میں اپنے دوستوں کو غزہ کی یہ کہانی ضرور بتاوں گا

محمد انس

Asia Times Desk

مراسلہ 

پیارے دوستو ! میں دسویں جماعت کا طالب علم ہوں میں نے اپنی گرمیوں کی چھٹیوں میں 17 تا 22 جون ‘فلسطین سمرکیمپ’ جوائن کیا تھا یہ سمر کیمپ ‘القدس فاونڈیشن انڈیا’ کی جانب سے لگایا گیا تھا ۔

وہاں مجھے بہت اہم جانکاریاں ملیں وہاں سب لوگ ہمیں فلسطین کے بارے میں بتارہے تھے کہ وہاں کے لوگوں پر اسرائیل کس کس  طرح  سے ظلم ڈھا رہا ہے۔

بتایا گیا کہ وہاں کے لوگ اپنے ہی گھروں میں قید ہیں ۔ ہمیں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ مسجد اقصی  کی اہمیت کیا ہےاور اس مسجد کے بارے میں پیارے نبی صل اللہ علیہ وسلم نے کیا کہا ہے ۔ اس مسجد کے بارے میں ہمارے نبی صل اللہ علیہ وسلم نے چالیس حدیثیں بیان کی ہیں ۔

Image result for children of gaza
THE CHILDREN OF GAZA: RESISTANCE AND LOSS

 یہ مسجد تین مشہور ان جگہوں میں سے ایک ہے جہاں پر سفر کرکےنماز پڑھنے کا پچاس ہزار گنا زیادہ ثواب ہے۔

ہمیں وہاں کے شہروں کے بارے میں ضروری باتیں بتائی گئیں ، ایک مشہور شہر غزہ کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ شہر دنیا کا سب سے بڑا جیل خانہ ہے  وہاں کے لوگ اپنی مرضی سے کوئی کام نہیں کر سکتے ، وہاں کا 90 فی صد پانی گندا ہے اس پانی کوہم اورآپ نہیں پی سکتے لیکن وہاں کے لوگوں کو وہی گندا پانی پینا پڑتا ہے ۔

Anthony Bourdain with children in Ghaza
 CHILDREN IN GHAZA

 وہاں کے لوگوں کو غزہ سے باہر نکلنے کو بڑی مشکل سے ملتا ہے ۔ وہاں کی رہنے والی ایک لیڈی نے ہمیں بتایا کہ وہاں کے بچےکون کون سے کھیل کھیلتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ بچے ہماری طرح پکڑم پکڑائی نہں کھیلتے بلکہ اپنے وطن کے لے وہ کیسے شہید ہوں گے ایسے  کھیل کھیلتے ہیں اور ان سے جب کہا جاتا ہے کہ تم کچھ اپنی پینسل سے بناوتو وہ پھول پتیاں نہیں بناتے بلکہ اسرائیلی بم اور گن بناتے ہیں کیونکہ وہاں کے بچوں نے کبھی پھول پتیوں کو غور سے دیکھا ہی نہیں ۔

 اس سے  ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی  چاہتے ہیں کہ وہاں کے مستقبل کا ذہن ابھی سے ڈسٹرب  ہو جائے۔ یہ سب ان کے ساتھ کیوں ہورہا ہے ؟ ہمیں ان کی درد بھری زندگی کی کہانی سن کر بہت دکھ ہوا ۔ میں اپنے بہت سارے دوستوں کو فلسطینی بچوں کی یہ دکھ بھری کہانی ضرور بتاوں گا۔  اللہ ان کی مدد کرے  ۔ آمین

طالب علم : دسویں جماعت

ابوالفضل انکلیو ،جامعہ نگر ‘ نئی دہلی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *