فرینک اِسلام۔ہندوستانی نژاد امریکی روشن ستارہ

محمد اعظم شاہد

Ashraf Ali Bastavi

ہندوستان کی مردم خیز ریاست اترپردیش کے اعظم گڑھ کے مضافات میں واقع ایک چھوٹا ساگرد آلود گاو ¿ں کاو ¿را گھانی کے متوسط خاندان میں جنم ہوا شاہ فخر الاسلام کا۔ گھریلو ماحول مذہبی تھا۔ ابتدائی تعلیم گاو ¿ں کے اسکول میں ہوتی رہی پھر خاندان بنارس منتقل ہوگیا۔ تعلیم کا سلسلہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جاری رہا۔ سینکڑوں

محمد اعظم شاہد

ہندوستانی نوجوانوں کی طرح بلند عزائم سے سرشارفخر الاسلام حصول تعلیم کے ذریعہ اپنے خیالات بدلنے کےلئے بے قرار تھا۔ علی گڑھ میں دوران تعلیم اس نوجوان کی ملاقات امریکہ کی کولوراڈو یونیورسٹی کے وزیٹنگ پروفیسر وولف گنگ تھران سے ہوئی جو ریاضی پڑھایا کرتے تھے۔ اپنی تدبیر سے تقدیر لکھنے کے متمنی اس نوجوان کو انہوں نے کمپیوٹر سائنس میں اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ میں بولڈر میں واقع یونیورسٹی آف کولوراڈو میں اپلائی کرنے کی ترغیب دلائی۔ داخلہ مل گیا۔

یہاں سے اپنی انتھک کوششوں ، ریاضت ، عقیدت ومحنت سے اس نوجوان نے بی ایس اور بعد میں ایم ایس کی ڈگری حاصل کی۔ یونیورسٹی کے ایک امریکی پروفیسر نے شاہ فخر الاسلام کو آسان نام فرینک اِسلام دیا۔ تب سے یہ اسی نام سے ایک کامیاب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر، سرمایہ کار، تاجر ، مخیر دانشور اور عوامی تحریکات سے جڑے جہدکار کے طور پر فرینک اِسلام نہ صرف امریکہ اور ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں جانے جاتے ہیں۔

 1969ءمیں پندرہ سال کی عمر میں جب ایف اِسلام نے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ کیا۔ ہوائی جہاز کے سفر کے لئے پیسے جُٹانے کے لئے ان کے والدین کو اپنی جائیداد کا ایک حصہ فروخت کرنا پڑا۔ امریکہ میں ترقی کرنے کا خواب لئے جب اس نوجوان نے تعلیم سے فراغت پائی تو واشنگٹن ڈی سی میں اور کینیڈا میں تقریباً 10 برس انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں قدم رکھا اور مشہور سافٹ ویئر کمپنیوں میں ملازمت کی۔ نوکری تک محدود نہ رہتے ہوئے سال1994ءمیں بینک سے 50ہزار ڈالر قرضہ لے کر لن ہیام میں آئی ٹی سرویسیز کمپنی QSSقائم کی۔ ابتداءمیں یہ خود ہی واحد ملازم تھے۔ مسلسل جدوجہد اور کڑی محنت سے تیرہ سال کے عرصے میں یہ کمپنی ترقی کرتی گئی جس میں 13 ہزار ملازمین اور تقریباً تین سوملین ڈالر کامنافع حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ یہ کمپنی فروخت کرنے کے بعد فرینک اِسلام نے ایف آئی انویسٹمنٹ گروپ قائم کیا جس کے یہ چیرمین اور سی ای او ہیں۔ امریکہ میں مقیم ہندوستانی نژاد کامیاب ترین شخصیات میں فرینک اِسلام کا شمار ہوتا ہے۔

اپنی کئی ایک تحریروں اور تقریروں کے دوران انہوں نے اپنی کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیک نیتی، دیانتداری ،انصاف پسند ی، ایمانداری، رواداری ، محنت ولگن اور اپنی ہنرمندی سے انہوں نے ترقی کے زینے طے کئے ہیں۔ جتنی دولت آپ نے امریکہ میں اپنی محنت وہنرمندی سے کمائی اُسی کا وافرمقدار میں یہ سماجی، معاشی، تعلیمی اور ثقافتی ترقی کے لئے خرچ کررہے ہیں۔

امریکہ میں سرمایہ حاصل کرنے کے بعد واپس ضرورتمندوں کی ترقی کے لئے استعمال کرنے کا چلن ہے۔ اِس ضمن میں وہ مذہب اسلام کے رہنما اصولوں کے ساتھ سابق صدر امریکہ جان ایف کینیڈی کے اُس قول کے بھی معترف اور عمل پیراہیں کہ جتنا حاصل ہوا اتنا لوٹاو ¿۔ اس کے مصداق آپ نے اپنی اہلیہ ڈیبی ڈرائس مین کے ساتھ مل کر چارٹیبل فاو ¿نڈیشن قائم کیا ہے اور ساتھ میں ایک اور امدادی ادارہ پوٹومیاک چاریٹیز بھی آپ کی سرپرستی میں برسرِ عمل ہے۔ تعلیمی ،سماجی بیداری اورفروغ ِ ثقافت کے لئے فرینک اسلام متحرک رہے ہیں۔ امریکہ میں اپنے امدادی مشن کے لئے شہرت کے حامل فرینک اسلام نے اپنے وطن ثانی امریکہ میں کئی تعلیمی اداروں کے لئے جہاں کثیر سرمایہ بطور امداد فراہم کیا ہے وہیں اپنے وطن عزیز ہندوستان میں مستحق طلبہ کی امداد کے لئے بھی اپنی خدمات کا دائرہ وسیع تر بنائے رکھا ہے۔امریکہ میں تعلیم حاصل کرکے کامیاب سرمایہ کار بننے کا جو American Drea فرینک اسلام نے دیکھا تھا اور جن حالات میں وہ اپنے وطن سے نکلے اور امریکہ میں اپنے لئے ہمہ جہت جہد کار اور خدمت خلق اور فروغ عالمی انسانیت کے لئے انکی پیش رفت کے حوالے سے ہر خاص وعام میں قدرکی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں۔ امریکہ میں اپنے مادر علمی یونیورسٹی آف کولوارڈو کے لئے جہاں آپ نے کئی ایک تعلیمی پروگرام کے لئے وظیفے اور امدادی مالی سرمایہ کاری کی ہے وہیں اپنے اولین مادرِ علمی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں اپنے نجی امدادی فاو ¿نڈیشن کے توسط سے دوملین ڈالر کے صرفے سے فرینک اور ڈیبّی اسلام اسکول آف مینجمنٹ کی تعمیر کروائی ہے۔ اس یونیورسٹی سے آپ کو قلبی لگاو  رہا ہے

یہاں کی علم پرور فضاو ں میں آپ میں حصول علم کی جستجو نے اُڑان بھرنی شروع کیا تھا۔ اس یونیورسٹی کے شعبہ ¿ ترسیلہ ¿ عامہ میں ایک آڈیٹوریم بھی آپ نے تعمیر کروایا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان کے مختلف صوبوں میں زیر تعلیم طلبہ اور تعلیمی اداروں کی آپ نے حسب ضرورت تائید کی ہے۔ امریکہ میں مقیم ہندوستانی مسلمانوں کے کئی اداروں سے آپ وابستہ ہیں۔ اپنی جفا کشی ،ہنرمندی ، بین المذاہب رواداری ،عوامی مسائل کی یکسوئی کے لئے ہونے والی کاوشوں،امن ِ عالم کے لئے قائم سرکاری وغیر سرکاری اداروں سے آپ کی وابستگی کی بنیاد پر حکومت امریکہ نے آپ کو کئی ایک یونیورسٹیوں کے فیصلہ ساز اداروں ، ثقافتی اداروں اور معاشی تجارتی اداروں کی اعلیٰ فیصلہ ساز کمیٹیوں کے لئے اہم منصوبوں پر نامزد کیا ہے۔ امریکہ میں آپ کو کئی ایک سماجی ، معاشرتی اور معاشی اور تجارتی اداروں سے اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ فرینک اسلام کی خدمات کے اعتراف میں انہیں پیش کئے گئے اعزازات کی فہرست کافی طویل ہے۔ مگر ایک ایوارڈ کا ذکر لازمی ہے جو امنِ عالم کے فروغ کے لئے فرینک اِسلام کی نذر کیاگیا ہے وہ ہے مارٹن لوتھر کنگ ایوارڈ۔ فرینک اسلام اپنے سیاسی تدبّر کے لئے بھی شہرہ رکھتے ہیں ۔

سابق صدر بارک اوباما کی کامیابی کے لئے انتخابی تشہیر میں وہ آگے رہے اور اُن سے قریبی مراسم اور خدمات کی بنیاد پر اوباما کے ہندوستانی دورے کے دوران امریکی تجارتی وفد میں فرینک اِسلام شامل رہے۔ حالیہ امریکی صدارتی انتخابات میں آپ نے ہلیری کلنٹن کا ساتھ دیا تھا۔ موجود ہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی علاحدہ پسند اور کٹّر پالیسیوں کی آپ نے کھل کر مذمت کی ہے۔ مسلمانوں اور عالمِ اسلام کی مخالفت میں ٹرمپ نے جو نظریہ اختیار کررکھا ہے وہ فرینک اسلام کے مطابق امریکی جمہوری نظریات کی خلاف ورزی ہے۔ امریکہ میں مُٹھی بھر لوگ ٹرمپ کے حامی ہیں جبکہ اکثریت ٹرمپ کے تفریقی کلچر اور انتظامیہ پالیسی سے نالاں ہے۔

فرینک اِسلام نے کئی ایک موقعوں پر ٹرمپ کی اجارہ داری کی کھل کر مخالفت میں بیان دیتے ہوئے کئی بار اِس حقیقت کا اعادہ کیا ہے کہ امریکی جمہوری اُصول ڈھائی سوسال کے روشن عوام پرور روایات کے عکاس ہیں جہاں تنگ نظری کے لئے کوئی جواز نہیں ہے۔ سابق امریکی صدر کینیڈی نے امریکی معاشرت کی تعمیروترقی میں مہاجرین کے کارگر اور مو ¿ثر رول کو سراہتے ہوئے امریکہ کو Immigrants امیگرینٹس کا ملک قرار دیا تھا۔ فرینک اِسلام کا ماننا ہے کہ آج اِن پر پابندیاں امریکی وراثت کے خلاف جاتی ہیں ان کا تدارک نہ صرف امریکہ بلکہ عالمِ انسانیت کے لئے بہتر ثابت ہوسکتا ہے۔

ہندوستان میں اِن دنوں پھیلی مذہبی منافرت کو ہندوستانی جمہوری نظام کے لئے نقصاندہ بتلاتے ہوئے فرینک اِسلام نے اپنے وطن عزیز میں مذہبی رواداری اور سب کے لئے یکساں مواقع فراہم کرنے پر موجودہ حکومت کی توجہ مبذول کرواتے ہوئے کئی بار کہا ہے کہ ہندوستان کو جوڑنے والی وطن پرستی کی ضرورت ہے نہ کہ مذہبی راشٹرواد کی جس پر بی جے پی کاربند ہے۔ فرینک اسلام کہتے ہیں کہ ہندوستان کی روشن جمہوری وراثت کی بقائے دوام کے لئے رواداری اور بقائے باہمی کی بے حد ضرورت ہے تبھی یہ ملک امن پسند ترقی یافتہ ملک بن کر اُبھر سکتا ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کو صرف حصول تعلیم کے ذریعہ اپنے حالات کی تبدیلی کے لئے ہر موقع پر آواز دینے والے دل درمند کے حامل فرینک اِسلام نہ اپنے ماضی کو ، نہ اپنی مٹّی کو او رنہ ہی اپنے وطن میں مقیم ہندوستانیوں اور بالخصوص مسلمانوں کو بھول پائے ہیں۔

ان کا ماننا ہے کہ مسلم نوجوان اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کریں اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں۔ کڑی محنت اور لگن اُنہیں اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لئے تیار کرے گی۔ اپنے امدادی پروگرام اور مشن کو فرینک اسلام کہتے ہیں یہ خیرات ہرگز نہیں ہے بلکہ ایک طرح کی سرمایہ کاری ہے اُن نوجوانوں پر جو آنے والے کل میں دوسروں پر اپنی کمائی کا ایک حصہ خرچ کریں گے جو انسانی وسائل کی ترقی کا امین بن پائے گا۔ جو کچھ زمانے سے حاصل کیا ہے وہ سماج کو لوٹانے میں جو سکون وراحت ہے اُس کا کوئی پیمانہ نہیں ہے یہ تاثر فرینک اسلام کئی بار پیش کرچکے ہیں ۔ اپنی تحریروں اور تقریروں میں ۔ ایسے ہی سیماب صفت احباب کے لئے اقبال نے لکھا تھا:

جہاں میں اہلِ ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں

اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے

بہ شکریہ : روزنامہ سالار بنگلور

azamshahid1786@gmail.com Cell 9986831777

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *