی طرح چالاک مجرموں اور مصائب کے نشانے پر رہتے ہیں۔ ہم ’’یوم مادر‘‘ کیسے منائیں جب کہ ہماری ماں ہمیں چھوڑ کر اور سڑک پر پھینک کر چلی گئی، خاص طور سے ہم میں سے ان بچوں کو جن کا سارا وقت سڑکوں پر گزرتا ہے اور کبھی اپنے گھر واپس نہیں جاتے۔ ان کا کوئی پتہ ٹھکانہ نہیں ہے۔ اپنی غربت اور فاقے یا کسی اور وجہ سے ہماری مائیں ہمیں چھوڑ کر چلی گئیں، یا اس لیے چھوڑ کرچلی گئیں کیوں کہ ہم زنا کی پیداوار ہیں یا ہم جسمانی اعتبار سے معذور ہیں۔ ہمارا خاندان ایک ایسی جنگ میں ہلاک ہو گیا ہے جس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ بچوں کی منتشر بھیڑ، تعلیمی سلسلے کا ختم ہو جانا، مجبوراً کام کرنا یا بھیک مانگنا، گھر اور اہل خانہ سے محرومی، انفرادی آزادی کے مفہوم میں جو وسعت آ گئی ہے، اہل خانہ کی بے روزگاری، والدین کے درمیان مستقل اختلافات اور ایک دوسرے کے لیے نفرت و دشمنی، یہ وہ اسباب ہیں، یور آنر، جو ہماری تباہی کا سبب بنے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق ہماری تعداد ۱۵۰ ملین سے زیادہ  ہے۔ ہم کوڑے کے ڈھیروں سے کھانا تلاش کرکے کھاتے ہیں، غریب محلّوں اور گندی بستیوں میں ہم آوارہ گھومتے پھرتے ہیں، سڑکوں پر پُلوں کے نیچے، سیور کے نالوں اور ریلوے اسٹیشن کے نیچے سو جاتے ہیں۔ ہماری زندگی کی مدت خوفناک حد تک مختصر ہے۔ ایسا کون سا دل ہو سکتا ہے کہ وہ ہمیں جہنم کے حوالے کر دے اور اس کے لیے جشن و احترام کا اہتمام کیا جائے؟!

۸۔ ہم کب آئیں گے؟

یور آنر، ہم ایک اور طبقےکے بارے میں آپ سے شکایت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ طبقہہے جس نے ہم پر ظلم کیا ہے اور دنیا میں ہمیں آنے سے روک دیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو شادی نہیں کرنا چاہتے، یا تاخیر سے شادی کرتے ہیں، یا شادی تو کر لیتے ہیں لیکن بچے پیدا کرنا نہیں چاہتے۔ ہم اس جگہ کھڑے ہو کر یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ان لوگوں کو اپنا طرز زندگی بدلنا چاہیے تاکہ وہ باپ یا ماں بننے کی خوشی حاصل کر سکیں۔ اسی وقت انھیں یہ حق حاصل ہو سکے گا کہ ان کی یاد میں کوئی دن منایا جائے، لیکن ہمارے ساتھ منایا جائے۔ اگر ہم دنیا میں نہ آئے تو بڑھاپے کے تناسب میں اضافہ ہو جائے گا، اقتصادی ترقی میں گراوٹ آ جائے گی، پھرنئے کام کرنے والے ہاتھ اور غور و فکر کرنے والا دماغ کہاں سے آئے گا۔ یوروپ میں صرف ۲۰ فی صد گھرانے ایسے ہیں جو شوہر، بیوی اور بچوں پر مشتمل ہیں۔ عورتوں میں شادی کی عمر ۳۰ سال اور مردوں میں ۳۲سال ۴ ماہ ہو گئی ہے۔ یعنی کوئی عورت پہلی بار شادی ۳۰ برس کی عمر میں اور مرد ۳۲ سال چار ماہ کی عمر میں کرتا ہے۔ کیا آپ لوگوں کا کام اور ملازمت ہم سے زیادہ اہم ہے؟ کیا آپ کی دولت ہم سے زیادہ بڑی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہم ان لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔

۹۔ شادی کے بغیر

یور آنر، افسوس کی بات ہے کہ یوروپ کے اندر ہم بچوں کی تقریباً نصف تعداد ایسی ہے جن کی پیدائش ہمارے والدین کی شادی کے بغیر ہوئی ہے۔ ۲۰۱۶ء کے یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ شادی کے بغیر پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد اوسطاً ۴۲/۶ فی صد ہے۔ ۲.۲ ملین شادیاں ہوئیں، نو لاکھچھیالیس ہزار (۹۴۶۰۰۰)طلاقیں واقع ہو ئیں اور۱.۵ ملین بچے پیدا ہوئے۔ شادی شدہ زندگی، جس میں ہم باپ کی شفقت اور ماں کی مامتا سے بہرہ مند ہو سکیں،  باپ کی رہنمائی اور ماں کی تربیت پا سکیں، ایسی زندگی کو اختیار کرنے یا نہ کرنے کے سلسلے میں بعض مائوں کی طرف سے اندھی آزادی کی حوصلہ افزائی ہم کیسے کریں یا اس پر انھیں کیسے مبارک باد دیں۔ ’یومِ مادر‘ شادی شدہ زندگی اور محفوظ و مطمئن خاندان کے بغیر کیسے منایا جا سکتا ہے؟

عزیز قاری، اگر اس مقدمے کے جج آپ ہوں تو بتائیں آپ کیا فیصلہ صادر کریں گے؟ کیا ہمیں یوم مادر منانا چاہیے؟ (المجتمع: مارچ ۲۰۱۹ء)

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *