مودی کو اپنے دوسرے دور اقتدار میں خوف کو امید سے بدلنے کی ضروت ہے

فرینک اسلام

Asia Times Desk

وزیر اعظم نریندر مودی کی حالیہ انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیابی پورے ملک میں ان کی مقبولیت کی دلیل ہے۔ سات مرحلوں پر مشتمل انتخابی عمل کے دوران میڈیا میں شائع شدہ کئی مضامین میں اس خدشہ کا اظہار کیا گیا تھا کہ مودی کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے کروڑوں لوگوں کے حق رائے دہی پر اثر پڑے گا اور یہ بذات خود ہندوستانی جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔ اس طرح کے خیالات اور سوچ کی عکاسی اس اصطلاح سے اچھی طرح ہوسکتی ہے جس میں نے خوف کا نام دیا ہے۔ یعنی فرضی واقعات کو سچ سمجھنا۔ یہ سمجھ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان کی سوچ یہ بن جاتی ہے کہ جو پہلے ہوا ہے اسی طرح ہوگا اور اس طرح اسے یقین ہوچلتا ہے کہ مستقبل میں صرف غلط چیزیں ہی ہونے والی ہیں۔ اپنے اقتدار کے دوسرے مرحلے میں مودی کے سامنے یہ چیلنج ہے کہ وہ خوف کو امید یعنی سب کے لیے یکساں طور پر آگے بڑھنے کے مواقع سے بدل دیں۔

الیکشن کے نتائج کے بعد مودی نے جو اپنی پہلی تقریر کی اس سے یہ محسوس ہوا کہ ان کو ان چیزوں کا علم ہے اور وہ اس چیلنج کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اپنی تقریر میں انہوں ے کہا “ہم اس ملک کے 130 کروڑ شہری  ہیں اور ہم کسی سے بھید بھاؤ نہیں کرسکتے۔ ہم ذات برادری، مذہب، نسل اور علاقہ کی بنیاد پر کسی سے کوئی بھید بھاؤ نہیں کرسکتے۔ ہم نے یہ دکھا دیا ہے کہ سب کا ساتھ اور سب کا وکاس کیسے کیا جاتا ہے اور اب ہمیں سب کا وشواس حاصل کرنا ہے۔ ” مودی نے یہ بھی کہا کہ “ہم ان لوگوں کے لیے بھی جنہوں نے ہم پر اعتما د کیا اور ان کے لیے بھی جن کا اعتماد ہمیں حاصل کرنا ہے۔ ہمارے لیے کوئی غیر نہیں ہونا چاہیے۔ لوگوں کے دل جیتنا یقینا اپنے آپ میں ایک مشقت والا کام ہے۔ “

مودی کو دلوں کو جیتنے کے لیے عزم وقوت کا مظاہر ہ کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟خوف کی جگہ امید کی جوت جگانے کی کیا سبیل ہوسکتی ہے؟اس کے لیے ضروری ہے کہ تین بنیادی عوامل پر توجہ دی جائے جس کی وجہ سے مودی کے پہلے دور اقتدار میں خوف کی فضا بنی ۔ وہ عوامل تھے ؛ مسلم اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ برا سلوک اور ان کا قتل وخون، حکومت کے کام کاج میں ہندوقومیت پرستی  پر زور اور معاشی ترقی اور اصلاح کا عمل جو کہ اقتدار کے دور اول میں محض جزوی طور پر مکمل ہوا تھا۔

مودی کے پانچ سالہ دور اقتدار میں اقلیتوں کو مارنے اور ان کےساتھ برا سلوک کرنے کے بہت سارے واقعات سامنے آئے ہیں۔حکومت بننے کے کچھ ہی دن بعدہندی بیلٹ میں گائے کو ذبح کرنے کے الزام میں ہجوم کے ذریعہ مسلمانوں کو قتل کرنے کےکئی واقعات ہوئے۔ مودی نےاپنے دور اقتدار میں  اقلیتوں اور دلتوں کے خلاف لنچنگ اوراس طرح کے واقعات کو نظر انداز نہیں کیا لیکن انہوں نے اس طرح کے گھنونے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت بھی نہیں کی۔

اب اپنے اقتدار کے دوسرے دور میں وزیر اعظم ایسا کرسکتے ہیں۔ وہ اپنے ان حامیوں  اور اس طرح کے افراد کو جو دوسروں کی زندگی  اور ذریعہ معاش کو خطرے میں ڈالتے ہیں  پر اپنی انتظامیہ کے ذریعہ لگام لگاسکتے ہیں۔اس سے ٖٖخوف کی فضا بدلے گی اور ایک نئی امید جاگے گی۔ امید کی جوت جگانے کے لیے وزیر اعظم دوسرا کام یہ کرسکتے ہیں کہ وہ ہندوستان کے  ایک سیکولر ملک بنے رہنے کےمستقبل کے لیے سارے مذاہب کی اہمیت اور ضرورت پر دوبارہ زور دیں۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ پچھلے پانچ سال میں وزیر اعظم نے عام ہندوستانیوں کے ذہن و دماغ اور سرکاری کام کاج میں ہندو مذہب کو ہی بھرا ہے۔

اگلے پانچ سال میں انہیں چاہیے کہ وہ فخریہ طور پر اپنے اور دوسرے سب  مذاہب  کا جشن منائیں اور دہلی و پورے ملک میں بین المذاہب ڈائیلاگ کو فروغ دیں۔ ایک دوسرا کام جو ان کو کرنا چاہیے  اور اس کو علامتی طور پر بہت اہمیت دی جائے گی کہ وہ بنارس میں ہندو کاشی وشوناتھ مندر سے گنگا ندی تک ایک چوڑہ راستہ بنانے کے اپنے منصوبہ میں تبدیلی کریں۔

گرچہ وارانسی ہندؤں کے لیے مقدس جگہ ہے لیکں میں نے یہاں بحیثیت ایک مسلمان پرورش پائی جہاں سارے مذاہب کے لوگ مل جل کر بہت اچھی طرح اپنی زندگی گزارتے ہیں اور ایک دوسرے کےسکھ دکھ میں کام آتے ہیں۔ مذہبی فرقوں کے درمیان ہم آہنگی کی اس تاریخ کو اس طرح بھی تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ اس شاندار قدیم شہر میں اس طرح کے مواقع سارے مذاہب  کو یکساں طور پردئے جائیں۔

آخری بات جو اس طور پر کہنی ہے وہ یہ کہ امیدوں کو دوبارہ زندہ کرنا ہے اور یہ ترقی کا وہ وعدہ ہے جو مودی نے پورے وثوق اور جوش وجذبے کے ساتھ 2014 میں کیا تھا۔ تب سے انہوں نے معیشت ، تعلیم،حفظان صحت اور آب وہوا کی تبدیلی کے انتظام میں کچھ جزوی اصلاح کی ہے۔

لیکن 2019 میں ہندوستان کی جی ڈی پی شرح نمو کم ہے اور بیروزگاری کی شرح زیادہ ہے۔ ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت بہت ہی زیادہ ہے۔ ہر طرح کی بنیادی،پیشہ ورانہ ، تکنیکی اور اعلیٰ تعلیم  کے میدان میں ہندوستان ترقی یافتہ ممالک سے پیچھے ہے۔ بہتر حفظان صحت کاحصول  ابھی بھی امیر لوگوں کے علاوہ باقی سب کے لیے ایک مسئلہ ہے۔انفراسٹکچر تیسری دنیا کے ملکو ں جیسا ہے اور ماحولیات کی تبدیلی کا اثر پوری دنیا میں سب سے زیادہ یہیں پڑنے والا ہے۔

ابھی بہت سارا کا م باقی ہے۔ اسی لیے وزیر اعظم مودی کو چاہیے کہ وہ اپنے اقتدار کے دوسرے دور میں ان اہم اصلاحات کو بڑے پیمانے پر بہت اچھی طرح، تیزی سے متعارف کرائیں جس کی شروعات پہلے ہی دور میں ہوجانی چاہیے تھی۔ اصلاح کا یہ عمل سب پر بطور خاص اقلیتوں، دلتوں اور عورتوں پر محیط ہونا چاہیے۔

اگر وزیر اعظم مذکورہ بالا جامع ایجنڈہ پر عمل پیرا ہوئے تو آج سے پانچ سال بعدامیدوں کی ہی حکمرانی ہوگی اورخوف کے لئے کوئی جگہ موجود نہ ہوگی۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان پوری دنیا کا رہنما بن کر اور جمہوریت کے لیے ایک رول ماڈل بن کر ابھرے گا۔

٭(فرینک ایف اسلام امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں مقیم ایک کامیاب ہند نڑاد تاجر، مخیر اور مصنف ہیں۔ ان سے ان کے ای میل کے ذریعہ رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ffislam@verizon.net)

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *