داؤ پر ہے مودی کا وقار: گجرات کے صوبائی انتخابات

افتخار گیلانی

Asia Times Desk

بھارت کی مغربی ریاست گجرات میں صوبائی انتخابات کا بگل بج چکا ہے۔ دو مرحلوں پر محیط انتخابی عمل میں 9اور14دسمبر کو ووٹ ڈالے جائینگے اور 18دسمبر کو نتائج کا اعلان کیا جائیگا۔ ان انتخابات کی خصوصیت یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر امیت شاہ کا تعلق گجرات سے ہی ہے۔ اسلئے ان انتخابات کے نتائج کا ان کے سیاسی کیریئر اور مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر اثر انداز ہونا لازمی ہے۔ وزارت عظمیٰ کی کرسی سنبھالنے سے قبل مودی 2001اور2014ئکے بیچ یعنی 13سال تک اس صوبہ کی وزارت اعلیٰ کی مسند پر جمے رہے۔ گو کہ بھارت میں فرقہ وارانہ منافرت اور فسادات برپا ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے مگران کے اقتدار میں آتے ہی فروری۔مارچ 2002ء کو صوبہ کی سڑکوں اور گلیوں میں انسانیت کی جس طرح تذلیل ہوئی، مودی کا نام ہی مسلمانوں میں خوف اور دہشت کی علامت بن گیا۔ مجھے یاد ہے کہ فروری 2002ء کے آواخر میں گجرات کے مرکزی شہر احمدآباد کے یونیورسٹی گراونڈ میں کشمیری آرٹ اور کرافٹ کی نمائش ہورہی تھی۔ گجرات حکومت نے اسکو کور کرنے کیلئے دہلی سے میڈیا کی ایک ٹیم کو مدعو کیا۔ میں بھی اس وفد میں شامل تھا۔ 26فروری کی شام ہماری واپسی کے دن گجرات حکام نے کئی روز اور ٹھہرنے اور ان کی میزبانی کامزید لطف اٹھانے کیلئے اصرار کیا۔ مگر چونکہ اگلے دن افغانستان کے صدر حامد کرزئی اپنے پہلے غیر ملکی دورہ پر بھارت آنے والے تھے اور پارلیمنٹ میں بجٹ پیش ہونے والا تھا، میں نے معذرت کی۔ اگلے روز صبح سویرے دہلی پہنچ کر معلوم ہوا کہ اتر پردیش کے ایودھیا شہر سے گجراتی زائرین کو واپس لانے والی ٹرین کے چند ڈبوں میں گودھرا کے مقام پر آگ لگائی گئی ہے، جس میں 50سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ پارلیمنٹ میں بجٹ کی کاروائی کے دوران خبر آئی کہ ہندو انتہاپسندو ں کے ہجوم نے اکثر مسلم علاقوں کو گھیرے میں لے لیا ہے، پولیس اور لا اینڈ آرڈر مشینری کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔ معلوم ہوا کہ احمد آباد کے ایک پوش علاقہ میں کانگریسی لیڈر اور سابق ممبر پارلیمان احسان جعفری کے مکان کے باہر مشتعل ہجوم جمع ہے۔ کانگریسی اراکین پارلیمان نے ایوان میں حکومت سے ا ن کی حفاظت کی مانگ کی۔ چند گھنٹوں کے بعد خبر آئی کہ تلوارں سے جعفری کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے اس کو آگ کے حوالے کیا گیا ہے۔ اس صورت میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عام مسلمان کی کسمپرسی کا کیا حال رہا ہوگا۔ نمائش پر گئے کشمیری تاجروں اور کاریگروں کا کئی روز تک کوئی اتہ پتہ نہیں تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہی افراد جو کل تک ان کی میزبانی کررہے تھے، نے ان کی دکانوں کو جم کر لوٹا۔ مگر خیریت تھی کہ ان کی چھٹی حس نے حالات بگڑتے دیکھ کر ان کو بھاگنے پر اکسایا۔ ریلوے ٹریک کے کنارے پیدل چل کر اور پھر کسی مال گاڑی میں رات کے اندھیرے میں چھپ کر گجرات بارڈر کراس کرکے انہوں نے جان بچائی۔ فسادات کا خیالی بدلہ چکانے کے نام پر گجرات میں دہشت گردی کو تحریک دینے کے نام پر بھی مسلمان نوجوانوں ، سماجی کارکنوں اور حتیٰ کہ علماء کو نشانہ بنا یا گیا۔ ہندوؤں کو مسلمانوں کے تئیں نفرت اور ایک طرح سے خوف کی نفسیات میں مبتلا کرواکے انکو متحد رکھ کر مودی نے 13 سال تک کامیابی کے ساتھ حکومت کی۔ اس سلسلے میں 2002ء میں گجرات کے شہر احمد آباد کے قلب میں واقع اکشر دھام مندر کے حملہ نے تو سبھی ریکارڈوں کو مات دے دی ۔ اس حملہ کے مقدمہ میں سزائے موت سے باعزت بری ہونے والے مفتی عبدالقیوم منصوری کی داستان رونگڑے کھڑے کردیتی ہے۔ ستمبر 2002ء کو دو نامعلوم افراد نے سوامی نارائن فرقہ کی اس عبادت گاہ پر دھاوا بول کر 32 افراد کو ہلاک کیا۔بتایا گیا کہ فسادات کا بدلہ چکانے کیلئے ہندوؤں کو نشانہ بنانے کیلئے حملہ کیا گیا ہے۔ کمانڈوز نے دونوں حملہ آوروں کو 24 گھنٹے تک چلنے والے ایک اعصاب شکن آپریشن کے بعد ہلاک کیا۔ تقریباً ایک سال تک اس کیس کی تفتیش اینٹی ٹیررسٹ سکواڈ نے کی۔مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ ایک سال کے بعد اس کیس کو گجرات پولیس کی کرائم برانچ کے حوالے کیا گیا جس نے ایک ہفتہ کے اندر ہی مفتی منصوری اور دیگر پانچ افراد کو گرفتار کرکے اس کیس کو حل کرنے کا دعویٰ کیا۔ مفتی صاحب جمعیت علماء ہند کے ایک سرکردہ کارکن ہیں اور گرفتاری سے قبل 2002ء کے گجرات کے مسلم کش فسادات کے متاثرین کی آباد کاری کیلئے ایک ریلیف کیمپ کے انچارج تھے۔نچلی عدالت نے مفتی صاحب اور دیگر متعلقین کو 2006ء کو موت کی سزا سنائی جس کو گجرات ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔ مگر 2014ء میں سپریم کورٹ نے اس فیصلہ کو رد کرکے سبھی افراد کو باعزت بری کرنے کے احکامات صادر کئے۔مفتی صاحب بتاتے ہیں کہ کس طرح ان کو اکشر دھام مندر کے دہشت گردانہ واقعہ میں فریم کیا گیا۔ سخت جسمانی اور روحانی تشدد کے بعد ان کو بتایا گیا کہ وہ باہمی مشورہ اور بات چیت سے اس واقعہ میں اپنا کردار طے کریں، بلکہ مختلف مقدمات میں سے انتخاب کا بھی حق دیا گیا کہ وہ گو دھرا ٹرین سانحہ، سابق ریاستی وزیر داخلہ ہرین پانڈیا کے قتل، یا اکشر دھام میں سے کسی ایک کیس کا انتخاب کریں ، جس میں انہیں فریم کیا جائے۔ مفتی صاحب بیان کرتے ہیں:” اس ظالم (ڈی آئی جی ڈی ڈی ونجارا)نے دوبارہ میری سرین پر نہایت ہی جنون اور پاگل پن سے ڈنڈے برسانے شروع کئے، یہاں تک کہ میرے کپڑے خون سے تر ہوگئے تو پولیس والو ں سے کہا کہ ہاتھوں پر مارو ، پھر میری ہتھیلیوں پر اتنے ڈنڈے برسائے گئے کہ ان کا رنگ بدل گیا۔ ونجارا کی نظر میرے پیروں پر پڑی توکہنے لگا کہ موٹا تازہ ہے، بھینس جیسے پیر ہیں، اس کے پیروں پر ڈنڈے برساۂ، ظالموں نے مجھے گرایا اور ایک موٹا ، مکروہ چہرے والا شخص مجھے الٹا لٹکا کر میری پیٹھ پر بیٹھ گیا، دوسرے لوگ میرے پیروں پر بیٹھ گئے، دو لوگوں نے میرے ہاتھ اور سر کو پکڑ لیا۔ پھر ونار ( ایک اور پولیس آفیسر) نے اسی حالت میں میرے پیروں کے تلوؤں پر ڈنڈے برسانے شروع کئے، جب وہ تھک جاتا تھا توکچھ دیر رک جاتا اس پر ونجارا گالی دے کر کہتا اور مارو‘ رک کیوں گئے۔ ‘‘ مفتی صاحب کے بقول ریمانڈ سے قبل ان کی باقاعدہ گرفتاری یعنی 40 د ن تک رات بھر ان کے ساتھ ظلم و ستم کا بازار اسی طرح چلتا رہا۔ اس دوران ان کو بجلی کے کرنٹ دیے گئے۔ مفتی منصوری نے گجرات پولیس کے ظلم و تشدد کا ایسا نقشہ کھینچا ہے کہ کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ کس طرح دوران انٹیروگیشن ملزم کو برہنہ کرکے بدن میں موٹا ڈنڈا داخل کیا جاتا تھا اور ایک پچکاری کے ذریعے پٹرول داخل کیا جاتا تھا، پیشاب کے سوراخ میں بجلی کا تار لگاکر کرنٹ دیا جاتا تھا۔پورے کیس کی عمارت اردو میں تحریر ان دو خطوط پر ٹکی تھی جو پولیس کے بقول مفتی صاحب نے لکھ کر حملہ آوروں کے حوالے کئے تھے جو بعد میں ان کی جیبوں سے برآمد ہوئے۔ فرانزک لیبارٹری نے مفتی صاحب کے ہینڈرائٹنگ اور ان خطوط کا موازنہ کرنے کے بعد رپورٹ دی کہ یہ مفتی صاحب کے تحریر کردہ ہیں۔ جس کا مطلب یہی ہے کہ مفتی صاحب حملہ آوروں سے واقف تھے اور ان کی اعانت بھی کی۔ مگر نہ ہی نچلی عدالت اور نہ ہی ہائی کورٹ نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ جب خود پولیس کے بقول حملہ آوروں کی لاشیں خون اور کیچڑ میں لت پت تھیں اور ان کے بدن گولیوں سے چھلنی تھے اور ان حملہ آور وں کے جسموں میں 46 گولیوں کے نشانات تھے تویہ خطوط کیونکر صاف و شفاف تھے۔ مفتی صاحب کے بقول ان سے یہ خطوط تین دن تک پولیس کسٹڈی میں لکھوائے گئے تھے۔دہشت گردی کی یہ کہانی جس میں 32 بے قصور ہندو ز ائرین کی جانیں چلی گئیں ابھی تک معمہ ہے۔سوال یہ ہے کہ آخر وہ حملہ اور کون تھے؟ اس حملہ کی پلاننگ کس نے کی تھی؟ آخر بے قصور افراد کو گرفتار کرکے کس کی پردہ پوشی کی گئی؟
ایسا لگتا ہے کہ صوبہ کے مو جو دہ سیاسی حالات اب بی جے پی کے لئے اتنے ساز گار نہیں ہیں ۔ گجرات میں کوئی تیسری متبادل سیکولر سیاسی قوت بھی موجود نہیں ہے ۔لہذا مقامی سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر کانگریس کی قیادت میں باقی چھوٹی چھوٹی سیاسی طاقتیں اکھٹا ہوتی ہیں تو بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنا آسان ہوجائے گا۔ صوبہ کی 6.76کروڑ کی آبادی میں مسلمان 9 فیصد، پاٹیدار 12فیصد، برہمن3فیصد، ٹھاکر 13فیصد، دلت12فیصد اور قبائلی 13فیصد ہیں۔ ریاست کو پانچ خطوں میں بانٹا جاسکتا ہے۔ پاکستان سے متصل رن آف کچھ کا وسیع و عریض نمک کا ریگستان، سوراشٹر یعنی کاٹھیاوارڈ کا علاقہ، جس میں جونا گڑھ، جام نگر، راج کوٹ اور پوربندر جیسے علاقے شامل ہیں، شمالی گجرات جس میں قبائلی علاقہ بانس کانٹھا، مہسانہ، سانبھر کانٹھا، پاٹن کے ضلعے ہیں، وسطی گجرات جس میں احمد آباد، بڑودہ، بھروچ اور نرمدا کے علاقے ہیں اور مہارشٹرا سے متصل جنوبی گجرات کی ہیروں کی نگری سورت، ولاساڈاور ڈانگ شامل ہیں۔ فی الحال لگتا ہے کہ پاٹیداروں ، دلتوں اور تاجروں میں موجودہ حکومت اور بی جے پی کے تئیں شدید غم و غصہ ہے ۔ گجرات کے زیادہ تر لوگ کاروباری ذہنیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ زیادہ تر گجراتیوں میں زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کی دھن سوار ہوتی ہے ۔ پچھلے سال یکایک، ایک ہزار اور پانچ سو ر وپے کے نوٹوں کی منسوخی کے فیصلے نے ان پر کاری ضرب لگائی ہے اور اب نئے Goods and Services Tax جی ایس ٹی نے رہی سہی کسر پوری کردی ہے۔ جی ایس ٹی کا نفاذ جس بھونڈے طریقہ سے کیا گیا اس نے تاجر برادری کو برہم کردیا ہے جو بی جے پی کا روایتی حامی طبقہ رہا ہے ۔ مگر بقول ایک سینیر خاتون گجراتی صحافی کے بی جے پی ان انتخابات کو جیتنے کیلئے ہر حربہ اپنا رہی ہے۔ وہ صدیوں قبل چانکیہ کی ترتیب دی ہو ئی نیتی یعنی سام (تقریر و تحریر ، پروپیگنڈہ)، دام (پیسو ں سے خریدنے) ڈنڈ (تعدیب) اور بھید (تقسیم و نفاق) کا انتہائی حدود تک استعمال کر رہے ہے۔ اس خاتون کے مطابق فی الحال مودی اور امیت شاہ چانکیہ کی تجویز شدہ پہلی دو حکمت عملیوں سے گجراتی ووٹروں کو لبھانے میں ناکام رہی ہیں، مگر کون جانے جو ں جوں انتخابات قریب آرہے ہیں وہ ڈنڈ اور بھید سے کسی بھی صورت میں گجرات کو ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے، کیونکہ دونوں رہنماؤں کا مستقبل اس ریاست میں بی جے پی کے اقتدار کے تسلسل پر ٹکا ہوا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *