صوبائی دہلی حج ہائوس کی تعمیر عازمین حج کی جان و مال کی حفاظت کی خاطر فصیلی شہر کے اطراف میں کی جائے۔۔بابو خان وارثی

 سینٹرل ویجیلینس کمیشن صوبائی حج کمیٹی دہلی میں پھیلی بدعنوانیوں کی مکمل جانچ کو یقینی بنائے

Asia Times Desk

نئی دہلی  :  (پریس ریلیز ) دہلی سرکار کی جانب سے مجوزہ دوارکا میں حج ہائوس کی تعمیر سے  وہاں عازمین حج  کی جان و مال کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔اس لئے سوشل ریفورمس تنظیم کے صدر بابو خان وارثی اور سوشل و آرٹی آئی ایکٹیوسٹ محمد شاہد گنگوہی نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں واضح کیا ہیکہ  دہلی کی شیلا دیکشت کی سابقہ حکومت نے   دوارکا میں مجوزہ حج ہائوس کا سنگ بنیاد رکھنے کی کوشش کی تھی جسکی وہاں کے مقامی لوگوں نے زبردست مخالفت کی تھی۔

جس سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ دوارکا میں  عازمین کی جان و مال غیر محفوظ رہیگی۔علاوہ ازیں عازمین کو دوارکا میں دیگر ضروریات کے سامان کا بھی فقدان رہیگا۔انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سرکار کو اقلیتی طبقہ کے مسائل کے حل میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔کیونکہ اب آئندہ لوک سبھا کے انتخابات نزدیک ہیں اسی لئے سرکار کو حج ہائوس تعمیر کی یاد آگئی جبکہ اسکا مطالبہ دہلی کے عوام  مسلسل پچھلے انتیس سال سے کرتے چلے آرہے ہیں۔

سوشل ریفورمس تنظیم کے بیان میں مانگ کی گئی کہ اگر دہلی حکومت واقعی عازمین حج کی خدمات کو ترجیح دیتی ہے تو اسکے لئے ماتا سندری روڈ (دین دیال اپادھیائے مارگ) انسٹی ٹیونشنل ایریا میں  جہاں پر دیگر سماجی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کو دفاتر کے لئے جگہیں الاٹ کی گئی ہیںوہاں حج ہائوس کے لئے جگہ مہیا کرائے جانے کو ئقینی بنائے۔جبکہ وہاں وقف اراضی بھی  موجود ہے۔یا  ۔

آصف علی روڑ پر  سلم  ڈ پارٹمنٹ  کےواقع پلاٹ نمبر ۶و۷  پر بھی جگہ دستیاب ہے۔  بصورت دیگر موجودہ  حج  منزل  کی   پوری بلڈنگ کو حج  کمیٹی کو الاٹ کرائی جائے جس کے بالائی منزلوں میں مزید منزلوں کا اضافہ ہوسکتا ہےجس سے دہلی کے عوام کے دیرینہ حج ہائوس کے مطالبہ کو پورا کیا جاسکتا ہے۔مسٹر وارثی نے واضح کیا کہ ماتا سندری روڈ علاقہ میں حج ہائوس تعمیر ہو نے سے جہاں ایک جانب عازمین حج کے جان ومال کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔وہیں اس سے عازمین حج کواطراف میں مسلم آبادی وعبادت گاہیں ہونے کے سبب حج سے متعلق امور کو سمجھنے اور سیکھنے کی سہولیات میسر ہونسکے گیں۔

جسکا سیکھنا حجاج کے لئے ضروری ہے۔نیز انکو حج سے وابستہ دیگر ضروری سامان وغیرہ  خریدنے کی بھی سہولیات موجود ہیں۔شاہد گنگوہی نے  افسوس کا اظہار کرتے ہوئے  کہا کہ دہلی سرکار اسٹیٹ حج  کمیٹی دہلی کے افعال پر نظر بند کئے بیٹھی ہے جہاں بدعنوانی کا زبردست دور دورہ ہے۔واضح ہو کہ حج سیزن ۲۰۰۶،۲۰۰۷  کے دوران صوبائی حج کمیٹی دہلی کے کچھ ذمہ داران  کو بدعنوانی میں ملوث  ہونے  کا انکشاف ایک ٹی وی چینل آئی بی این ۷ کےذریعہ کیا گیا تھا جبکہ گزشتہ حج سیزن کے دوران  بھی کمیٹی کے ایک ممبر نصرالدین سیفی کو ایئر پورٹ پاس  کے بدلے خواتین سے مساج کرانے کے آڈیو ٹیپ جاری کئے گئے تھے۔

ہنوز  ابھی تک کسی بھی بدعنوان کے خلاف سرکار کی طرف سے کارروائی نہیں کی گئی ہے۔جسکا انکشاف  ایک آر ٹی آئی  کے ذریعہ سامنے آیا ہے۔وہیں آر ٹی آئی سےموصول جانکاری کے مطابق عازمین کے لئے لگائے جانے والےآصف علی روڑ پر حج ٹرانزٹ کیمپ جس پر کروڑوں روپیہ صرف ہوتا ہے وہ بھی ہرسال بغیر اخباری ٹینڈر جاری کئے   دہلی حج کمیٹی  لگواتی ہےجبکہ ویجیلینس کمیشن کی ٹینڈر سے متعلق جاری گائڈ لائنس کے مطابق ٹینڈر جاری کرنا لازمی ہے۔

نیز پچاس ہزار روپیہ تک کے اخراجات کے لئے بھی دہلی حج کمیٹی میں ٹھیکیداروں یا سپلائرس کا کوئی منظور شدہ پینل نہیں ہے۔علاوہ ازیں  اسٹاف،ملازمین کی بھرتی بھی  سرکار  کےDASS & DSSSBرولز کےمطابق نہیں ہے۔حج فلائٹوں کی روانگی کے وقت عارضی ملازمین کی بھرتی کا بھی پچھلا پانچ سالہ مکمل ریکارڈ حج کمیٹی کے پاس دستیاب نہیں ہے۔

جو کہ وہاں بدعنوانی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔آرٹی آئی سے ایک حیران کن جانکاری یہ بھی سامنے آئی ہے کہ عازمین کی خدمت کے لئے حج کمیٹی کو ملنے والی سرکاری گرانٹ و دیگر آمدنی جو کہ عازمین کو  بہترسہولیات پہنچانے کی غرض سے ہوتی ہے اسکو بھی منمانے طریقہ سے خرچ کیا جاتا ہے جیسا کہ جانکاری کے ذریعہ معلوم ہوا ہے جسمیں سے ایک خطیر رقم  حج فلائٹوں کی روانگی و آمد کے وقت  ائر پورٹ ٹرمنل پر عازمین حج کی خدمت کے نام پر مختلف این جی اوز کےموجود رضاکاروں اور وہاں تعنات سرکاری ایجنسیوں کے متعلقہ عملہ کےاوپر انکے چائے،

ناشتہ اور کھانے کے نام پر دہلی حج کمیٹی خرچ کرتی ہے جسکا حجاج کی فلاح و بہبود کا دور تک بھی کوئی لینا دینا نہیں ہے مزید یہ کہ جس ریٹ پر یہ مینو(آئٹم) سپلائی ہوتی ہیں اس ریٹ کے مطابق اس کھانے کی کوالٹی نہیں ہوتی ہے۔اسلئے سوشل ریفورم  تنظیم  حکومت دہلی سے پر زور مطالبہ کرتی ہے کہ دہلی حج کمیٹی کے تمام  افعال میں شفافیت کی خاطر  حج کمیٹی کی کل قریب چار کروڑ آمدنی جائز مدوں میں عازمین کو بہتر سہولیات مہیا کرانے میں صرف کی جائے۔نیز اخراجات   کے عمل کو اخباری ٹینڈر کے ذریعہ انجام دیا جائے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حج درخواستوں کے ہمراہ جن درخواست گزاروں سے درخواست فیس لیجاتی ہےاور قرعہ اندازی کے بعد جو محروم رہجاتے ہیں انسے وصولی گئی فیس سے قرعہ میں کامیاب عازمین کی پانچ فیصد جی ایس ٹی اس رقم سے جمع کرائی جائے۔

سوشل ریفورمس تنظیم دہلی حکومت  سے مانگ کرتی ہے کہ موجودہ دہلی حج کمیٹی جسکی مدت آئندہ ۲۳ مارچ کو ختم ہونے جارہی ہے اسکی تشکیل نو کے عمل کو حج ایکٹ و رولز کے مطابق آئندہ حج شیڈولڈ سے پہلے پہلے مکمل کیا جایے نیز اسمیں ایکٹ کے مطابق عالم دین کو تقرر کیا جائے کیونکہ موجودہ حج کمیٹی کے ارکان میں کوئی عالم دین شامل نہیں ہے۔علاوہ ازیں حج کمیٹی کو بدنامگی سے بچانے کی خاطر  اسمیں صاف ستھری چھوی والے افراد کو جگہ دیجایے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *