آہ !مرکزجماعت اسلامی ہندکےسابق سکریٹری تعلیمات محمداشفاق احمد

محمد صبغۃ اللہ ندوی

Asia Times Desk

جماعت اسلامی ہند کےسابق مرکزی  سکریٹری تعلیمات اورجماعت کی طلباء تنظیم ایس آئی اوکےسابق صدرمحمد اشفاق احمد اب ہمارے درمیان نہیں رہے ۔68 سال کی عمر میں حرکت قلب بند ہوجانے سے ان کا انتقال 20 اکتوبر 2018 کی صبح اورنگ آباد میں ہوگیا اوربعد نماز عشاء  تدفین عمل میں آئی ۔مرحوم نہایت ہی مخلص اورملنسار ہونےکےساتھ ماہر تعلیم بھی تھے ۔

محمد صبغۃ اللہ ندوی

سرکاری نصابوں پر ان کی گہری نظر تھی اوران میں موجود غلط اوراسلام مخالف  معلومات اورمواد کا تدارک کرانے میں انہوں نے نہ صرف اہم رول ادا کیا بلکہ اسلامی نہج پر ایک نصاب تعلیم تیار کرایاجو آج بھی اسکولوں میں رائج ہے اور وہ مکتبہ اسلامی پبلیشرز نئی دہلی سے شائع ہوتاہے ۔مرحوم سے اللہ تعالی کو تحریک کاکام لینا تھا اسی لئے انہوں نے اچھی خاصی ملازمت چھوڑ کر تحریک اسلامی کےلئے خود کو وقف کردیا تھا۔

مرحوم کو تحریک اسلامی سےجو لگاؤ زمانہ طالب علمی میں قائم ہوا وہ آخری عمر تک برقرار رہا  ۔جماعت کی طلباء تنظیم ایس آئی او آف انڈیا کےبانی ممبروں میں شامل مولانامحمد اشفاق احمد تنظیم کےدوسرے کل ہندصدر ( 87۔1985 ) رہے، جماعت اسلامی ہند کی رکنیت طالب علمی کےزمانےمیں اختیارکرلی تھی ۔تحریکی کاموں میں اتنے سرگرم تھے کہ ایس آئی اوکی صدارت سے سبکدوش ہونے کےمحض تین سال بعد 1990 میں مرکز جماعت اسلامی ہند آگئے ،یہاں کےاہم علمی شعبہ تعلیمات کےسکریٹری بن گئے اورطویل 25 برسوں تک خدمات انجام دیں ۔2015 میں جب مرکز سے اپنےآبائی وطن اورنگ آبادگئے تو ان کی تحریکی ، علمی اوردینی سرگرمیاں بند نہیں ہوئیں ۔ تحریک کےجس مشن پر کام کرنےکا بیڑا اٹھایا تھا آخر تک اس پر کام کرتے رہے ۔ان کی سرگرمیاں صرف مرکز جماعت تک محدود نہیں رہیں بلکہ اس کےباہر بھی تحریکی فکر کےساتھ متعدد ادارے قائم کرنے کی تحریکوں میں حصہ لیا اور ان کےممبر رہے ۔جیسے العرفان  اسکول اورنگ آباد کےصدر ، الحرا ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائیٹی اورنگ آباد کےبانی وصدر اورفیڈریشن آف مسلم ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنلز انڈیا اورمولانامودودی فاؤنڈیشن کےبانی ممبررہے۔متعد د اسکول ان کےزیرنگرانی چلتے تھے اورمتعدد کی انتظامیہ میں شامل تھے ۔

آل انڈیا ٹیچرز ایسوسی ایشن ( آئیٹا) کےقیام میں  اہم رول ادا کیا تھا اوراس کی مرکزی کمیٹی کےممبر بھی رہے ۔گزشتہ  2 اکتوبر کو دستوری ترمیمات پر غور کرنےکےلئے اس کی مرکزی کمیٹی کی میٹنگ میں شریک بھی ہوئے تھے ۔غرضیکہ دینی ، علمی اورتحریکی کاموں میں خاص شغف تھا اورجہاں بھی یہ کام ہوتے ان میں دلچسپی بھی لیتے اوران سے وابستہ ہوتے تھے ۔ان کی دلچسپی صرف ابتدائی تعلیم اوران کےاداروں میں نہیں ہوتی تھی بلکہ اعلی تعلیمی اداروں پر بھی توجہ ہوا کرتی تھی چنانچہ دہلی میں  قیام کےدوران دہلی یونیورسٹی ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، جامعہ ملیہ اسلامیہ اورجامعہ ہمدرد کے اساتذہ ، اسٹاف اورطلباء سے کافی ربط رکھتے تھے ۔ علمی حلقوں میں کافی اثرورسوخ رکھتے تھے ۔انہوں نے جس طرح مکتبہ اسلامی پبلشرز کی نصابی کتابوں پر نظر ثانی کرائی اوران کو نئے انداز سے مرتب کرایا وہ بہت بڑا کام تھا ۔ علمی حلقوں میں آج بھی اس کی قدر کی جاتی ہے ۔پورے ملک کےدورے کرکے ہزاروں اساتذہ کی تربیت بھی کی تھی ۔اسی کوشش نے لوگوں کو انہیں ‘مربی محترم ‘کہنےپر مجبور کردیا ۔

 مولانا محمد اشفاق احمد مرحوم کہنےکو تو پسماندگان میں اہلیہ اوردوبیٹیوں کو چھوڑ کر اس دار فانی سے کوچ کرگئے لیکن جس مشن پر کام کیا تھا وہاں آج بڑا خلا پیدا ہوگیا  ۔ جن تنظیموں اوراداروں سےوابستہ تھے یا جن کی تربیت کی یا جن سے ملتے رہتے تھے، وہ بہت بڑی کمی محسوس کررہےہیں ۔مرحوم کی ایک بڑی خصوصیت یہ تھی کہ جو بھی ان سے ملتا، کسی موضوع پر تبادلہ خیال کرتا ،کچھ گھنٹوں کےلئے ان کےساتھ اٹھتابیٹھتایا کم از کم ان کےساتھ کھانا کھاتا ، ان کا گرویدہ ہوجاتا ۔ ان کےاخلاق اورباتوں سے کافی متاثر ہوتا۔مرکز جماعت اسلامی میں  25 برسوں تک اتنی بڑی ذمےداری نبھائی لیکن  کارکنوں کےساتھ اس طرح پیش آتے تھے کہ کہیں سے بھی ان کی کبریائی نہیں جھلکتی تھی ۔ سامنےوالےپر تاثرقائم ہوتاتھا کہ وہ بھی ان ہی کی طرح دفتر کا  کارکن ہے ۔ان کی عاجزی وانکساری ہرجگہ ظاہر ہوتی تھی ۔ کارکنوں کےساتھ نہایت شفقت سے پیش آتے تھے ۔ مرکز میں باہر سے جوبھی آتا ان کےمیزبان بن جاتے تھے ۔دسترخوان پر ساتھ کھانے والوں کے ساتھ  ان کابرتاؤ ایک میزبان کی طرح  ہوتا تھا۔

وہ جو بھی چیز دسترخوان پر لاتے خوشی خوشی سب کو پیش کرکےاعلی ظرفی کا ثبوت دیتے تھے جو سب نہیں کرپاتے  غرضیکہ دوسرے کو چھوٹے بڑے ہونےکا احساس نہیں ہونےدیتے  ۔للہیت اور اخلاص کاپیکر تھے ۔جن لوگوں نے ان کےساتھ کام کیا ، وہ کہتے ہیں کہ وہ اچھے رفیق ، تحریک کےمخلص کارکن ، نظم وضبط کےپابند اوردینی جذبے کےتحت کام کرنےوالے تھے ۔جب تک زندہ رہے ان کی سرگرمیوں کےدو مراکز رہے ۔ ایک مرکز جماعت اسلامی جہاں  بڑی ذمےداری نبھاتےرہے اس کےساتھ ساتھ ان کی سرگرمیوں کا دوسرا محور ومرکز اورنگ آباد ہوا کرتا تھاجہاں متعدد ادارے چلاتے تھے اورکئی تنظیموں اوراداروں سے وابستہ تھے ۔ ان کےانتقال سے دونوں مقامات پر خلا پیدا ہوگیا ۔ یہی وجہ ہےکہ جہاں مرکز جماعت اسلامی کےذمےداروں نے گہرے رنج وغم کا اظہارکیا وہیں جماعت کےحلقوں ،مقامی جماعتوں اوران تمام اداروں اورتنظیموں نے بھی تعزیت کا اظہا کیا جن سے وہ وابستہ رہے اورجن کےلئے کام کیا ۔ امیر حلقہ جماعت اسلامی مہاراشٹر انجینئر توفیق اسلم خان نے کہا ہےکہ ان کےانتقال سے ان کے خاندان کا ہی نہیں ملک وملت کا  نقصان ہوا ہے ۔ تحریک اسلامی کےلئے خاص طور سے بہت بڑا نقصان ہے ۔انور خان صدر آئیٹا اورعبدالباری مومن سابق صدر آئیٹانے کہا ہےکہ تعلیمی میدان میں ان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔وہ ہر ایک سے بہت محبت وشفقت سے ملتے تھے ۔جماعت کےباہر حلقوں میں بھی ان کی کمی شدت سے محسوس کی جارہی ہے ۔

68 سال کی عمر زیادہ نہیں ہوتی لیکن اتنی عمر میں انہوں نےمتعدد پلیٹ فارم سےاتنے کام کردیئے جو متعدد لوگ بھی مل کر نہیں کرسکتے ۔ وہ بیمار ضرور رہا کرتے تھے لیکن ان کی سرگرمیوں اور مصروفیات کو دیکھ کر کوئی بھی ان کی علالت کو نہیں سمجھ سکتا تھا ۔کسی کو اندازہ نہیں تھاکہ وہ اتنی جلدی داعی اجل کو لبیک کہہ دیں گے ۔بہرحال آج وہ بھلےہی ہمارے درمیان  نہیں رہے ، انا للہ واناالیہ راجعون ،لیکن ان کی خدمات ہمیشہ ہمارے سامنےرہیں گی اورمشعل راہ بنیں گی ۔   آسماں تیری لحد پرشبنم افشانی کرے

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *