ہندوستانی معاشرے میں جہیز مانگنے کے آسان طریقے

admin

جہیز مانگنے کے آسان طریقے

کسی ماں باپ کا بیٹا جواں ،گر ہونے والا ہے

جو طے کرنی ہو شادی تو یہ اک بہتر مقالہ ہے

 

ہے آغاز سخن لازم رئیسانہ طریقے سے

چمک چہرے سے ظاہر ہو اگرچہ دل میں کالا ہے

 

پھراس انداز سے گرمِ سخن ہوں لڑکی والے سے

کہ شادی کر ہی لیں گے ہاں کوئی گر جوڑ والا ہے

 

زمانے کے چلن کیا ہیں اِ سے تو جانتے ہی ہیں

جو رائج ہے چلن وہ آپکا بھی دیکھا بھالا ہے

 

میاں اس دور میں لڑکے بڑی مشکل سے ملتے ہیں

مرا لڑکا تو سارے شہر میں سب سے نرالا ہے

 

جہیز، اب کیا میں مانگوں،آپ بس اتنا سمجھ لیجے

کہ بیٹے کو لکھایا ہے ،پڑھایا ہے ،سنبھالا ہے

 

جو دیں گے آپ ! اپنی دختروداماد کو دیں گے

کہ ہم نے اپنے بیٹے کو بڑے نازوںسے پالا ہے

 

بُلائی جائے فوجوں کی طرح بارات دولھے کی

یہی حسرت ہے بھاؤج کی یہی ارمان خالہ ہے

 

ذرا باراتیوں کی ٹھیک سے عزت بھی کر دیجے

کو ئی چھ سات سو کا ایک چھوٹاسا رسالا ہے

 

رہا گدا ،پلنگ اور کار یا کولر ، فریج ، پنکھا

سماجی سنتیں ہیں جن کو پُرکھوں نے نکالا ہے

 

دیا ہے اے وسیم اللہ نے ہر شے تو کیا لالچ

یہ بندہ سیدھا سادہ ہے بڑا اللہ والا ہے

وسیم خان وسیم 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *