کتنا چیلنجنگ ہوتا ہے پسماندہ علاقے سے تعلق ہونا ؛ جانیں ، کیسا رہا ایک میواتی نوجوان کا پی ایچ ڈی تک کا سفر ؟

مستقبل قریب میں ڈاکٹر عرفان جیسے لوگوں کی وجہ سے میوات کو ایک نئی شناخت ملے گی ممکن ہے کہ ان کی کہانی بہت سے میواتیوں کے لئے مشعل راہ کا وسیلہ بنے

Asia Times Desk

Advt
 میوات : (ایشیا ٹائمز نیوز ڈیسک )جہاں تعلیم حاصل کرنا اور تعلیم حاصل کرتے رہنا موجودہ تعلیمی نظام میں بہت مشکل ہوگیا ہے، وہیں ملک کے پسماندہ علاقوں کے بچوں کو تعلیم تک رسائی فراہم کرنا اور بلند معیارِ تعلیم برقرار رکھنا کسی بھی ترقی پزیر ملک کی حکومت کے لئے ایک چیلنج بن گیا ہے مگر یہ بیحد مشکل عمل ہوتے ہوئے اتنا ناگزیر عمل ہے کہ اگر نسلوں کو تعلیم یافتہ نہیں کیا گیا تو ان کی عادتیں خراب ہو جائیں گی-
خوش آئند بات یہ ہے کہ ملک میں ناخواندگی کے خاتمے، اسکولوں میں اندراج کی شرح بڑھانے٬ بچوں کے اسکول سے اخراج (ڈراپ آؤٹ) کو کم کرنے٬ تعلیمی میدان میں صنفی مساوات قائم کرنے کیلئے ریاستی اور مرکزی حکومتیں کافی اہمیت دے رہی ہیں۔
علامہ اقبال رح نے کہا تھا کہ
’’علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب‘‘
کیونکہ اگر انسان کو علم سے محبت ہوگئی تو وہ ایک ذمہ دار شہری بن کر ملک و قوم کی خدمت انجام دے سکتا ہے-
کسی بھی نظامِ تعلیم کے بہتر ہونے کا اندازہ اس بات سے نہیں لگایا جا سکتا کہ اسکولوں میں بچوں کی تعداد کتنی ہے، بلکہ بچے کتنے اچھے طریقے سے سیکھ پاتے ہیں اور تعلیم میں کہاں تک پہنچ پاتے ہیں- نیز ڈراپ کی شرح کو روکنے کے لئے حکومتوں کی جانب سے کیا اقدامات کئے گئے ہیں یہ زیادہ اہم ہے۔
آج ہم اپنے ملک کے تعلیمی اعتبار سے نہایت پسماندہ علاقے کے ایک ایسے شخص کا تعارف پیش کرنے جارہے ہیں، جسے بچپن سے ہی تعلیم سے محبت ہوئی اور نتیجتاً آج اس نے میوات کے ایک نہایت پسماندہ دیہی علاقے سے نکل کر اپنا پی ایچ ڈی تک کا کامیاب سفر مکمل کر لیا ہے، اس کا کریڈٹ اس کی ہمہ وقتی لگن اور محنت کو ہی جاسکتا ہے
ویسے آج کے موجودہ ہندوستان میں پی ایچ ڈی تک کا سفر کوئی اچیومنٹ نہیں کہلاتا لیکن اگر یہ کارنامہ میوات کے علاقے سے آنے والا ایک معمولی سا طالب علم جو پیدائش کے وقت ایک معمولی کسان کا پانچواں بیٹا ہو، انجام دیتا ہے تو یہ شے اسے غیر معمولی اور اچیومنٹ بنا دیتی ہے-
 قارئین!
یہ کہانی ہے محمد عرفان کی، جو صبیح الدین عرف صوبےخان کی سب سے چھوٹی اولاد ہیں-
میوات (ہریانہ) کے نوح علاقے میں ‘جے سنگھ پور’ نام کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں، جس کی تحصیل ‘اجینا’ ہے، سن 1985 میں محمد عرفان کی پیدائش ہوتی ہے، روایت کے مطابق تو محمد عرفان کو کسی مقامی اسکول سے پانچویں یا حد درجہ دسویں جماعت پاس کرنے کے بعد یا تو کسان بننا تھا یا کوئی ہنر سیکھ کر باپ کا ہاتھ بٹانا تھا، کیونکہ اس علاقے کے بیشتر نوجوان ٹرک ڈرائیور ہیں، باقی ماندہ کسان ہیں جو جز وقتی جانوروں کی تجارت یا کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کرتے ہیں-
 عرفان کے استاذ مولانا سرا ج جن کی تحریک کے نتیجے میں محمد عرفان کو ساتویں جماعت کے بعد اعلی تعلیم کے حصول کے لئے مدرسہ جامعة الإمام شاہ ولی اللہ  بھیجا  گیا
تعلیمی ڈراپ آوٹ کا لامحالہ نتیجہ یہی صورت حال ہوتی ہے- حسنِ اتفاق سے ‘جے سنگھ پور’ میں ان دنوں موجود مولانا سراج صاحب کی تحریک کے نتیجے میں محمد عرفان کو ساتویں جماعت کے بعد اعلی تعلیم کے حصول کے لئے مدرسہ جامعة الإمام شاہ ولی اللہ (جو مظفر نگر کے پھلت میں واقع ہے) بھیج دیا گیا، جہاں سے عربی کی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد محمد عرفان نے ہندوستان کے شہر لکھنؤ میں واقع اسلامی علوم کی عظیم درس گاہ ندوة العلماء سے سن 2004 میں عالمیت کی تکمیل کی- اور تعلیمی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ملک کی
معروف مرکزی یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کا رخ کیا-
advt
 جامعہ ملیہ اسلامیہ سے 2008 میں گریجویشن کی تکمیل کے بعد محمد عرفان نے ایم اے (اردو) میں داخلہ لیا اور سال 2011 میں ملک کی سب سے عظیم فیلو شپ (جے ار ایف) کے لئے کوالیفائی کیا اور اس کے بعد ڈاکٹریٹ کی عظیم المرتبت ڈگری پی ایچ ڈی  کے لئے دہلی یونیورسٹی کا رخ کیا، ابھی کچھ دنوں قبل ہی انہوں نے اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی اور اس طرح وہ اپنے
گاؤں میں یہ مرحلہ طے کرنے والے اپنے مرحوم تاؤ کے بعد دوسرے فرد بن گئے-
محمد عرفان اپنی والدہ بصیری خاتون اور اہلیہ ترنم پروین کے ساتھ
تحریر کے آغاز میں محمد عرفان کے والد محترم کا تذکرہ کرتے ہوئے ہم نے یہ لکھا تھا کہ وہ ایک کسان تھے، لیکن ان کے دو بھائی تعلیمی اعتبار سے کچھ آگے بڑھنے میں ضرور کامیاب ہوئے تھے، محمد عرفان کے بڑے ابو یعنی تاؤ شبلی کالج میں فارسی زبان و ادب کے لیکچرار کے عہدے پر فائز تھے، جبکہ چھوٹے چچا گورنمنٹ کانٹریکٹر تھے، جو تعمیراتی امور کی انجام دہی کیا کرتے تھے، مطلب کہیں نہ کہیں یہ روایت ان کے گھرانے کے دو بزرگ پہلے ہی شروع کر چکے تھے، جس کے احترام و اعتراف میں اس سلسلے کو مزید تقویت دینے کا کام ان کے بھتیجے محمد عرفان نے کیا اور پھر مولانا سراج صاحب کی سرپرستی کا حصول بھی ان کی زندگی میں ایک نعمت کی طرح ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے-
مجموعی طور پر یہ وہ عوامل ہیں، جن کی وجہ سے کسان کے بیٹے محمد عرفان نے پی ایچ ڈی تک کا کامیاب سفر طے کیا-
لیکن کہانی ابھی باقی ہے
کیونکہ محمد عرفان کے لئے مذکور بالا تعلیمی مراحل کو عبور کرنا اتنا بھی آسان نہیں تھا، جتنی آسانی سے لکھ دیا گیا ہے-
محمد عرفان کی عمر جب محض 15 سال تھی کہ ان کے والد کا سایہ عاطفت ان سے چھن گیا اور اس کے ٹھیک اگلے سال یعنی 2002 میں والدہ کے اصرار پر انہیں نکاحِ مسنون کا فریضہ انجام دینا پڑا، اب ان کے تعلیمی سفر کے آڑے بیوہ ماں کی شفقت بھی تھی اور نئی نویلی اور نوخیز اہلیہ کی محبت بھی، لیکن محمد عرفان کا تعلیمی عشق سب پر حاوی رہا اور انہوں نے کسی بھی دشواری کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکے، تعلیم حاصل کرتے ہی رہے عرفان  کہتے ہیں کہ میرے اس طویل تعلیمی سفر میں والدہ کی محبتوں اور اہلیہ  کا  بھر پور تعاون  نہ حاصل ہوتا تو  منزل تک پہونچ پانا میرے لیے ممکن نہ ہوتا  –
اور دوران تعلیم وہ ٹیوشن کے ذریعے خود کفیل بن کر اپنے اخراجات مکمل کرتے رہے اور حسن اتفاق سے محمد عرفان نے جب دہلی میں قدم رکھا اس وقت دہلی میں  میڈیکل ٹورزم کا شعبہ نیا نیا متعارف ہوا تھا، بیرون ممالک میں بالخصوص عرب ممالک کے مریض بڑی تعداد میں طبی تشخیص اور علاج کے لیے ہندوستان کا رخ کر رہے تھے، جن کے علاج کے دوران عربی اور انگریزی زبان پر عبور رکھنے والے مترجمین کو دہلی اور این سی آر سے اسپتالوں میں کام کرنے کا سنہری موقع فراہم ہو رہا تھا،
موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے محمد عرفان نے بھی انسانی خدمت کے طور پر اس پیشے کو اختیار کیا اور اس سے ہونے والی خطیر آمدنی کو اپنے ضروریات کو پورا کرنے کے لئے، ساتھ ساتھ سماجی اور رفاہی کاموں میں حصہ لینے کے لئے خرچ کیا، جس کی برکت سے انہوں نے اپنے عظیم مقصد یعنی حصول علم کو پایہ تکمیل تک پہنچایا، اسپتال کی ڈیوٹی سے فاضل وقت میں وہ اپنے تحقیقی کام کو پورا وقت دیتے رہے اور دیگر فرائض کی انجام دہی بھی کرتے رہے –
advt
الحمد للہ اب دنیا انہیں ڈاکٹر عرفان کے نام سے یاد کرے گی-
سند رہے کہ محمد عرفان کے مقالے کا موضوع “دکن کے جدید شعرا کا تنقیدی مطالعہ” ہے، جس کو دہلی یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نوشاد عالم نے سپروائز کیا ہے-
امید ہے کہ ان کا یہ مقالہ جب کتابی شکل میں قارئین کے ہاتھوں میں آئے گا تو دکن کے جدید شعرا کے حوالے سے ایک نیا باب ہوگا –
قارئین!
ذکر جب میوات کا ہوا ہے، تو اب کچھ باتیں میوات کے تعلق سے ہونی چاہئے-
بیشتر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ میوات صرف ایک ضلع ہے، جس کا صدر دفتر ‘نوح’ ہے جبکہ ایسا نہیں ہے، دراصل میو یا میوات وہ علاقہ ہے جو شمال میں دہلی، جنوب میں آگرہ، مشرق میں علی گڑھ اور مغرب میں جے پور کے درمیان آباد ہے، میو کہتے ہیں گنجان آبادی والی بستیوں کو، آزادی سے قبل چونکہ کچھ شہر تو گنجان آبادی والے تھے مگر دیہات میں گنجان آبادی کا تصور نہ کے برابر تھا
 میو کہتے ہیں کہ میو لوگ بھی پہلے ہندو تھے، ان کو معین الدین چشتی نے مسلمان کیا تھا، لیکن ان میں ایک شناخت جو اب بھی باقی ہے، وہ ہے گوتر یا گوت-
میو کے کئی گوت ہیں، جن میں کچھ مشہور گوت ہیں “دیھنگل، چھرکلوت، پاہت، گھٹلیا (یعنی گھاٹی گاؤں سے ہے)، باگھوڑیا رائبیا، راجپوت، منناکا (منییا)، مونڈپریا، موسم پریا ،کل تاج پریا، دوھلی کا، پتھروڑیا، بھوتکا اور ڈاڈھیکا وغیرہ -‎ پہلے تو یہ لوگ اپنے نام کے ساتھ سنگھ رام وغیرہ بھی لگاتے تھے، لیکن اب یہ لوگ اپنے نام مسلمانوں جیسے ہی رکھتے ہیں
ایک خاص بات : اب سے کچھ سال پہلے تک میواتی لوگ اپنے ماں باپ کے کہنے پر ہی شادی کرتے تھے لیکن اب اس روایت سے اکا دکا انحراف کے واقعات بھی سننے کو مل جاتے ہیں
 تقسیم بر صغیر کے وقت میو آبادی کا ایک بڑا حصہ پاکستان بھی ہجرت کر گیا تھا، مگر اکثریت بھارت میں رہ گئے تھے- پاکستان جو میو پہنچے وہ وہاں کے سرحدی اضلاع میں جا کر بسے تھے۔ سرحدی اضلاع مطلب سیالکوٹ، نارووال قصور اور اوکاڑہ
 بر صغیر کے بٹوارے سے یاد آیا کہ دہلی سے 60 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک اور گاؤں ہے، جس کا نام ہے، گھاسیڑا…. بتا دوں کہ یہ کوئی عام گاؤں نہیں ہے، وہ اس لئے کہ 1947 میں گاندھی جی یہاں ایک مقصد کے ساتھ آئے تھے اور اس بات سے گاؤں کا ہر چھوٹا اور بڑا واقف ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ‘یاسین چودھری’ نام ایک میو کے بلاوے پر مہاتما گاندھی فسادات کے ٹھیک بعد میوات کے اس گاؤں میں آئے تھے اور مسلمانوں کو پاکستان جانے سے روکا تھا، میواتی گلوکار لیاقت علی بتاتے ہیں کہ ’’مہاتما گاندھی نے اس وقت کہا تھا کہ میو مسلمان ہندوستان کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔‘‘
advt
میوات میں جہاں مہاتما گاندھی 1947 میں مسلمانوں کو سمجھانے کے لئے آئے تھے وہاں آج ایک اسکول قائم ہے۔
یہاں کے لوک گلوکاروں کو میراسی کہا جاتا ہے۔ میوات میں لوگوں کے پاس کوئی تحریری ریکارڈ نہیں ہے، لیکن یہ گلوکار اپنے گیتوں کے ذریعہ کئی واقعات کو بیان کرتے رہتے ہیں اور تاریخ کو تازہ کرتے رہتے ہیں۔ گاندھی جی کا میوات آنا بھی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ اس واقعہ پر مبنی گیت کو یہ لوک گلوکار بہت فخر سے گاتے ہیں۔
باپو جی گھاسیڑا آیو
ہندو مسلم سب سمجھایو
ان انگریجن نے پھوٹ گیر دی
آج ان کے موند لگا دیو تالا
گھاسیڑا آنے کے چند ہفتوں بعد ہی گاندھی جی کا قتل کر دیا گیا تھا، ان کے قتل کے ساتھ فرقہ وارانہ کشیدگی سے پاک ہندوستان کا خواب بھی قتل ہو گیا۔
یہ بات سب جانتے ہیں کہ میوات ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے، جس نے گزشتہ کچھ سالوں میں کافی تنازعات دیکھے ہیں۔ پہلا تنازعہ بریانی میں بیف کو لے کر ہوا تھا، اس کے بعد ڈینگر ہیڑی میں دو خواتین سے گینگ ریپ ہوا اور پھر پہلو خان کو ایک مشتعل بھیڑ نے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا تھا، ان ظلم و ستم سے بے چین ‘لیاقت علی’ نے قلم اٹھایا اور گیت تحریر کر دیا، یہ گیت ہندوستان کی مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ باپو پر لکھے مذکور بالا اس گیت سے بہت مختلف ہے جو ان کے چچا نے لکھا تھا
 پیش ہے لیاقت علی کا گیت 
پہلا غم ڈینگر ہیڑی
دوجا پہلو مار دیا
جنید خان چلتی گاڑی میں
کچھ غنڈوں نے مار دیا
گھر سے کالج گیا تھا پڑھنے
آج تک نہیں آیا
ماں کی انکھیاں ترس گئی
نجیب لال نہیں آیا
کیسے کیسے ظلم ہو چکے
بگڑا بھائی چارہ
بھارت تھا سونے کی چڑیا
نرک بنا دیا سارا
ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی
بگڑا بھائی چارہ
بھارت تھا سونے کی چڑیا
نرک بنا دیا سارا
مستقبل قریب میں ڈاکٹر عرفان جیسے لوگوں کی وجہ سے میوات کو ایک نئی شناخت ملے گی اور ممکن ہے کہ ان کی کہانی بہت سے میواتیوں کے لئے مشعل راہ کا وسیلہ بنے گی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *