ہر صاحب نصاب کو اپنی زکات کی ادائیگی کے وقت یہ دھیان رہے

اشرف علی بستوی

Asia Times Desk

 اگرکوئی آپ سے یہ پوچھے کہ اس سال  آپ نے کتنے قرض داروں کی مالی مدد کی ہے ، کتنے بے قصور قیدیوں کو چھڑانے میں اپنا مال خرچ کیا اور کتنے مسافروں کی امداد کی تو شاید یہ جواب آپ کے لیے مشکل ہو لیکن اگر کوئی یہ پوچھے کہ اس سال رمضان میں کتنے  مدارس کو اپنی زکات کی رقم  دی تو آپ  رشیدوں کا بنڈل سامنے کر دیں گے ۔

 آپکا جواب ہوگا کہ ہمارے پاس جو آیا ہم نے اسے دیا ، لیکن آپ کا یہ جواب شاید مکمل نہیں ہے ،اس سے آپ اپنی ذ مہ داریوں سے  بچ نہیں سکتے  ۔

 ذرا غو کیجیے جس معاشرے میں زکوت کا نظم ہو اس معاشرے کا  نوجوان   برسہا برس تک جیل میں پڑا رہے  اور اس درمیان اس کا گھر بار تباہ ہو جائے اس کے بچے غربت و افلاس کی وجہ سے تعلیم نہ حاصل کر سکیں ، آبائی جائیداد مقدمے کی نظر ہو جائے  ۔

 ایک مقروض والدین کی بچی بن بیاہی بیٹھی رہ جائے  یہ سب ہماری بے توجہی کی وجہ سے ہی تو ہے ، جبکہ ہم ہر سال کروڑوں کی رقم زکات کے طور پر نکالتے ہیں، اجتماعی نظم زکات کی باتیں بھی ہم خوب کرتے ہیں ، اپنی تقریروں اور تحریروں میں با رہا یہ دہراتے ہیں کہ اگر مسلمان اپنے زکات کا نظم درست کر لیں تو مسلمانوں کے بیشتر مسائل حل ہو جائیں ۔

کیا کبھی آپ نے غور کیا  کہ کن کن مدات پر زکات  خرچ کی جانی چاہیے ؟ نہیں نا !  آپ کی یہی تن آسانی اورسہل پسندی کی وجہ سے سیکڑوں لوگ کروڑوں کی زکات نکالنے کے باوجود محروم رہ جاتے ہیں ۔ براہ کرم اس بار اپنی فہرست میں قیدیوں ،قرض داروں اور مسافروں کا حصہ بھی شامل کر لیں ،  قرآن میں درج  زکات کے  دیگرسبھی  8 مدات پر خرچ کر نے کا منصوبہ بنائیں ۔

ہر سال کی طرح امسال بھی پہلی رمضان سے ہی زکات وصول کرنے والے حضرات ہاتھوں میں رشید اور مدرسے کی زیر تعمیرعمارت کی تصویر لیے آپ کے دروازے پر دستک دے رہے ہوں گے  ۔ زکات وصول کرنے والوں کی اکثریت مدارس و مکاتب کے وابستگان کی ہوتی ہے،  جو سلام و کلام سے فارغ ہوتے  ہی مدرسے  کی آمدو خرچ کا سالانہ گوشوارہ آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں ،ان کی توجہ آپ کو یہ باور کرانے میں ہوتی ہے کہ مدرسہ ہذا  کا بجٹ مستقل خسارے میں ہے ، مدرسے کے فلاں سیکشن کی عمارت نامکمل ہے  آپ کی توجہ درکار ہے۔

اس بار جب وہ مدرسے کابجٹ پیش کریں تو آپ ان سے یہ  ضرور پوچھیں  کہ جن بچوں کی تعلیم اور کفالت آپ کا مدرسہ کر رہا ہے ان کی تعلیم اورکفالت پر کیا کرچ کیا جا رہا ہے ؟آپ کے یہاں تعلیم کا معیار کیا ہے؟ اساتذہ کی تربیت اور ان صلاحیت سازی کا کیا منصوبہ رکھتے ہیں ؟ یقینا وہ ان تمام سوالوں کے جواب سے سے گریز کریں گے ۔ ان میں کتنے جعلی رشید لیے پھر رہے ہونگے ان کی شناخت اور تصدیق کیسے کریں گے ؟

 آپ کو چاہیے کہ حتی الامکان اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کی زکات مستحقین تک پہونچے اور ان پر خرچ ہو ، آپ کا یہ کہہ کر بری الذمہ ہو جانا کہ ہم نے تو اپنی جانب سے ادا کردی اب وہ جانیں جنہوں نے وصول کیا ہے،  اس سے کرپشن کو فروغ ملتا ہے  جعلی زکات وصول کرنے والوں کی  حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور مستحقین محروم رہ جاتے ہیں ، یہ درست نہیں ہے ۔

قرآن کریم کے حکم کے مطابق 8 مصارف زکوت کے بتائے گئے ہیں ۔ فقیر ، مسکین، زکات کے انتظامى امور سنبھالنے والے، تالیف قلب، گردنوں کے چھڑانے کے لیے (بے قصور مسلمان قیدی)، قرض داروں کی مدد ،دعوت اور جہاد فی سبیل اللہ، مسافر کی مدد۔

 آپ اپنی زکات متذکرہ بالا کن کن مصارف میں خرچ کرتے ہیں اس کا بھی جائزہ لیں اور زکات کی ادائیگی میں تمام مصارف کو سامنے رکھیں۔ آپ جس مقام پر رہتے ہیں اپنے آس پاس آپ کے رشتے دار و احباب کے سرکل میں بھی ایسے نادار ضرورت مند ضرور ہوں گے جو آپ کی زکات و صدقات کے زیادہ مستحق ہیں،اس بارذرا اپنی فہرست  میں ترمیم کر کے دیکھیں ، کافی لوگوں کا بھلا ہو جائے گا ۔

اکثر دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ صاحب حیثیت فرد جو ہر سال لاکھوں روپئے زکات  نکالتا ہے  وہی جب اپنی سوسائٹی میں کسی ضرورت مند رشتہ دار یا پڑوسی کو قرض دیتاہے  ، تو یہاں نیت غریب کی مدد نہیں ہوتی بلکہ ان کی نگاہ اس سودی کاروبار کرنے والے اس ساہوکار کی سی ہوتی ہے جو قرض کے بدلے  غریب کی کسی آراضی کو ہڑپنے  کی منصوبہ بندی کیے رہتا ہے۔  یہی نیت ایک  صاحب حیثیت مسلمان کی بھی ہوتی ہے تاکہ ایک دن قرض کی ادائیگی نہ کر پانے صورت میں وہ اسے اپنے نام کر لے ۔  ایسی  مدد جو کسی  کو بے گھر کر دے بھلا کس کام کی ۔

  یاد رکھیں ہر صاحب نصاب کو اپنی زکات کی ادائیگی کے وقت یہ بات اچھی طرح دھیان میں رکھنی چاہیے کہ کیا اس کی زکات ان مصارف میں خرچ ہو رہی ہے جس کا حکم قران میں دیا گیا ہے۔ ہمیں اور اپ کو یہ جائزہ لینا چاہیے ۔

 یہ 8 مصارف  ہیں

1 فقیر
2 مسکین
3 عاملین زکات (زکات کے انتظامى امور سنبھالنے والے
4 تالیف قلب
5 گردنوں کے چھڑانے کے لیے (بے قصور مسلمان قیدی
6 قرض داروں کی مدد
7 دعوت اور جہاد فی سبیل اللہ
8 مسافر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *