گینسڑی میں حراء پبلک لائبریری کا سراج طالب نے کیا افتتا ح : فاونڈیشن کے چئرمین جاوید اشرف نے کہا ، نوجوان نسل میں مطالعہ کا شوق پیدا کرنا ہمارا مقصد  

Asia Times Desk

گینسڑی، بلرام پور: (ایشیا ٹائمز) ٹکنالوجی اور انٹرنیٹ کے زمانے میں ہمارا معاشرہ کتابوں سے دور ہوتا جا رہا ہے. موبائل اور کمپیوٹر پر سرسری نظروں سے کسی بھی چیز کو دیکھنے یاپڑھنے کا دور چل رہا ہے. کتابوں کی طرف توجہ کم ہوتی جارہی ہے، لیکن کتابوں کے ذریعہ ہی تاریخ کا مطالعہ کرکے ہم اسے یاد رکھ سکتے ہیں. ان خیالات کا اظہار ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے دہلی پردیش صدر نے ضلع بلرام پور کے گینسڑی بازار میں حراء پبلک لائبریری کا افتتاح کرتے ہوئے کیا.
سراج طالب نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں اس وقت اتنی برائیاں عام ہوگئی ہیں، کہ معاشرہ ذات اور مذہب کے نام پر تقسیم ہوکر رہ گیا ہے. ایسے وقت میں اگر ہم لوگوں کو کتابوں سے جوڑنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ بہت بڑا کام ہوگا. اس سے قبل مولانا جمال احمد سلفی کے تلاوت کلام پاک سے مجلس کا آغاز ہوا.
حراء سوشل اینڈ ایجوکیشنل فاؤنڈیشن کے چیئرمین جاوید اشرف نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ میرے علاقے میں اس طرح کے کام کیے جانے کی ضرورت ہے تو میں نے اس جانب قدم بڑھایا. مجھے لگتا ہے کہ اگر نوجوان نسل جو کتابوں سے دور ہوتی جارہی ہے، اس کے اندر مطالعہ کا شوق پیدا کیا جائے.
انہوں نے کہا کہ اسلامی، تاریخی یا کسی بھی موضوعات پر مطالعہ کے لئے ہمیں کتابوں کا سہارا لینا پڑتا ہے. کیونکہ موبائل پر ہ. اس تھوڑا سا دیکھتے ہیں، اس کے بعد سرسری طور پر گزر جاتے ہیں، لیکن جب ہم کتابوں کا مطالعہ کریں گے تو اطمینان اور سکون کے ساتھ اس کا مطالعہ کریں گے، جو ہمارے ذہنوں میں ہمیشہ محفوظ رہتی ہے.
دہلی یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور صحافی نثار احمد خان نے جاوید اشرف کو لائبریری کے قیام کے لئے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کوششوں سے ہم اس پسماندہ علاقے کو تعلیم کی طرف متوجہ کرسکتے ہیں. انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے مدارس کی صورتحال انتہائی خراب ہے
دن بدن تعداد کم ہوتی جارہی ہے، اس لئے ہمیں مدارس کو ٹکنالوجی سے جوڑنا چاہیے. ساتھ ہی ہمیں اب عالم کے ساتھ ڈاکٹر اور وکیل بنانے کی ضرورت ہے. جن سے قوم کو فائدہ ہو. نثار احمد خان نے مدرسۃ الہدی١ سوسائٹی کے ذریعہ 26 جنوری 2017 کو قائم کیے گئے انوار خان میموریل پبلک لائبریری پر بھی
روشنی ڈالی. جہاں پہلے لوگوں دلچسپی کم تھی، لیکن اب لوگ اس سے مستفید ہورہے ہیں.
اس موقع پر تنظیم کے سرپرست عبدالمبین خان، نوجوان مقرر مولانا ریاض محمدی کے علاوہ کئی علمائے کرام اور گینسڑی بازار کے نوجوان موجود تھے. تمام شرکاء نے جاوید اشرف کے اس قدم کو سراہتے ہوئے نیک خواہشات پیش کیں اور مستقبل میں مزید تعلیمی اور سماجی کاموں کو انجام دینے کی امید جتائی.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *