آج  روشنیوں کا  تہوار دیوالی ہے : آج کے دن ہم اپنے برادران وطن کوایسے  دیں مبارک باد

غیر مسلموں کی تقریبات میں شرکت کے حدود 

Asia Times Desk

  نوٹ : آج صبح معمول کے مطابق میں جیسے ہی  اپنے دفتر پہونچا  میری نظر  ایک عالم دین پر پڑی ،  علیک سلیک کے بعد میں ان سے پوچھ بیٹھا محترم یہ بتائیں کہ آج ہمارے برادران وطن کا اہم تہوار روشنیوں کا  تہوار دیوالی ہے ، بھلا بتائیں کہ ہم اپنے دوستوں کو اس موقع پر کس طرح مبارکباد دیں ،

اس سوال کو میں نے گزشتہ ایک ہفتے سے  کئی لوگوں سے جاننے کی کوشش کی زیادہ تر کا ایک ہی جیسا جواب تھا  چونکہ برادران وطن مشرکانہ عقیدہ رکھتے ہیں اس لیے  اس بارے ہمیں احتیاط برتنا چاہئے  ۔ میں نے کہا تو پھر ان کو تہنیت پیش کرنے کی کوئی صورت نہیں بنتی ؟ اس کا جواب سکوت میں ملا ۔

آج  جب  یہی سوال میں نے ایک اور عالم دین سے پوچا کہ جناب آپ  اپنے  وطنی بھائیوں کو آپ کیسے مبارکباد دیں گے یہ بتائیں کہ  خوشی کےان  لمحات میں ہماری شرکت  کس حد تک ہو نی چاہئے ،  بھلا بتائیں  جو اسلام پڑوسی کے حقوق کی تعلیم دیتے وقت یہ تفریق نہیں کرتا  کہ وہ مشرک ہے  یا موحد  یہاں کیا رہنمائی کی گئی ہے۔

میرا  سوال  سن کر  وہ  مسکرائے اور بولے  ابھی آپ کو اس پر اپنی ایک تحریر ارسال کرتا ہوں اسی سے استفادہ کرلیں ،

 

انہوں نے ابھی ابھی مندرجہ ذیل تحریر مجھے بھیجی ہے  آپ بھی ملاحظہ کریں  ۔

 

جس سماج میں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہوں، ان کا آپس میں ملنا جلنا، ایک دوسرے کی مدد کرنا اور ان کی خوشی اور غم میں شریک ہونا، دینی نقطہ نظر سے پسندیدہ ہے _ مذاہب کا اختلاف اپنی جگہ _ ہر شخص تنہا بارگاہ الہی میں حاضر ہوگا اور اس سے اس کے عقائد و اعمال کی جواب دہی ہوگی _مسلمانوں کے لیے سماج میں رہنے والے تمام انسانوں سے انسانی اور سماجی تعلقات رکھنا مطلوب ہے_ دوسری طرف ان سے یہ بھی مطلوب ہے کہ وہ عقائد اور عبادات کے معاملے میں کسی طرح کی مداہنت یا مشابہت قبول نہ کریں اور ابہام اور اشتباہ سے حتّی الامکان بچنے کی کوشش کریں ۔

اس پس منظر میں سوال یہ ہے کہ غیر مسلموں کی تقریبات میں شرکت کے کیا حدود ہیں؟
واضح رہے کہ تقریبات دو طرح کی ہوتی ہیں :

(1) سماجی، غیر مذہبی، مثلاً شادی بیاہ، جشن ولادت، ملازمت ملنے کی خوشی میں پارٹی ، کسی دوکان کا افتتاح، کسی کی وفات، یا سماج کے افراد کے یکجا ہونے کا کوئی اور موقع_

(2)خالص مذہبی، جن میں کسی مخصوص مذہب کے مراسم ادا کیے جاتے ہیں ۔

درج بالا سوال کا اصولی طور پر جواب یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے غیر مسلموں کی سماجی تقریبات میں شرکت جائز، جب کہ مذہبی تقریبات میں شرکت ناجائز ہے _
بعض تقریبات کو سماجی اور مذہبی کے خانوں میں الگ الگ کرنا ممکن نہیں، کہ بعض غیر مسلم اپنی سماجی تقریبات میں مذہبی مراسم بھی انجام دیتے ہیں اور مذہبی تقریبات کو سماجی رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں _ ایسی تقریبات، جن پر مذہبی رنگ غالب ہو، ایک مسلمان کے لیے ان میں شرکت نہ کرنا اَولی ہے _ لیکن اگر مذہبی رنگ غالب نہ ہو تو وہ
شریک ہو سکتا ہے، البتہ مراسمِ عبادت کی مخصوص مجلس سے دور رہے۔

تکثیری سماج میں رہنے والے مختلف مذاہب کے پیروکار فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے مقصد سے اپنی تقریبات میں دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو مدعو کرنے لگے ہیں مسلمان عید ملن پارٹی میں، ہندو دیوالی، دسہرا کے فنکشن میں اور عیسائی کرسمس کی تقریب میں دیگر مذاہب کے لوگوں کو بلاتے ہیں _ یہ تقریبات اب خالص مذہبی نہیں رہ گئی ہیں، بلکہ ان میں مذہبی اور سماجی دونوں پہلو پائے جاتے ہیں۔

ایسی تقریبات میں اگر کوئی مسلمان خیر سگالی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے جذبے سے، سماجی تعلقات بڑھانے کے ارادے سے، یا دعوتی مقصد سے شرکت کرنا چاہے تو کرسکتا ہے، لیکن اسے اس موقع پر ان کاموں میں شریک ہونے سے بچنا چاہیے جن کا مذہبی رنگ ہو ، بلکہ اگر حسب موقع وہ اپنی علیحدگی کی وضاحت کرسکے تو اس سے دعوتی مقصد بھی پورا ہوگا_ مثلاًً اگر کرسمس کی تقریب میں اس سے کیک کاٹنے کو کہا جائے تو وہ کہہ سکتا ہے کہ ہم خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی پیدائش کی خوشی میں کیک نہیں کاٹتے تو حضرت عیسٰی کی پیدائش پر بھی یہ سب کرنا مناسب نہیں سمجھتے ۔

دوسروں کی تقریبات میں ہمیں اپنی شرائط پر شرکت کرنی چاہیے، نہ کہ ہم ان میں جاکر بغیر حدود کی رعایت کیے ہر وہ کام کرنے لگیں جو دوسرے ہم سے کروانا چاہتے ہیں _
اس سلسلے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے اس ارشاد کو ہمیں اپنے لیے مشعل راہ بنانا چاہیے :

“حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے_ ان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں، جو شخص ان سے اپنا دامن بچا لے جائے، اس نے اپنے دین کو محفوظ کرلیا۔”

محمد رضی الاسلام ندوی

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *