عالمی رہنما بننے کے لئے ہندوستان کو تمام شعبوں میں اقلیتوں کی شراکت یقینی بنانی ہوگی:فرینک اسلام 

Asia Times Desk

نئی دہلی (یو این آئی) ہند نژاد امریکی تاجر ، دانشوراور بشر دوست فرینک اسلام نے ہندوستانی جمہوریت کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ اگر ہندوستان کو عالمی لیڈر بننا ہے تو اسے ملک میں تمام شعبوں میں اقلیتوں کی شراکت کو یقینی بنانا ہوگا۔
اردو میڈیا کے ساتھ یہاں تبادلہ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے ،یہاں جمہوریت کی جڑیں کافی گہری ہیں اور ہندوستان ان ملکوں کے لئے ایک رول ماڈل ثابت ہوسکتا ہے جہاں جمہوریت کے لئے کوشش کی جارہی ہے یا جہاں جمہوریت نہیں ہے۔
امریکہ کے سابق صدر براک اوبامہ کے قریبی فرینک اسلام کا خیال ہے کہ ہندوستان کے اندر دنیا کے جمہوری ملکوں کے لئے رہنما بننے کی صلاحیت موجود ہے لیکن ہندوستانی سماج کو شمولیتی سماج بنانا ہوگا۔یہاں سب کو ترقی کیلئے یکساں مواقع فراہم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں مسلمانوں کی دوسری بڑی آبادی ہندوستان میں رہتی ہے اور یہاں کے رہنماوں کو اقلیتوں کی تمام شعبوں میں شرکت کو یقینی بنانا ہوگا۔
بنیادی طور پر اعظم گڑھ سے تعلق رکھنے والے شاہ فخرالاسلام عرف فرینک اسلام نے اسی کے ساتھ مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ انہیں ملک کے تمام سیاسی اور سماجی عمل میں بھرپور حصہ لینا چاہئے اور برادران وطن کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے چاہئیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکہ میں بھی اقلیتوں کے اسی طرح کے مسائل ہیں جیسے ہندوستان میں ہیں لیکن امریکہ کی خوبی یہ ہے کہ وہاں شمولیت پسندی ہے جس کی وجہ سے آج اسے عالمی لیڈر کا درجہ حاصل ہے اور وہاں اوبامہ جیسا بلیک بھی ملک کا صدر ہوسکتا ہے۔
ملک میں آئندہ ہونے والے عام انتخابات کے متعلق ایک سوال کے جواب میں فرینک اسلام کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو ان انتخابات میں بھرپور حصہ لینا چاہئے اور انہیں اپنا تعمیری رول ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے تاہم یہ بتانے سے گریز کیا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی اور کانگریس صدر راہل گاندھی میں کسے زیادہ پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ان دونوں کو اچھی طرح جانتا ہوں لیکن یہ فیصلہ کرنا ہندوستان کے عوام کا کام ہے کہ وہ کس کو اپنا وزیر اعظم بنانا چاہتے ہیں۔
ہندوستان میں متعدد اسکول اور صحت مراکز کے علاوہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بزنس کی تعلیم کا ایک مرکز اور میڈیا سینٹر قائم کرنے والے بشردوست فرینک اسلام کا احساس ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں نے تعلیمی میدان میں گذشتہ برسوں میں کافی ترقی کی ہے اور ان کی حالت بھی بہتر ہوئی ہے تاہم یہ ترقی ناکافی ہے۔ انہیں مزید ترقی کے لئے خصوصی طورپر تعلیم اور انٹرپرنیورشپ پر توجہ دینی چاہئے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں تعلیم ہی وہ چیز ہے جو ہمیں طاقتور بناتی ہے۔مسلمانوں کو بہتر سے بہتر تعلیم حاصل کرنی چاہئے اور خود بھی اعلی میعاری تعلیمی ادارے قائم کرنے چاہئیں۔ان کا کہنا تھا کہ’مسلمانوں کو زیورات اور سامان تعیش اور بڑے بڑے مکانات کے بجائے اعلی تعلیم پر سرمایہ کاری کرنی چاہئے۔‘
امریکی حکومت میں متعدد کمیٹیوں میں شامل فرینک اسلام نے ہندوستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات ، امریکی خارجہ پالیسی او رمشرق وسطی کی صورت حال کے علاوہ کئی دیگر موضوعات پر بھی اپنے خیالات پیش کئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *