پوروانچل کے اس گاؤں میں چلتا ہے یہ انوکھا بینک، بغیر سود اور ضمانت کے دیتا ہے قرض

نوین لال سوری کی رپورٹ

admin

ڈومریا گنج۔ یوپی کے ضلع سدھارتھ نگر کے بیارا گاؤں میں ایک انوکھا بینک ہے جو ضرورت مندوں کو شادی اور بیماری کے لئے بغیر سود اور ضمانت کے قرض دیتا ہے۔ جی ہاں، یہ 100 فیصدی سچ ہے۔ اس منفرد بینک میں قرض لینے کے لئے کسی طرح کے گارنٹر اور کاغذات کی کوئی ضرورت نہیں ہے، صرف آپ کی شناخت ہی کافی ہے۔ حیرت انگیز طور پر، اعتماد کی رسی ایسی مضبوط ہے کہ آج تک بینک کا کوئی بھی قرض ڈوبا نہیں ہے , نیوز 18 اردو پر شائع رپورٹ کے مطابق  یہ منفرد بینک 1980 سے ڈومریا گنج قصبہ کے بیارا گاوں میں ‘بیت المال سوسائٹی’ کے نام سے چل رہا ہے۔ اب تک یہ بینک 39 سالوں میں 3000 سے زائد افراد کی مدد کر چکا ہے اور بغیر سود اور ضمانت کے قرض لینے والے ضرورت مند قرض کی رقم اپنی سہولت کے حساب سے لوٹاتے ہیں۔ یہی نہیں، اگر کوئی بینک میں اپنا پیسہ رکھنا چاہتا ہے، تو اسے بھی محفوظ رکھا جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بینک اسے کوئی سود نہیں دیتا ہے۔

یوپی کے سدھارتھ نگر کے اس گاؤں میں چلتا ہے انوکھا بینک، بغیر سود اور ضمانت کے دیتا ہے قرض

بینک میں کام کرتے ملازمین کی تصویر

بینک 1978 میں قائم کیا گیا تھا

بیت المال سوسائٹی کے سیکرٹری عبدالباری نے نیوز 18 کو بتایا کہ سال 1978 میں ادارہ کے صدر قاضی فرید عباسی نے ‘بیت المال سوسائٹی’ کے نام پر اس انوکھے بینک کا رجسٹریشن کروایا تھا جس کا آغاز 1980 میں ہوا۔ باری بتاتے ہیں کہ ان کے بینک کا مقصد غریب اور محتاج لوگوں کی مدد کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب بینک کی شروعات کی تب بینک سے 12-13 افراد ہی جڑے تھے، لیکن آہستہ آہستہ بینک سے جڑنے والوں کی تعداد بڑھتی گئی اور آج بینک سے 1600 سے زائد ارکان وابستہ ہو چکے ہیں۔

بیت المال سوسائٹی کے نام سے چل رہے بینک کی تصویر بیت المال سوسائٹی کے نام سے چل رہے بینک کی تصویر

سودخوروں سے دلائی غریبوں کو نجات

عبدالباری کا کہنا ہے کہ پہلے لوگ قرض لینے کے لئے سودخوروں کے پاس جاتے تھے۔ وہ ان غریب لوگوں کا فائدہ اٹھا کر زیادہ سود لگا کر قرض دیتے تھے جس سے ان کی کئی نسلیں قرض میں ڈوبی رہتی تھیں۔ لیکن یہاں کے نظام سے لوگوں کو سود سے پاک قرض کے علاوہ ان کا پیسہ بھی محفوظ رہتا ہے۔ ساتھ ہی قرض کا بوجھ بھی ان پر نہیں رہتا ہے۔

بینک میں جمع ہیں ایک کروڑ روپے

بینک کے سیکرٹری عبدالباری دعوے کے ساتھ کہتے ہیں کہ آج بینک کے اکاؤنٹ ہولڈروں کی جانب سے جمع کی گئی چھوٹی۔ بڑی رقم سے بینک کے پاس ایک کروڑ روپے ہیں جو سوسائٹی کے نام سے پوروانچل بینک میں کھلے اکاؤنٹ میں جمع کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بینک سے رقم پر جو سود ملتا ہے اسے غریبوں میں خرچ کیا جاتا ہے۔

بینک کا پاس بک اور پیسہ نکالنے کے فارم کی فوٹو بینک کا پاس بک اور پیسہ نکالنے کے فارم کی فوٹو

ہندو۔ مسلمان سبھی ہیں رکن

بيارا گاؤں کے گرام پردھان صغیر احمد نے بتایا کہ بینک میں ہندو۔ مسلمان تمام مذاہب کے لوگوں کو بغیر سود کے قرض کی رقم دی جاتی ہے۔ صغیر بتاتے ہیں کہ جوہری کے پاس زیور گروی رکھنے پر جوہری ضرورت مندوں سے منمانی سود وصول کرتا ہے۔ لیکن اس بینک میں ایسا نہیں ہے۔ یہاں غریبوں کو زیور گروی رکھنے پر بغیر سود کے ضرورت کی رقم دی جاتی ہے۔

قرض دار اپنی سہولت کے حساب سے لوٹاتے ہیں رقم

گرام پردھان کی مانیں تو تو ضروت مند قرض کی رقم اپنی سہولت کے حساب سے لوٹاتے ہیں۔ بینک سے بیارا سمیت 25 گاؤں کے لوگ وابستہ ہیں۔ جن کا بینک میں کھاتہ ہے وہ ضرورت پڑنے پر بینک سے رقم لیتے ہیں اور پھر اپنی سہولت کے حساب سے واپس کر دیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *